ججز،جرنیلوں ،سیاستدانوں سمیت کوئی صادق و امین نہیں ،نواز شریف جمہوریت کیلئے استعفیٰ دیں ،جاوید ہاشمی

ججز،جرنیلوں ،سیاستدانوں سمیت کوئی صادق و امین نہیں ،نواز شریف جمہوریت ...

  

ملتان(نیوز رپورٹر)سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ججز،جرنیلوں اور سیاستدانوں سمیت کوئی ایک بھی صادق و امین نہیں ہے جرنیلوں نے چار بار ملک کا آئین توڑا ججز نے سسیلین مافیا اور گاڈ فادر تک کہہ کر فیصلہ سنادیا تو باقی کیا بچا پانامہ لیکس میں ایک جج کا نام بھی شامل ہے۔جرنیلوں کی بھی بیرون ملک جائیدادیں ہیں جنرل مشرف بطور لیفٹیننٹ بھی بھگوڑا تھا اور آج بھی بھگوڑا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی صادق اور امین نہیں ہے صادق اور امین صرف اللہ کے رسول ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ آج تک جرنیلوں اور ججز سے نہیں پوچھا گیا ہمیشہ سیاستدانوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے کیا جودیشل کونسل نے آج تک کسی جج کے خلاف فیصلہ دیا ہے سسیلین اور گارڈ فادر کہنے پر سپریم کورٹ توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کرتی سپریم کورٹ نے ماضی میں جو فیصلے کئے ان سے ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں ان اداروں کو کہتا ہوں کہ اپنی سوچ تبدیل کریں یہ ملک ان کی میراث نہیں بلکہ 20کروڑ عوام اس کے حقیقی وارث ہیں مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ جرنیل دس سال پس پردہ بیٹھ کی پلاٹ اور مربع لیتے رہتے ہیں اور دس سال براہ راست اقتدار میں آجاتے ہیں سیاستدانوں پر الزامات لگائے جاتے ہیں ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ قومی ادارے اپنا وقار بحال کریں ملک میں جو جمہوریت ہمارے سامنے ہے یہ حقیقی جمہوریت تو نہیں ہے لیکن یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اس لنگڑی لولی جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دی جائے اگر احتساب ہی کرنا ہے تو پھر صرف نواز شریف کا نہیں سب کا ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ پہلے جے آئی ٹی بنائی گئی پھر ضلعی القاب دے کر انہیں گائیڈ لائن دی جارہی ہے کہ سسیلین مافیا ہیں یہ گاڈ فادر ہیں فیصلہ تو آپ نے پہلے ہی سنادیا یہ نہ کریں سیاستدانوں سے غلطیاں ضرور ہوتی ہیں لیکن جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی بجائے جمہوری سفر کو آگے بڑھنے دیں نواز شریف سے کہا تھا کہ اگر سیاست کرنی ہے تو پھر کاروبار سے علیحدگی اختیار کرلیں لیکن انہیں میری یہ تجویز ایک آنکھ نہ بھائی اسی طرح جب کارکنان نعرہ لگاتے تھے کہ ایک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمیتو یہ بھی انہیں پسند نہیں تھا اور کہتے تھے کہ ملک میں بس ایک ہی بہادر آدمی ہے نوازشریف کو اب انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے مستعفیٰ ہوجانا چاہیے ان کے پیچھے مسلم لیگ کی پوری جماعت کھڑی ہے خواجہ آصف ہیں رانا تنویر ہیں خود کو اقتدار سے الگ کرکے مقدمات کا سامنا کریں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بچوں کا جے آئی ٹی میں پیش ہونے پر لیگی وزراء کا واویلا بلا جواز ہے انہیں انصاف کے کٹہرے میں ضرور پیش ہونا چاہیے نواز شریف کو جمہوریت کی بقاء کیلئے قربانی دینی چاہیے اور مستعفی ہوجائیں تمام پارٹی کے ارکان ان کی تابعداری کریں گے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کا تماشہ بند کرے جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو جانتا ہوں اور بھگت بھی چکا ہوں افتخار چوہدری کی وجہ سے6سال تک جیل میں بند رہا ہوں وہ بتائیں کہ چھ سال تک ان کی بیل کی درخواست کیوں نہیں سنی چار سال تک جے آئی ٹی میں دھکے کھاتا رہا ہوں اور چار سال بعد مجھے مسٹر کلین کی چٹ دے دی گئی انہوں نے کہا کہ وہ فوج کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کو رولز نہیں مانتا وہ ظاہری ہو یا پس پردہ کسی صورت قبول نہیں جس قوم نے انہیں گیارہ بار ایم این اے منتخب کیا ہے ان کے اس اعتماد کا تقاضہ ہے کہ جمہوریت کے تسلسل و بقاء کیلئے جدوجہد جاری رکھوں جبکہ ملک میں جمہوریت کی حالت یہ ہے کہ کسی بھی جمہوری حکومت کو ایک دن بھی آرام سے بیٹھنے نہیں دیا گیا آج جنرل راحیل شریف،جنرل کرامت اور جنرل مشرف کہاں ہیں کوئی نہیں پوچھنے والا جوابدہی کیلئے صرف سیاستدان کو کٹہرے میں لایا جاتا ہے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ17سال پہلے کہا تھا کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبے سے روس،چائنا پاکستان ایک پلیٹ فارم پر نظر آئیں گے اور وقت آنے پر بھارت بھی اس میں شامل ہوگا آج خطے کی ترقی کا آغاز ہونے کو ہے تو قومی ادارے بھی اپنی سوچوں میں تبدیلی لائیں مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ مجھے بھی انصاف کے کٹہرے میں بلاؤ بھلے مہران بینک کا الزام لگاکر ہی بلالو مجھے جیل میں ڈال دو میں اپنے ساتھ عمران خان کو بھی برابر کھڑا کروں گا کہ دھرنا کے دوران وہ کیا کہا کرتے تھے اور کن کو مخاطب کیا کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اس ملک پر بہت ظلم ہوچکے ہیں اور آج بھی سازشیں عروج پر ہیں ایک محب وطن ہونے کے ناطے ہوشیار کرنا چاہ رہا ہوں ملک کے تمام مقتدار اداروں کو کہ ہوش کے ناخن لیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -