لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 10

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 10
لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 10

  

پاشا صاحب نے یہ گیت اپنے والد نامی گرامی حکیم احمد شجاع کو سنایا تو انہوں نے گیت پر اس طرح تنقید کی کہ میں دل برداشتہ ہو گیا ۔ میں نے کہا کہ آپ یہ گیت مجھے واپس کر دیں اور کسی اور سے لکھوالیں۔ چنانچہ اس سچوئیشن پر پاشا صاحب نے مختلف شاعروں سے طبع آزمائی کروائی اور بالآخر سیف الدین سیف کا ایک مکھڑالے لیا گیا لیکن سیف صاحب نے دوسرے دن یہ کہہ کر ان سے وہ مکھڑا واپس لے لیا کہ انصاف کی بات یہ ہے کہ قتیل صاحب کا لکھا ہوا گیت مجھ سے بہتر ہے۔ انہوں نے لکھا تھا:

نہ جاؤ اب چھوڑ کے بسمل ٹھہر جا

میں زندہ ہوں مرے قاتل ٹھہر جا

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 9  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سیف صاحب اعلیٰ درجے کے شاعر ہونے کے علاوہ منصف مزاج بھی تھے اور عام شاعروں کے برخلاف انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ چیک آئے گا بلکہ انہوں نے انصاف سے کام لیا۔ اور ان لوگوں کہ آئینہ دکھادیا۔ چنانچہ جب اس کے بعد سیف صاحب سمیت کوئی دس بارہ شاعر کوشش کر چکے اور کام نہ بن سکا تو وہ میرے گیت کی طرف متوجہ ہو ئے جس کی ٹیون بھی ماسٹرعنایت حسین نے بنائی ہوئی تھی۔ یہ گیت سن کر ایک غیر محسوس چیز انہیں پکڑتی تھی اور وہ سوچتے تھے کہ اس میں کوئی بات ہے ۔ چنانچہ ایک روز پاشا صاحب مجھے مل گئے اور کہنے لگے کہ میرا وہ گیت کہاں ہے میں بات سمجھ گیا لہٰذا میں نے کہا وہ گیت تو میں نے آگے بیچ دیا ہے۔ کہنے لگے وہ تو میرا گیت تھا وہ کیوں بیچ دیا۔ میں نے کہا آپ نے اور آپ کے والد نے تو اسے رد کر دیا تھا۔ میں نے یونہی انہیں ستانے کیلئے کہا کہ میں نے ایک ہزار روپیہ لے کر وہ گیت کسی کو بیچ دیا ہے‘ کہنے لگے آپ مجھے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں یہ لیجئے ایک ہزار روپیہ اور چیک کاٹ کر مجھے دے دیا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔

اچھے شاعروں کی فیس ان دنوں پانچ سو روپے فی نغمہ ہوتی تھی۔ لیکن وہ میرے بہت قدردان تھے اور مجھے چھ سو روپے دیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ پانچ سو روپے تو گانے کے ہیں اور ایک سو روپیہ شاعر قتیل شفائی کو میرا نذرانہ ہے۔ جب یہ گیت فائنل ہو چکا تو پاشا صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ یہ نغمہ کس گلوکارہ کو گانا چاہیے۔ میرے ذہن میں تو وہی گیت تھا: پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے۔ میوزک ڈائریکٹر بھی وہی تھے۔ شاعری بھی اسی پایہ کی تھی‘ اس لئے میں نے کہا کہ یہ اقبال بانو کو گانا چاہیے۔ پاشا صاحب کہنے لگے کہ بس مسئلہ حل ہو گیا ‘ میرے ذہن میں جو نام آتے تھے ان میں سے یہ بھی تھا لیکن آپ کا فیصلہ بالکل ٹھیک ہے پھر کہا کہ اب ان سے رابطہ بھی آپ ہی کریں۔ وہ ملتان میں ہیں اور شاید مصروفیت کی وجہ سے نہ آسکیں‘ اس لئے آپ کوشش کریں۔

اقبال بانو باقاعدہ پہلے بیک سنگر نہیں تھیں اور تقسیم سے پہلے ان کا ایک گیت آیا تھا۔ سٹائل اختری فیض آبادی جیسا تھا لیکن آواز منفرد اور انوکھی تھی اور وہ اپنی ایک پہچان رکھتی تھیں۔ اقبال بانو کا تعلق دراصل روہتک دہلی سے تھا اور وہیں انہوں نے گانے بجانے کا کام شروع کیا۔ تقسیم کے بعد وہاں سے منتقل ہو ئیں تو ملتان میں حرم گیٹ کے پاس اپنے اڈے پر گایا کرتی تھیں۔ ان کا انداز سلجھا ہوا تھا اور اس میں چھوٹا پن نہیں تھا لیکن چونکہ یہ بیٹھ کر گانے والی تھیں جبکہ دوسری گانے والیاں ٹھمکے کے ساتھ کولہا ہلا کر گاتی تھیں اس لئے وہاں ان کا کاروبار ٹھیک طرح سے جم نہیں رہا تھا۔ اب انہوں نے جو فلم ’’قاتل ‘‘ کا یہ گانا ریکارڈ کروایا تو ایک بار پھر وہ توجہ کا مرکز بنیں ۔ فلم ریلیز ہوئی تو نہ صرف یہ گانا پاکستان کے کونے کونے میں مقبول ہوا بلکہ وہ جب انڈیا گیا تو ممبئی کی فلم انڈسٹری میں میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس کے پاس یہ ریکارڈ نہ ہو۔ اس زمانے میں یہ ریکارڈ سمگل ہو کر جاتا تھا۔ اس ریکارڈ کی قیمت یہاں پانچ سو روپے ہوتی تھی وہاں یہ ریکارڈ ستر ستر روپے میں بلیک میں بکتا تھا۔

یہ گانا گا کر اقبال بانو ملتان واپس چلی گئیں۔ اس کے بعد ایک موقع ایسا آیا کہ مجھے ان کی آواز کی ضرورت فلم عشق لیلیٰ کیلئے پڑی جس میں میری یہ غزل گائی جانے والی تھی:

پریشاں رات ساری ہے ستاروتم سو جاؤ

منشی دل مرحوم اس فلم کے ڈائریکٹر تھے جبکہ میوزک ڈائریکٹر صفدر حسین تھے اور ہم سب مل کر باہمی مشورے سے ٹیم کے طور پر کام کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ غزل اقبال بانو کی آواز میں مناسب رہے گی اور ان سے رابطے کا ذمہ بھی لیا۔ میں شہزاد احمد کو ہمراہ لے کر وہاں گیا اور انہیں اس گانے کیلئے راضی کیا۔ چنانچہ حسبِ وعدہ وہ آئیں اور گیت گایا۔ یہ فلم مقابلے میں بن رہی تھی اس لئے صرف سوا مہینے میں مکمل ہو گئی جبکہ ہم نے اٹھائیس دن میں اس کے چودہ گانے ریکارڈ کیے۔ فلم ریلیز ہوتے ہی یہ گانا دھوم دھام سے باہر آیا اور اقبال بانو کا نام آگے بڑھا۔

تھوڑی سی ملاقاتوں میں اقبال بانو کے ساتھ قربتیں بڑھیں اور وہ اس لئے کہ ان کی باتوں سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ شاعری میں دلچسپی رکھتی ہیں اور اپنے کوٹھے پر گانے والے پیشے سے ناخوش ہیں۔ ان کی باتوں کا انداز کچھ ایسا تھا کہ میرا تعاون چاہتی تھیں۔ اس لئے انہوں نے مناسب سمجھا کہ ملتان سے لاہور منتقل ہو جائیں۔ ملتان میں ان کی بہت بڑی کوٹھی تھی جبکہ لاہور میں گنپت روڈ پر انہوں نے پہلے ہی سے ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا جب لاہور آتیں تو یہاں قیام کرتی تھیں۔ چنانچہ ان کی ماں اور نانی تو ملتان ہی میں رہ گئیں وہ خود لاہور آکر اس مکان میں قیام پذیر ہوئیں۔

یہاں ہمارا تعاون اس قدر بڑھا کہ میں جس فلم کے بھی گانے لکھتا‘ اس میں ایک دو گانے ان کی ٹائپ کے ضرور ہوتے۔ اور سچ بات تو یہ ہے کہ ان کی ٹائپ کا جو گانا بھی بنایا گیا وہ مقبولیت کی حد تک آگے بڑھا۔ اس طرح ان سے میری بات بڑھتے بڑھتے جذباتیت کی حد تک پہنچ گئی اور جب ہم جذبات سے آگے بڑھتے ہیں تو جنس کی شکل اختیار کرتے تھے۔

باوجود یکہ مجھے ہمیشہ سے گہری دلچسپی رہی ہے اور میں شعوری طور پر ایک ذمہ دار شوہر اور باپ رہا ہوں لیکن کچھ دوستوں کے طعنوں اور کچھ آئے دن کی قربتوں سے مجبور ہو کر میرے دوست اور مرحوم فلم ڈائریکٹر سبطین فضلی کو یہ کہنا پڑ اکہ آپ لوگ اس طرح کی زندگی کیوں گزار رہے ہیں۔ میں نے کہاان سے پوچھئے اور انہوں نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ ان سے پوچھئے۔ معاملہ یہیں نہیں رکا بلکہ شرما شرمی میں شادی کا دن بھی مقرر ہو گیا۔ مقررہ دن وہ شادی کا جوڑا پہن کر پرویز صاحب کے ہاں آگئیں جہاں مولوی صاحب بھی بلوائے ہوئے تھے ۔ فضلی صاحب نے دعوت کا انتظام کیا ہوا تھا اور Confidential دوست بھی بلوائے تھے۔ دل میں بھی کانپا اور وہ بھی۔ شاید دونوں نے کوئی منصوبے بنا رکھے تھے مگر دل سے دونوں میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا تھا۔

قسمت نے میری یاوری کی کہ اقبال بانو کو کوئی بات سوجھی‘ انہوں نے فضلی صاحب سے کہا کہ قتیل صاحب سے کہئے کہ شادی کے بعد کم ازکم دو سال تک مجھے گانے کی اجازت دیں ۔ یہ بات میرے ہاتھ آگئی او ر میں نے کہا کہ لوگ یہی کہیں گے کہ قتیل شفائی کی بیوی ناچ رہی ہے اور گارہی ہے کیونکہ شادی کے بعد صر ف یہی فرق پڑتا ہے ورنہ میاں بیوی تو اب بھی ہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ جی میرے بچوں کا سوال ہے ۔ فضلی صاحب نے کہا کہ اقبال بانو آپ ان سے مخلص نہیں ہیں اور قتیل صاحب آپ بڑے غیرت مند آدمی ہیں۔ اگر آپ ان کی شرط مان جاتے تو میں آپ کو بڑا بے غیرت آدمی سمجھتا ۔ شادی رک گئی اور دو مہینے کی مہلت دی گئی کہ ہم دونوں سوچ لیں۔(جاری ہے)

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -