جب مشتاق یوسفی مرغابنتے تھے

جب مشتاق یوسفی مرغابنتے تھے
جب مشتاق یوسفی مرغابنتے تھے

  


احمد عطا نے مانچسٹر سے میل کی ہے اور لکھا ہے ” مشتاق احمد یوسفی مزاحیہ اردو ادب کا سرمایہ ہیں ۔میں انکی آبِ گم کا فین ہوں اور کئی بار پڑھ چکا ہوں ۔ اس کیہ اقتباس اس لئے بھیج رہا ہوں کہ ہم سب کو اپنا پرائمری سکول یاد رہے۔وہ لکھتے ہیں

” پانچویں جماعت میں ، میں نے ایک دفعہ شاہ جہاں کے باپ کا نام ہمایوں بتا دیا تھا اور ماسٹر فاخر حسین نے مرغا بنا دیا تھا۔ وہ سمجھے میں مذاق کر رہا ہوں ۔یہ غلطی نہ بھی کرتا تو اور کسی بات پر مرغا بنا دیتے۔

اپنا تو طالب علمی کا زمانہ اسی پوز میں گزرا۔ بینچ پر آنا تو اس وقت نصیب ہوتا تھا جب ماسٹر کہتا کہ ” اب بینچ پر کھڑے ہو جاو ¿“اب بھی کبھی کبھی طالب علمی کے زمانے کے خواب آتے ہیں تو یا تو خود کو مرغا بنے دیکھتا ہوں یا اخبار پڑھتا ہوا دیکھتا ہوں ،جس میں میرا رول نمبر نہیں ہوتا تھا۔

ڈائریکٹر آف ایجوکیشن حال ہی میں یورپ اور امریکہ کا دورہ کرکے آئے ہیں۔سنا ہے انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دنیا کے کسی اور ملک نے مرغا بنانے کا پوز ”ڈسکور“ ہی نہیں کیا۔

میں نے تو عاجز آکر اپنی ترکی ٹوپی پہننا ہی چھوڑ دی تھی۔مرغا بنتا تو اس کا پھندنا آنکھوں سے ایک انچ کے فاصلے پر تمام وقت پنڈولم کی طرح جھولتا رہتا تھا دائیں بائیں۔پیریڈ کے آخر میں ٹانگیں بُری طرح کانپنے لگتیں تو پھندنا آگے پیچھے جھولتا رہتا۔ اس میں ترکوں کی توہین کا پہلو بھی نکلتا تھا جسے میری قومی غیرت نے گوارہ نہ کیا“

مزید : لافٹر


loading...