جمہوریت کی دعویدار پارٹیوں کے آمرانہ فیصلے‘ پی ٹی آئی کی مقبولیت

جمہوریت کی دعویدار پارٹیوں کے آمرانہ فیصلے‘ پی ٹی آئی کی مقبولیت

  

رحیم یار خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر)مخادیم نے سیاسی مستقبل کیلئے حکمت عملی مرتب کر لی۔ جمہوریت کی دعویدار سیاسی پارٹیوں کے آمرانہ فیصلوں کی وجہ سے

(بقیہ نمبر56صفحہ12پر )

پارٹیاں انتشار کا شکار ہیں تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ پاناما کیس کی ابتدائی رپورٹ سے حکومتی اور پیپلز پارٹی کی کئی اہم وکٹیں گرنے والی ہیں جے آئی ٹی کی رپورٹ آتے ہی ملک بھر کی طرح سرائیکی بیلٹ جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں نے تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر با اعتماد ساتھیوں سے مشاورت تیز کر دی۔ ضلع بھر میں کئی اہم سیاستدانوں کا زیادہ رخ پاکستان تحریک انصاف کی طرف ہے ۔ ذرائع کے مطابق میانوالی قریشیاں سے تعلق رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی اہم شخصیت سابق ایم این اے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت مکمل کر لی اور جلد اپنی سیاسی وابستگی کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم اعلان کرنے والے ہیں۔ ان کا یہ عمل پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود کے آمرانہ سیاسی فیصلے ہیں جنہوں نے بلدیاتی انتخابات اور متوقع جنرل الیکشن 2018 ء کے حوالے سے من پسند فیصلوں نے پیپلز پارٹی کے دیرینہ اور اہم رہنماؤں کو سیاسی حوالے سے اہم اعلانات کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی مخدوم خسرو بختیار جنہوں نے جنرل الیکشن 2013 میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا 3 رکن پنجاب اسمبلی اور 1 رکن قومی اسمبلی کامیاب ہوئے جنہیں وفاقی و صوبائی وزارتوں کے قلمدان سونپے جانے کے وعدے پر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی مگر تخت لاہور نے انہیں مایوس کیا ذرائع کے مطابق لیگی ایم این اے مخدوم خسرو بختیار اپنے منتخب اراکین اسمبلی کے ہمراہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے جا رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ میانوالی قریشیاں کے یہ سیاسی گھرانے کب اعلان کرتے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -