شہداء کی قربانیوں کی اجاگر کرنا اور پیشہ وارانہ ذمہ داریہ ے :اشرف نور

شہداء کی قربانیوں کی اجاگر کرنا اور پیشہ وارانہ ذمہ داریہ ے :اشرف نور

پشاور ( کرائمز رپورٹر)یوم شہداء پولیس کو شایان شان طریقے سے منانے کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بیوروچیفس ، کالم نگاروں اور پولیس شہداء کمیٹی کے اعلیٰ پولیس حکام کا ایک اجلاس آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت فوکل پرسن برائے شہداء کمیٹی ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈ کوارٹرز اشرف نور نے کی ۔ ایڈیشنل آئی جی پی نے صحافیوں اور کالم نگاروں کو معاشرہ کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے تجزئیے اور تحریریں پوری قوم سمیت پولیس فورس کے لیے مشعل را ہ کاکام سرانجام دیتی ہیں اوران کے آراء، مشوروں اور راہنمائی سے یوم شہداء پولیس کو شایان شان طریقے سے منائے جانے کے لیے اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں خیبر پختونخوا پولیس نے دی ہیں جو اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ دہشت گردی کا جنون پولیس کی پیشہ ورانہ جنون اور دلیری کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یوم شہدا پولیس کو بہتر انداز میں منانے کے لیے پولیس کو میڈیا کی رہنمائی اور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ اور میڈیا سے وابستہ افراد کی رہنمائی سے پولیس کے لیے روشن راہیں متعین کی جاسکتی ہیں۔ اس موقع پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں اور کالم نگاروں نے خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ آج وہ جس آزاد فضاء میں سانس لے رہے ہیں وہ خیبر پختونخوا پولیس کی لازوال قربانیوں کی مرہون منت ہے۔ جنہوں نے اپنا آج ہماری کل پر قربان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2009 میں پریس کلب پر خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اسوقت پریس کلب کے اندر 100 سے زائد صحافی ایک تقریب میں موجود تھے۔ تاہم پولیس ہیڈ کانسٹیبل ریاض الدین خودکش حملہ آور کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور اپنی قیمتی جان قربان کرکے صحافیوں کو بچالیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء صرف پولیس فورس کے نہیں بلکہ پوری قوم کے شہدا ء ہیں اور ہمیں ان کی قربانیوں پر فخر حاصل ہے۔ میڈیا کے نمائندوں نے پولیس شہداء کی قربانیوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے اور تمام قربانیوں کو کتاب کی شکل میں محفوظ رکھنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو اُجاگر کرنا اُن کا اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے اور اپنی اس ذمہ داری کو بطریق احسن نمٹنے کے لیے کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ انہوں نے یوم شہداء پولیس کو شایان شان طریقے سے منانے کے لیے اپنی بھر پور تعاون کا یقین دلایا اورایونٹ کو مزید بہتر انداز میں منانے کے لیے قیمتی آراء اور تجاویز بھی پیش کیں۔ تمام ارکان نے پولیس اور پریس کا آپس میں مل بیٹھنے کو دونوں کے لیے لازمی اور معاشرے کے وسیع تر مفاد میں بہترقرار دیا۔ ایڈیشنل آئی جی پی نے میڈیا کے تمام اراء اور تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان پر فوری عمل درآمد کرانے کا یقین دلایا۔ الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں میں صفی اللہ گل (دنیا نیوز)، علی اکبر (ڈان)، عبدالحکیم مہمند ( کیپٹل)، ضیا الحق (اے آر وائی) ، محمود جان بابر ( جیو)، کاشف الدین سید (مشرق) اور فرزانہ علی (آج نیوز) جبکہ کالم نگاروں میں سعداللہ جان برق ، حسام خُر،ناصر علی سید، مشتاق شباب، امجد علی خادم، پروفیسر سہیل ملک، آصف نثار غیاثی،ایم ریاض (بیوو چیف نوائے وقت) اور قیصر خان (جنگ)شامل تھے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...