امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 3

13 جولائی 2017 (12:09)

سید بدر سعید

افغان صدر حامد کرزئی کے محل سے واپس امریکی سفارت خانے جاتے وقت میں نے دیکھا کہ ایک کار ہائی وے کے انتہائی بائیں سمت سے ہماری جانب آ رہی ہے ۔ میں نے فوری طور پر اپنے اسلحہ بردار ساتھی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قافلہ کی دوسری گاڑیوں کو وائرلیس پر اطلاع کرے کہ وہ انتہائی دائیں جانب ہو جائیں ۔ یہ ہدایت دیتے ہی میں خود فوری طور پر سامنے سے آنے والی آنے والی گاڑی کے راستے میں حائل ہو گیا ۔ میری ڈیوٹی تھی کہ میں اپنے پیچھے آنے والے نائب صدر کی گاڑی کو ہر قیمت پر اس سے بچاؤں اور اگر تیزی سے ہماری جانب بڑھنے والی اس اجنبی کار میں بارودی مواد بھرا ہوا تھا تو میں اسے اس قافلہ سے جتنا بھی دور رکھ سکتا ہوں اتنا دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کروں ۔ اس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ میں اس ساری کارروائی کے دوران زخمی بھی ہو سکتا تھا اور ممکن ہے مارا بھی جا تا لیکن اپنا فرض نبھانے کے لئے مجھے یہ سب کرنا ہی تھا ۔ میں نے اس کار سے ٹکرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا لیکن آخری لمحہ میں اس کار نے راستہ بدل لیا ۔میرے خیال میں اس روز میری قسمت میرا ساتھ دے رہی تھی۔

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 2  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
ہمیں علم ہے کہ ہماری ڈیوٹی کا سب سے خطرناک مرحلہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے ۔کبھی آپ رات کو اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے بیئر پی رہے ہوتے ہیں تو کبھی آپ کی لاش آپ کے گھر بھجوائی جا رہی ہوتی ہے ۔ ایک سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر میں نے متعدد سفارت کاروں کے ہمراہ افغانستان اور پاکستان میں فرائض سر انجام دیئے ہیں ۔ میں نے جنگی علاقوں اور پُر امن دفاتر دونوں میں کام کیا ۔ ان حالات میں کام کرنے والے کنٹریکٹر کے پاس دو اضافی صلاحیتیں ہوتی ہیں جن کے بل پر وہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ ایک اس کے کام کی مہارت اور دوسرا اس کی قسمت ۔ اسے کسی بھی وقت خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ممکن ہے کسی بھی وقت آپ کی مہارت اور قابلیت ناکام ہو جائے لیکن آپ کی قسمت حاوی ہو کر آپ کی جان بچانے کا باعث بن جائے ۔
ابتدا میں آپ کے پاس تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی صلاحیتیں کم ہوتی ہیں لیکن جیسے جیسے آپ کسی ایک کام میں ماہر ہوتے جائیں آپ کی مہارت اور قابلیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔متعدد جنگی ماہرین اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد لمبے عرصہ تک سکیورٹی کنٹریکٹر کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دیتے رہتے ہیں ۔ طویل تجربہ انہیں بروقت فیصلہ سازی میں ماہر بنا دیتا ہے جس کی بدولت وہ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ اس سارے عمل میں قسمت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جس دن قسمت ان سے روٹھ جائے اس روز ان کا تمام تر تجربہ اور مہارت دھری کی دھری رہ جاتی ہے اوروہ مارے جاتے ہیں ۔ یہ بات طے ہے کہ ہمیں بالکل علم نہیں ہوتا کہ قسمت ہمیں کتنے مواقع فراہم کرے گی اور کب ہم سے روٹھ جائے گی ۔ اس لئے اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان واقعات کی وجہ سے مستقل پریشان رہیں یا پھر اسے ڈیوٹی کا حصہ سمجھ کر معمول کی کارروائی سمجھیں ۔
بہرحال اب میں دوبارہ وہیں آتا ہوں جہاں سے یہ ساری داستان شروع ہوئی تھی ۔ اس روز میں سفید سیڈان کار میں لاہور کے سکاچ کارنر (اپر مال ) میں اس احاطے سے باہر آیا جہاں میری ٹیم ٹھہری ہوئی تھی ۔ اس وقت میں صرف اپنے مشن کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ میں چاہتا تھا کہ اس روٹ کا جائزہ لے لوں جہاں تین دن بعد میں نے کسی کو لے کر جانا تھا ۔ میرا مقصد اس راستے میں آنے والے ممکنہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ عین وقت پر کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو ۔ یاد رہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں شدت پسندوں کی نرسریاں قائم ہیں۔ آپ کو یہاں ہر لمحہ چوکس رہنا پڑتا ہے ۔ جب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی ہے یہاں متعدد امریکی مشن اور تاجروں پر حملے ہو چکے ہیں ۔اسی طرح 2010 میں دہشت گردوں کے حملوں میں سیکڑوں پاکستانی شہری بھی مارے جا چکے ہیں جبکہ اسی سال افغانستان میں مارے جانے والے شہریوں کی تعداد اس سے کم ہے حالانکہ افغانستان تو دہشت گردی کی اس جنگ کا حصہ تھا لیکن پاکستان کو سرکاری سطح پر اس جنگ کا حصہ قرار نہیں دیا گیا تھا ۔
لاہور بہت بڑا شہر ہے لیکن اس کے باوجود یہاں اس طرح کا خطرہ کبھی محسوس نہیں کیا گیا جس طرح کا خطرہ کراچی میں محسوس کیا جاتا ہے جہاں دہشت گردی کے حملے معمول کی بات تھی ۔لاہور بغداد نہیں تھا لیکن سچ یہ ہے کہ یہ کنساس بھی نہ تھا ۔ میں اونچی دیواروں اور اس گھر کے اندر بھی بہت محتاط رہتا تھا جہاں ہم لوگ ٹھہرے ہوئے تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حس مزاح سے بھی عاری ہو جاتا ۔ اس روز صبح بھی میں حسب معمول کار چلاتے ہوئے ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔میں ایک گانے کو گنگنا تے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ مجھے اس دوران ایک لڑکی بھی یاد آئی ۔ لیکن یہ یاد بہت مختصر ثابت ہوئی۔
میں مال روڈ سے ایک ذیلی سڑک پر آ گیا ۔دراصل یہ ایک کھلی گلی تھی جس میں ابھی تک اس دور کی عمارتیں موجود تھیں جب پاکستان انڈیا کا حصہ تھا اور انڈیا بھی اس وقت برطانیہ کا حصہ تھا۔ میں گاڑی چلاتے وقت محتاط نگاہوں سے ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا ۔ یہاں کئی قسم کے خطرات ہو سکتے تھے ۔مثال کے طور پر کسی سمت سے آتے ہوئے ایک عام سے نوجوان کی کمر کے پاس ابھار کا مطلب تھا کہ وہ مسلح ہے ۔ایک زیادہ وزنی گاڑی بھی دھماکہ خیز مواد سے بھری ہو سکتی ہے ۔ اس گرم موسم میں ڈھیلے اور مکمل لباس میں ملبوس کوئی خاتون خودکش بمبار بھی ہو سکتی تھی ۔ یہ سب خطرات اپنی جگہ موجود تھے اور میں گزشتہ پانچ روز سے ایسے ہی خطرات کا جائزہ لے رہا تھا ۔ میرے یہ پانچ دن ایسے ہی گزرے تھے ۔ شہر کے راستوں کا سمجھتے ہوئے ، ارد گرد کے ماحول کی گرما گرمی کو محسوس کرتے ہوئے ہر لمحہ یہ ذہن میں رہتا تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔

(جاری ہے )امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں