جامعہ زکریا سکرونٹی کمیٹی کے اجلاس میں آئی ایم ایس کے نعمان عباسی کے کیس پر بحث کے دوران رجسٹرار اور ڈائریکٹر کے درمیان تلخ کلامی

جامعہ زکریا سکرونٹی کمیٹی کے اجلاس میں آئی ایم ایس کے نعمان عباسی کے کیس پر ...

  

ملتان(سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کی اسامیوں پر بھرتی کیلئے سکروٹنی کے سلسلے میں گزشتہ روز کامرس ، بزنس ایڈمنسٹریشن انسٹی ٹیوٹ آف(بقیہ نمبر59صفحہ12پر )

بینکنگ اینڈ فنانس کے اسامیوں کے امیدواروں کی درخواستوں کاجائزہ لیا گیا ۔اجلاس کے دوران رجسٹرار ڈاکٹر مطاہر اقبال اور ڈاکٹر شوکت ملک کے درمیان اس وقت تلخ کلامی ہوگئی جب آئی ایم ایس کے نعمان عباسی کا کیس زیر بحث آیا ۔ڈاکٹر شوکت کا کہنا تھا کہ ان کی پی ایچ ڈی 2015کی ہے جس کے بعد وہ اسسٹنٹ پروفیسر بنے ۔2016میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بنے اور اب 2017میں ان کو پروفیسر بنایا جارہا ہے۔ یہ قوانین کے خلاف ہے۔اس پر رجسٹرار کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں کی جانچ ڈائریکٹر کوالٹی انہاسمنٹ نے کی ۔اس لئے چیلنج نہیں کیا جاسکتا جس پر وہ اپنا اختلافی نوٹ لکھو ا کراجلاس کا بائیکاٹ کرگئے۔ ڈاکٹر شوکت ملک نے بتایا کہ اجلاس میں قوانین کے خلاف امیدواروں کو اہل قرار دیا جارہا تھا جس کا حصہ بننا ممکن نہیں تھا، پہلے اشتہارات ایچ ای سی کے ہدایت کے برخلاف دیا گیا ۔اب امیدواروں کی سکرونٹی اپنی مرضی سے کی جارہی ہے ۔شعبوں کی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھا جارہا ہے ۔ مستقبل میں نیب یا انٹی کرپشن کے سامنے پیش ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس لئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا،دریں اثنا اطلاع کے مطابق سکروٹنی کمیٹی نے ڈاکٹر امتیاز وڑائچ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے میاں یاسین کا کیس منظورکرلیا ۔ڈاکٹر امتیاز کا کہنا تھا کہ پروفیسر میاں یاسین کی ڈگری اور ان کی رجسٹریشن ایگری کلچر کی ہے ۔تاہم اجلاس میں ان کے اعتراضات مسترد کردئیے گئے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -