فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 148

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 148
فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 148

  

نوبجے ہم نے اپنے اسسٹنٹ کو مناسب ہدایات دیں اور روزینہ کے سیٹ پر پہنچ گئے۔ روزینہ نے یوں ظاہر کیا جیسے وہ کسی الجھن میں ہیں۔

ہم نے کہا ’’بھئی تمہارا کھانے کا وقفہ کب ہوگا۔ ڈنر کیلئے دیر ہو رہی ہے؟‘‘

یہ سن کر ان کے فلم ساز اور ہدایت کار دونوں کے کان کھڑے ہوئے۔

روزینہ نے کہا’’یہ تو آپ ان ہی سے پوچھئے جن کا سیٹ ہے۔ میں تو مزدوری کر رہی ہوں۔‘‘

ہم نے فلم ساز سے کہا ’’آپ کب ڈنر کا وقفہ کریں گے؟‘‘

وہ بولے ’’کیوں، کیا ہمیں ڈنر کھلانے کا ارادہ ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’جی نہیں۔ اپنی ہیروئن کو ڈنر پر لے جانا ہے۔‘‘

کہنے لگے ’’آفاقی صاحب۔ ہم بھی آپ کے دوست ہیں۔ ہمیں بھی لے چلئے۔‘‘

ہم نے کہا ’’ہیروئن کا حق پہلے ہوتا ہے۔ آپ کو پھر کسی دن لے جائیں گے۔‘‘

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 147 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کھانے کا وقفہ چند منٹ بعد ہوگیا۔ ہم نے روزینہ سے اصرار کیا تو انہوں نے بڑی معصومیت سے اپنے فلم ساز اور ہدایت کار کی طرف دیکھا۔

انہوں نے کہا ’’مگر جاؤ گی کہاں؟‘‘

ہم نے کہا ’’انٹرکانٹی نینٹل۔‘‘

’’اوہو۔ بھئی اس طرح تو بہت دیر ہو جائے گی۔‘‘

ہم نے کہا ’’فکر نہ کیجئے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں آپ کی ہیروئن کو سیٹ پر پہنچا دیں گے۔‘‘

انہوں نے مجبوراً اجازت دے دی۔ روزینہ نے فوراً اپنا اوور کوٹ پہنا اور ہمارے ساتھ چل پڑیں۔

سیٹ سے پاہر نکلے تو ہمیں جاوید فاضل نظر آگئے۔ وہ اس زمانے میں ایس سلیمان کے اسسٹنٹ تھے۔ ہمارے ساتھ ان کے تعلقات کافی دوستانہ تھے، انہوں نے حفظِ مراتب کو کبھی فراموش نہیں کیا۔

ہم نے روزینہ سے کہا ’’جاوید کو بھی ساتھ لے لیں ذرا گپ شپ رہے گی؟‘‘

’’ہاں ہاں، کیوں نہیں؟‘‘

اس طرح جاوید فاضل بھی ہمارے ساتھ ہولئے۔ اس زمانے میں رات کے نو سوا نو بجے لاہور کی سڑکیں بالکل ویران ہو جاتی تھیں۔ پھر یہ تو سردی کا موسم تھا۔ علامہ اقبال ٹاؤن کا ابھی وجود بھی نہیں تھا اس لئے ہم لوگ ملتان روڈ سے ہو کر وحدت روڈ کے راستے مال روڈ پر جایا کرتے تھے۔ یہ راستہ کھلا ہوا تھا۔ ٹریفک بھی کم ہوتا تھا اس لئے یہاں اسّی نوّے میل کی رفتار سے کار چلانا معمول کی بات تھی۔

راستے میں روزینہ نے مختلف فلم سازوں اور ہدایت کاروں کے لطیفے سنائے اور یہ بھی بتایا کہ مختلف اوقات میں انہوں نے اپنے دلی جذبات کا اظہار کس انداز سے اور کس پیرائے میں کیا۔ انہوں نے ایسی نقالی کی کہ ہم سب کا ہنستے ہنستے برا حال ہوگیا۔

انٹرکان میں کھانا کھایا۔ کافی پی، گپ شپ لگائی۔ کافی دیر ہوگئی تھی اور ہم بار بار روزینہ سے کہہ رہے تھے کہ بھئی اب چلو، تمہارے فلم ساز ناراض ہوں گے مگر وہ جان بوجھ کر دیر لگانا چاہتی تھیں۔

انہوں نے کہا ’’آپ پروڈیوسر کی فکر نہ کریں۔ وہ مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ البتہ آپ کے ساتھ آنے پر ضرور روٹھ جائیں گے۔‘‘

واپسی پر روزینہ نے فرمائش کردی کہ بندو کا پان بھی کھائیں گی۔ پان کی دکان ریگل سینما کے نزدیک تھی اور اس کے پان سارے پاکستان میں مشہور تھے۔ ان دنوں جب لاہوررات کو سات آٹھ بجے ہی سو جاتاتھا، رات گئے تک اس پان فروش کی دکان کے آگے کاروں کی قطاریں لگی رہتی تھیں۔ ہم نے گھڑی دیکھی۔ ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ مزید تاخیر کے بغیر اسٹوڈیو واپس پہنچ جائیں مگر روزینہ کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ ریگل چوک پہنچ کر پان خریدے گئے اور پھر وحدت روڈ کے راستے واپسی ہوئی۔

ہمارے اور پان کے باہمی تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔ کبھی کبھار ہم پان کھا لیا کرتے تھے۔ مگر بعض اوقات ایسا پھندا لگتا تھا کہ سانس ہی رک جاتی تھی۔ اس بنا پر ہم پان کھانے سے پرہیز کرنے لگے تھے۔ مگر اس روز میٹھا پان کھانا پڑا۔ واپسی میں ایک بار پر لطیفہ بازی شروع ہوگئی۔

اچانک ہم بہت زور سے ہنسے تو پھندا لگ گیا اور سانس رکنے لگی۔ ہم نے گھبرا کاخلق صاف کرنے کی کوشش کی۔ روزینہ اگلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ یہ سمجھیں کہ شاید ہم ہنس رہے ہیں اس لئے انہوں نے بیان جاری رکھا۔ مگر جاوید فاضل ہماری اس پرابلم سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ اس وقت پانی کے دو تین گلاس پیئے بغیر یہ مسئلہ حل نہ ہوگا۔ جب سانس زیادہ ہی رکنے لگا تو ہم نے ایک دم کار کو سڑک سے موڑ کر وحدت کالونی کے کوارٹرز کی جانب موڑ دیا۔ رات کے گیارہ بارہ بجے کا وقت ہوگا۔ ہر طرف خاموشی، اندھیرا اورسناٹا۔ ان کوارٹرز کے سوا آس پاس دوردور تک کوئی مکان، کوٹھی یا آبادی نہیں تھی۔ ہم جانتے تھے کہ ان گھروں سے ہی ہمیں پانی مل سکتا ہے اور اگر کچھ دیر یہی حالت رہی تو شاید ہمارا سانس ہمیشہ کیلئے رک جائے گا۔

ایک کوارٹر کے سامنے ہم نے تیزی سے لے جا کر کار روک دی اور کار سے اتر کر باہر نکلے تو پہلی مرتبہ روزینہ کو احساس ہوا کہ معاملہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ وہ بھی گھبراگئیں۔ ہر طرف تنہائی، سناٹا اور تاریکی تھی۔ ہم نے پہلے تو ہارن بجانے شروع کئے۔ رات کے سناٹے میں ہارن کی آواز دور تک گونج رہی تھی۔ گھروں میں لوگ گھبرا کر بیدار ہوگئے اور کھڑکیوں میں سے باہر جھانکنے لگے۔ اس زمانے میں چوریاں اور ڈاکے عام نہیں تھے پھر بھی اتنی رات گئے اس طرح کوئی کسی کے گھر نہیں جاتا تھا۔ گھر والوں نے بھی اندر سے دیکھا ہوگا کہ ایک کار کھڑی ہے جس کے باہر دو آدمی کھڑے ہیں۔ کار کے اندر بیٹھی ہوئی روزینہ بھی اندھیرے کے باعث انہیں مرد ہی نظر آئی ہوں گی۔ کسی نے دروازہ نہ کھولا۔ ادھر ہماری حالت غیر ہو رہی تھی۔ روزینہ پریشانی کے عالم میں اونچی آواز میں دریافت کر رہی تھیں کہ کیا ہوگیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں؟ ہم کیا بولتے۔ ہماری تو سانس ہی اٹکی ہوئی تھی۔

جاوید فاضل پریشانی میں سامنے والے کوارٹر کے برآمدے میں پہنچ گئے اور دروازہ دھڑ دھڑانا شروع کردیا۔

آخر اندر سے کسی نے جھانکا اور سہی ہوئی آواز میں پوچھا ’’کون ہے، کیا بات ہے؟‘‘

جاوید نے انہیں مختصراً بتایا کہ فوری طور پر پانی کی ضرورت ہے ایک شخص کی زندگی خطرے میں ہے۔

اندر والوں کو خداجانے یقین آیا کہ نہیں البتہ انہوں نے اندر سے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کی سلاخوں میں سے پانی کا ایک گلاس جاوید کو پکڑا دیا۔ وہ دوڑے دوڑے ہمارے پاس آئے۔ ہم نے بڑے بڑے گھونٹ لیکر گلاس ختم کردیا۔ تھوڑا بہت افاقہ تو ہوا مگر سانس کی آمد و شُد میں رکاوٹ بدستو ر تھی۔ جاوید بھاگ کر برآمدے میں گئے اور اس بار گھر والوں نے ایک پانی سے بھرا ہوا لوٹا ان کے حوالے کردیا۔ اب روزینہ بھی کار سے باہر نکل کر ہمارے پاس کھڑی ہوگئی تھیں اور تشویش بھری نظروں سے ہماری حالت زار دیکھ رہی تھیں۔ کوارٹر والوں نے ایک عورت کو دیکھا تو انہیں قدرے اطمینان ہوا۔ برآمدے کی روشنیاں تو جل گئیں مگر دروازے اور کھڑکیاں بدستور بند رہے۔

ہم نے جلدی جلدی دو تین گلاس چڑھائے تو مزید افاقہ ہوا۔ سخت سردی کے باوجود ہم پسینے میں ڈوب گئے تھے۔ چند لمحے بعد حالت سنبھلی اور ٹھنڈی ہوا چہرے پر لگی تو طبعیت سنبھل گئی۔ جاوید فاضل نے لوٹا اور گلاس کوارٹر والوں کے حوالے کیا۔ ان کا دلی شکریہ ادا کیا اورکہا ’’آپ نے آج ایک قیمتی جان بچا لی ہے۔‘‘

یہ کہہ کر اور ان سب لوگوں کو گھروں کے اندر حیران چھوڑ کر ہم لوگ دوبارہ کار میں بیٹھ گئے۔ روزینہ کو بہت تشویش تھی اور وہ باربار دریافت کر رہی تھیں ’’آفاقی صاحب، آپ ٹھیک ہیں نا؟ کار تو چلا لیں گے نا؟‘‘

ہم نے تنگ آ کر کہا ’’اگر نہ چلائیں گے تو کیا ساری رات یہیں کھڑے رہیں گے؟ کار چلانی نہ جاوید کو آتی ہے نہ آپ کو۔ تو پھر کیا دھکے دے کر کار کو اسٹوڈیو لے جائیں گے؟‘‘

واپسی کے سفر میں کچھ دیر تو وہ پریشان اور سہمی سہمی رہیں مگر پھر رفتہ رفتہ نارمل ہوگئیں۔ ’’آفاقی صاحب۔ ایکٹنگ میں آپ کا جواب نہیں ہے۔ بھئی واہ! کیا ایکٹنگ کی ہے کہ دلیپ کمار بھی دیکھے تو سوچ میں پڑ جائے۔ کمال ہے، میں تو سچ مچ گھبرا گئی تھی۔‘‘

ہم نے کہا’’تو کیا آپ کے خیال میں ہم ایکٹنگ کر رہے تھے؟‘‘

’’اور کیا۔ ورنہ اتنی جلدی ٹھیک ٹھاک کیسے ہو جاتے؟‘‘

ہم لوگ اسٹوڈیو واپس پہنچے تو رات کے بارہ ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ یعنی اصولاً دوسرا دن شروع ہو چکا تھا۔ سب سے پہلے تو ہم روزینہ کے سیٹ پر گئے۔ جاوید کو ہم نے گواہ کے طور پر ہمراہ لے لیا تھا۔

وہاں پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سخت ناراض بیٹھے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے روزینہ نے بولنا شروع کردیا ’’شکر کیجئے کہ آج جان بچ گئی۔‘‘

’’کس کی؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔

’’آفاقی صاحب کی۔ ورنہ یہ تو آج گئے تھے۔ ایمان سے میں تو گھبرا گئی تھی اور دعائیں مانگ رہی تھی کہ یااللہ کسی کو پان کی موت نہ مارنا۔‘‘

’’پان کی موت!‘‘

’’ہاں اورکیا۔ انہوں نے پان کھالیا۔ اس کا پھندا لگ گیا۔ ان کی تو سانس ہی رک گئی تھی۔ پوچھئے جاویدسے۔‘‘

جاوید نے فوراً تصدیق میں زور و شور سے گردن ہلادی۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

’’ہوتا کیا، فوراً یوسی ایچ گئے۔ اگرڈاکٹر فوراً آکسیجن نہ دیتا تو خدا جانے کیا ہوتا۔ ایمرجنسی میں لے گئے تھے۔ جاوید سے پوچھ لیں۔‘‘

جاوید نے پھر زور و شور سے سرہلایا ’’بالکل۔ ایمان سے۔ اللہ نے دوسری زندگی دی ہے۔‘‘

سب لوگ یہ سن کرپریشان ہوگئے اور ہماری مزاج پُرسی کرنے لگے۔

روزینہ نے کہا ’’چھوڑیئے۔ آپ شوٹنگ توکیجئے۔ پہلے ہی اتنی دیر ہوگئی ہے۔‘‘

’’اب کیا شوٹنگ ہوگی۔ میرا خیال ہے پیک اپ کر دیتے ہیں۔‘‘

اس طرح روزینہ کی شوٹنگ پیک اپ ہوگئی۔

پروڈیوسر نے کہا ’’روزینہ چلئے آپ کو ہوٹل چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘

’’مجھے آفاقی صاحب چھوڑ دیں گے۔‘‘

ان کی ممی نے کہا ’’ارے کاہے کو آفاقی کوتکلیف دیتی ہے۔ ان کی گاڑی چھوڑ آئے گی نا۔‘‘

روزینہ نے کہا ’’ممی، آپ کیسی باتیں کرتی ہیں۔ میری وجہ سے وہ مرتے مرتے بچے ہیں اور ہم ان سے اتنی ہمدردی بھی نہ کریں؟‘‘

’’ارے ہمدردی کیوں نہیں کریں گے۔ جرور کریں گے۔ کیوں آفاقی، تمہیں تکلیف تو نہیں ہوگی نا؟‘‘

دوسرے دن روزینہ نے یہ رپورٹ دی کہ ان کے فلم ساز اور ہدایت کار روٹھے روٹھے سے رہے۔

ہم نے کہا ’’مگر تم ایسی حرکتیں کیوں کرتی ہو؟‘‘

معصومیت سے بولیں ’’انہیں ستانے کے لئے۔ آفاقی صاحب، وہ لوگ بہت جیلس ہو جاتے ہیں۔‘‘

روزینہ ’’سزا‘‘ کی شوٹنگ میں حصہ لینے کیلئے تین بار لاہور آئیں اور سارا کام بہت خوش اسلوبی کے ساتھ ختم ہوگیا۔ معاہدے کے مطابق جس روز ان کی شوٹنگ ختم ہوئی تھی۔ اس روز ہمیں ان کے معاوضے کی بقایا رقم اداکردینی چاہئے تھی۔ ان دنوں ہم شدید مالی بحران سے دوچار تھے۔ جن بڑے تقسیم کاروں نے ہم سے معاہدے کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ مسلسل ٹال مٹول کر رہے تھے۔ اور خود ہمارے اپنے وسائل جواب دے چکے تھے۔ اگر ہمیں آغاز ہی میں علم ہوتا کہ ساری فلم ہمیں اپنے ذاتی وسائل سے بنانی ہوگی تو ہم اس کیلئے کوئی مناسب بندوبست کرتے مگر تقسیم کار ہمیں ’’اگلی بار‘‘ کہہ کر ٹرخاتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم دیوالیہ ہوگئے۔(جاری ہے)

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 149 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -