نواز شریف ایک نظر یے کا نام ، ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ان کیخلاف سازشیں ناکام ہو ں گی : مریم اورنگزیب

نواز شریف ایک نظر یے کا نام ، ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ان کیخلاف سازشیں ...

اسلام آباد(این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرمملکت مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ شریف فیملی کے وکلاء جے آئی ٹی رپورٹ کاجواب سپریم کورٹ میں پیش کرینگے، نوازشریف ایک نظریے کانام ہے ان کیخلاف پہلے بھی تمام سازشیں ناکام ہوئیں اس مرتبہ بھی سازشی عناصرناکام ہونگے، مجھے یقین ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز ہمارے خدشات کی روشنی میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کردیں گے۔ پی آئی ڈی میڈیا سنٹرمیں گزشتہ روز رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعدمخالفین کی طرف سے وزیراعظم کے استعفے کاشورمچایاجارہاہے اورتاثریہ دیاجارہاہے کہ یہ عوام کی آواز ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کیلئے یہ سازش نئی نہیں اورنہ ہی آخری ہے اس سے پہلے بھی سازشیں ہوتی رہی ہیں سازشوں کے عنوان بدلتے رہے سازش کرنیوالے بدلتے رہے لیکن جس کیخلاف سازشیں ہوئیں وہ اللہ کے فضل وکرم اور عوام کی وجہ سے آج بھی قائم ودائم ہیں اور تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کو جلاوطن کیاگیا طیارہ سازش کیس میں پھنسایاگیا 2013ء میں دھرنا ون پھردھرناٹواوراب دھرناتھری کی تیاری ہے سازش تو یہ بھی ناکام ہوگی لیکن اس مرتبہ سازش کرنیوالے بے نقاب ہونگے۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ نوازشریف ایک نظرئیے کانام ہے جے آئی ٹی کی رپورٹ نے خود مہرلگادی ہے کہ نوازشریف پرکوئی کرپشن خوردبردیاکک بیک کا کوئی ثبوت نہیں ہے انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی کو تیرہ سوالات دیئے گئے تھے لیکن جے آئی ٹی نے جو رپورٹ پیش کی وہ شریف فیملی کے ذاتی بزنس کی رپورٹ ہے صفحہ نمبر51پر جے آئی ٹی خود لکھتی ہے کہ یہ ذاتی بزنس کی تفتیش ہے ہم سے جے آئی ٹی کے جھوٹ کے پلندے کوچیلنج کرنے کاحق کوئی نہیں چھین سکتا مجھے یقین ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز جب اس رپورٹ کو پڑھیں گے اوروہ خدشات بے نقاب ہونگے جو ہمارے تھے تو عدلیہ خود اس رپورٹ کو مسترد کردے گی ۔ انہوں نے کہاکہ جب پانچوں ججوں کافیصلہ آیا تو اس میں سے چن کرمواد پیش کیاگیا جو مسترد ہوا 254صفحات پرمشتمل رپورٹ سے اگرخدشہ ،امکان ،توقع اوراندیشہ جیسے الفاظ نکال دیئے جائیں تو یہ محض خیالات کامجموعہ ہے۔ مریم نوازشریف کے بارے میں جے آئی ٹی خود لکھتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ مریم نوازشریف بینفشری اونرہوں ،جے آئی ٹی کو کس نے کہاہے کہ کسی کو جھوٹا،مکار ، فریبی کہیں ،یہ اختیار انہیں کس نے دیاہے کوئی بھی قانون تعصب کی زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ ہمارے وکلاء یہ رپورٹ پڑھ رہے ہیں اور سپریم کورٹ میں اس کاجواب آئین اور قانون کے دائرے میں دیاجائے گا جس کی تیاری کی جارہی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ 254صفحے کی رپورٹ کس نے لکھی ہے ۔وزیراطلاعات نے کہا کہ اب پاکستان کے عوام کی تقدیر کسی بھی اندرونی یا بیرونی سازش کرنیوالوں کو نہ ٹھیکے پر دی جاسکتی ہے نہ دی جائے گی اورنہ اس کی اجازت ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ ابھی بھی جے آئی ٹی پرتحفظات اسی طرح موجود ہیں ہم جب جواب داخل کرینگے تو اعلیٰ عدلیہ اس رپورٹ کو مسترد کردیگی۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ2018ء میں عوام ایک مرتبہ پھر ووٹ کی طاقت سے محمدنوازشریف کو وزیراعظم بنائیں گے۔مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیزنے کہا ہے کہ غیر تصدیق شد ہ دستاویزات حاصل کرکے ان کو ثبوت قرار دیاجارہا ہے جبکہ جے آئی ٹی سے بہتر تفتیش تو ایک نیا بھرتی کیا گیا اے ایس آئی کر سکتاہے۔دانیال عزیز نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کھوکھلی ہے اگر خدشہ اوراندیشے کے الفاظ نکال دیئے جائیں تورپورٹ خیالات کامجموعہ ہے حالانکہ حکومت نے تمام راستے دیئے کہ جوملتاہے ڈھونڈلاؤ۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے 3صفحوں پر تاثر دیا گیاکہ رپورٹ بروقت مکمل ہے حالانکہ جے آئی ٹی خود کہہ رہی ہے رپورٹ نامکمل ہے،یہی نہیں جے آئی ٹی نے جلد 10 کو خفیہ رکھنے کا مطالبہ کیاہے، اگر والیم10خالی ہے تو یو اے ای کا خط میڈیا کو جاری کیو ں کیا گیا ؟۔جے آئی ٹی رپورٹ کے اہم حصے کا خانہ خالی ہے اور وہاں یہ لکھ دیاساجابھی ہوسکتاہے،ماجا بھی ہو سکتاہے،گاما بھی ہو سکتاہے،یہ تفتیش ہے وزیراعظم کی؟جبکہ جے آئی ٹی میں قطری بیان کو آن گوئنگ نہیں لکھااگر کسی اور کا مسئلہ ہو تو گھر جا کربیان لے لیاجاتاہے اوروڈیو لنک بھی ہوجاتاہے مگرجے آئی ٹی نے صاف صاف عمران خان کابیان رکھ دیا۔دانیال عزیز نے کہاکہ سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی غلط بیانی کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ نواز شریف کسی کمپنی کے مالک نہیں۔انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں احتساب کاپوراادارہ ہی بندہے جبکہ نون لیگ کے کسی لیڈر نے این آر او سے فائدہ نہیں اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ سیاست نہیں ریاست بچاؤ پر بارہ جماعتوں نے دستخط کئے تھے جو طاہرالقادری نے بنائی تھی اب جمائمہ اورکیری پیکر کے ریکارڈڈھونڈ رہے ہیں جو موجود ہی نہیں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مریم اورنگزیب نے کہاکہ نوازشریف منتخب وزیراعظم ہیں وہ پارلیمینٹ پرحملہ کرنیوالے یااس پرکپڑے لٹکانے والے نہیں ہیں وہ ہمیشہ پاکستان کے آئین اورقانون کااحترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ روایت ختم ہونی چاہیے کہ کوئی منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ مانگے کسی بھی میٹنگ میں کسی خدشے یا وزیراعظم کے استعفے کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی وزیراعظم پر سب کواعتمادحاصل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں دانیال عزیز نے کہاکہ دبئی کی دستاویزات سفارتخانے سے تصدیق شدہ نہیں اور جو دستاویزات تصدیق شدہ نہ ہوں وہ کسی جگہ بھی قابل قبول نہیں۔ برسات کاموسم آرہاہے چائے کیساتھ یہ رپورٹ پکوڑے رکھ کرکھانے کے کام آئے گی۔دانیال عزیز نے کہا کہ عمران خان یاد رکھیں کہ کسی سکرپٹ یافلم کے سہارے وہ اقتدار میں نہیں آسکتے صرف عوام کے ذریعے ہی اقتدار میں آسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مریم اورنگزیب نے کہاکہ حکومت کے پاس تصویرلیک کرنیوالے کاکیس آیاہے اس پر جوبھی کارروائی کی جائے گی وہ سامنے لائی جائے گی۔

مزید : صفحہ اول


loading...