یوم آبادی کی اہمیت کو سمجھنے اور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے،نسیم حیات

یوم آبادی کی اہمیت کو سمجھنے اور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے،نسیم حیات

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )رکن صوبائی اسمبلی و چےئر پرسن سٹینڈنگ کمیٹی برائے بہبود آبادی نسیم حیات نے 11 جولائی عالمی یوم آبادی کو منانے کی اہمیت کو اقوام عالم اور خاص طور پر پاکستان میں اجا گر کرنے اور لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماں اور بچے کی صحت کی بہتر نشوونما کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ہو کیونکہ اس میں ماں اور بچے کا تحفظ اور حقوق پوشیدہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ بہبود آبادی کے زیر اہتمام منصوبہ بندی، عوام کو با اختیار بنانے اور قوم کی ترقی سے متعلق عالمی یوم آبادی کے حوالے سے پشاور میں منعقدہ پریس بریفنگ میں کیا۔ تقریب سے ڈائریکٹر جنرل نور افضل خان، پراونشل کو آرڈینیٹر لبنا تاجک، ڈائریکٹر ٹیکنیکل پراجیکٹ ، ڈائریکٹر نجمہ سلطانہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور بہبود آبادی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صوبے میں بہبود آبادی کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور اپنی کارکردگی اور اہداف کے حصول سے متعلق تفصیل بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے لئے نہایت ضروری ہے کہ عوامی سطح پر ماں اور بچے کے حوالے سے عوام میں شعور پیدا کیا جائے تا کہ شوہر اور بیوی کی باہمی رضامندی سے چھوٹا کنبہ تشکیل کے ساتھ آبادی کے حجم میں توازن پیدا کیا جا سکے اور بچوں کو مفید شہری بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ملک کے معاشی وسائل کم ہیں اور بچوں کی بہتر پرورش کے لئے ضروری ہے کہ انہیں ا چھی تعلیم اور خوراک مہیا ہو سکے۔ نسیم حیات نے آبادی کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں قومی فریضے کے طور پر ذمہ داریاں نبھائی جائیں اور قومی وسائل کو صحیح استعمال میں لایا جائے جس سے عوام الناس کو فائدہ مل سکے۔ انہوں نے بہبود آبادی اور منصوبہ بندی سے متعلق مزید سیمینار اور ورکشاپ کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ میڈیا کے ذریعے مناسب تشہیر کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2017 کے لئے بہبود آبادی کو ٹاسک کے طور پر جواہداف ملے ہیں انہیں با آسانی حاصل کیا جائیگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -