تعلیمی بجٹ میں ریکارڈ 113فیصد اضافہ کر دیا ہے :محمد عاطف خان

تعلیمی بجٹ میں ریکارڈ 113فیصد اضافہ کر دیا ہے :محمد عاطف خان

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخو اکے وزیرِ تعلیم محمد عاطف خان نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت معیاری تعلیم کے فروغ میں انتہائی سنجیدہ ہے اور اس نے گزشتہ چار سالوں کے دوران تعلیمی بجٹ میں ریکارڈ113فیصد اضافہ کرکے اسے 61ارب روپے سے بڑھا کر 137ارب روپے کر دیا ہے جبکہ 95فیصد سے زیادہ سرکاری سکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی پراب تک 21ارب روپے خرچ کر چکے ہیں ۔ انہوں نے شعبہ تعلیم میں ڈی ایف آئی ڈی سمیت تمام ڈونرز کے تعاون کا خصوصی شکریہ ادا کر تے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔وہ بد ھ کے روز پشاور میں بیگم شہاب الدین گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول کے تعمیرِ نو کا سنگِ بنیا د رکھنے کی تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطا ب کر رہے تھے۔تقریب سے سیکرٹری ایجوکیشن ڈاکٹرشہزاد بنگش کے علاوہ مسٹر ہرمن ہینک برگسمہ، مسزجوریتھ ہربرٹسن اور مسٹر ڈیوڈ پرسٹن نے بھی خطا ب کیا اور فروغِ تعلیم کیلئے حکومتِ خیبر پختونخوا کی انتھک کوششوں کو سراہااور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔وزیرِ تعلیم نے کہا کہ ہم ڈونر ایجنسیز کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے پشاور کے قدیم اور تاریخی تعلیمی درسگاہ کی تعمیرنو میں اپنا بھر پور تعاون کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی ترجیح زنانہ ایجوکیشن پر مرکوز ہے اور ہم نے پہلی مرتبہ نئی تعلیمی پا لیسی میں سکولوں کی تعمیر میں 70فیصد حصہ زنانہ تعلیم کے لئے مختص کیا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی 52 فیصد آبادی کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مزید یہ کہ ایک بچی کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم کے مترادف ہے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ ماں کی گود میں پرورش پانے والے بچے میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔ میٹرک کے امتحان میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی کا ذکر کر تے ہوئے عاطف خان نے کہا کہ امتحانی نظام میں اصلاحات ، MCQsپیپرز کے پیٹرن اور امتحانی عملے کے ڈیوٹی کے طریقہ کار میں تبدیلی ، ویجیلنس سسٹم کی فعالیت ، OMRسسٹم کے اجراء، کھلے عام نقل کی حوصلہ شکنی اور رٹہ سسٹم کے خاتمے کیلئے Conceptualلرننگ کی وجہ سے میٹرک کا رزلٹ توقعات کے مطابق نہیں تاہم اس سے معیارِ تعلیم میں بہتری ضرورآئی ہے اور سرکاری سکولوں کے بچے بورڈزمیں ٹاپ پوزیشن پر آنے کے علاوہ اے گریڈرز طلبہ میں اضافہ جبکہ ای گریڈرز میں کمی واقع ہوئی ہے جو حوصلہ آفزا امر ہے ۔ تعلیمی ایمرجنسی کا ذکر کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ تعلیمی ایمر جنسی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کی کئی عشروں پر محیط ہزاروں سکولوں کے مسائل راتوں رات حل کئے جائیں تاہم ہم بہتر کی جانب ضرور گامزن ہیں اور زیادہ تر مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ڈی ایف آئی دی کے تعاون سے 400سٹینڈرڈائزڈ سیکنڈری سکولز قائم کئے جارہے ہیں جن میں سے کئی مکمل جبکہ باقی رواں سال کے اختتام پر مکمل کر دیئے جائینگے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...