جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر28

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر28
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر28

  

رات جب رادھا نے مومنہ کے ذریعے مجھ سے باتیں کی تھیں میں شُکر ادا کر رہا تھا کہ صائمہ سوئی ہوئی ہے۔ میرا خیال تھا کہ اگر صائمہ اسے اس حال میں دیکھ لیتی تو خوف سے مر جاتی لیکن جب رادھا نے محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے پریتم سجنا اور پریم جیسے القابات سے پکارا تو صداکی ڈرنے والی صائمہ بھپر گئی۔ اس نے رادھا کو کھری کھری سنا دی تھیں جس کے نتیجے میں وہ بد بخت مومنہ کے جسم پر قبضہ کر بیٹھی۔

’’رادھا! تم صائمہ کی باتوں کا برا نہ مانو جب کوئی عورت اپنے شوہر اور بچوں کو تکلیف میں دیکھتی ہے تو اسے غصہ تو آتا ہی ہے‘‘ میں نے بڑے رسان سے اسے سمجھایا۔

’’تم کہتے ہو تو میں اس مورکھ کو شما کیے دیتی ہوں پرنتو۔۔۔اسے کہہ دو، یدی اس نے مری آگیا کا پالن نہ کیا تو یہ کھد دیکھ لے گئی رادھا کیا کر سکتی ہے؟‘‘ کچھ دیر کے بعد مومنہ کے جسم نے بل کھایا اور آرام سے لیٹ گئی اچھا ہوا احد کمرے میں نہ تھا ورنہ مومنہ کے منہ سے ایسی باتیں سنتا تو نہ جانے اس معصوم پر کیا گزرتی؟

’’یہ منحوس کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔کونسے وعدے آپ نے اس کے ساتھ کیے ۔۔۔کب؟‘‘ اس کی آنکھوں میں شک کے کنول تیرنے لگے۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر27 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’تم مجھ پر شک کر رہی ہو؟‘‘ میں نے ناگواری سے کہا۔ اس نے حیرت سے مجھے دیکھا پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مجھے اپنے لہجے کی سختی کا اندازہ ہوگیا۔ دراصل رات سے اب تک پیش آنے والے خوفناک واقعات کے تسلسل سے میرے اعصاب جواب دے گئے تھے۔ ’’آئی ایم سوری صائمہ! میں بھی تمہاری طرح سخت پریشان ہوں کسی بات کی سمجھ نہیں آتی۔‘‘ میں نے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔ اس نے بھیگی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور بنا کچھ کہہ باہر چلی گئی۔ اسی وقت فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے ریسیور اٹھا یا دوسری طرف عمران تھا۔

’’خان بھائی! شریف کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے‘‘ اس کی آواز کسی بم دھماکے کی طرح میری کانوں سے ٹکرائی۔ ‘‘ رات کو عشاء کی نماز کے بعد جنازہ یہ‘‘ وہ بتا رہا تھا۔

’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ’’کب ہوا ان کا انتقال؟‘‘

’’ابھی تھوڑی دیر پہلے شریف کا فون آیا تھا کہہ رہا تھا آپ کی اطلاع کر دوں‘‘ اس کہا۔

’’اچھا میں بچوں کولے کر تمہارے گھر جا رہا ہوں ان کو وہاں چھوڑ کر ہم دونوں شریف کے گھر چلے جائیں گے۔‘‘ میں نے عمران کو پروگرام بتایا۔

’’ٹھیک ہے خان بھائی! میں بھی تھوڑی دیر بعد گھر پہنچ جاؤں گی‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ کمرے میں آکر میں نے صائمہ کو بتایا۔

’’میرے ایک ماتحت کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے عشاء کے وقت ان کی نماز جنازہ ہے تم تیار ہو جاؤ ہم عمران کے گھر چلتے ہیں تمہیں وہاں چھوڑ کر میں جنازے پر چلا جاؤں گا رات ہم عمران کے گھر ٹھہریں گے پھر اس مشکل سے نکلنے کا کوئی حل سوچتے ہیں‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔ اس نے سر ہلایا اور بچوں کو تیار کرنے چلی گئی۔ جنازے سے ہم لوگ گیارہ بجے کے قریب واپس آسکے۔ وہ رات ہم نے عمران کے گھر گزاری۔ شریف کے والد صاحب کے وفات کے بعد یہ دروازہ بھی بند ہوگیا تھا۔ صائمہ اور بچے سو چکے تھے۔ میں بھی بیڈ پر لیٹ گیا پر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی سوچنے سے اور تو کچھ حاصل نہ ہوا ہاں سرکا درد بڑھ گیا۔ نہ جانے کس پہر مجھے نیند آئی۔ رات بھر مجھے ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے رہے۔ بار بار آنکھ کھل جاتی خیر کسی نہ کسی طرح رات گزر گئی۔صائمہ اور بچوں کو میں نے عمران کے گھر ہی رہنے دیا۔ شریف کے والد کی وفات کے بعد ایک ہی شخص تھا جو میری الجھن کو حل کر سکتا تھا اور وہ تھا ملنگ۔ میں اسے تلاش کرکے اس مسلے پر اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ لیکن سوموار کا دن ہونے کی وجہ سے بینک میں اتنی مصروفیت رہی کہ مجھے ایک منٹ کا ٹائم نہ مل سکا۔ شام کو ہم واپس آنے لگے تو عمران نے کہا۔

’’خان بھائی آپ چلیں ایک چھوٹا سا کام ہے میں وہ کرکے آتا ہوں‘‘ میں واپس چل پڑا۔ گھر پہنچا تو نازش کو دروازے سے باہر کھڑے پایا۔ ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر وہ لپک کرآئیں۔ کسی انجانے خدشے سے میرا دل دھڑک اٹھا۔ میں نے گاڑی روک کر جلدی سے دروازہ کھولا اور باہرنکل کر پوچھا۔

’’خیرت ہے بھابی! باہر کیوں کھڑی ہیں؟‘‘

’’فاروق بھائی! مومنہ پتانہیں کہاں چلی گئی ہے؟‘‘ الفاظ نہیں بم تھا جو میرے سر پٹھا۔

’’ک۔۔۔ک۔۔۔کیا کہہ رہی ہیں آپ، کیا مطلب؟‘‘ میرے منہ سے بے ربط جملے نکلے۔

’’تھوڑی دیر پہلے سب بچے لان میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے کافی دیر تک جب مومنہ نہ ملی تو شاہ جہان نے مجھے بتایا اس کے بعد سے ہم نے اسے سارے گھر میں تلاش کیا لیکن وہ کہیں بھی نہیں ہے‘‘ اتنا کہہ کر بھابی رونے لگیں۔ میں بھاگتا ہوا اندر گیا صائمہ برآمدے میں کھڑی رو رہی تھی۔ سب بچے ان کے پاس خاموش کھڑے تھے۔ مجھے دیکھ کر صائمہ لپک کر میرے پائی آئی۔

’’حوصلہ رکھو صائمہ! یہیں کہیں ہوگی وہ کہاں جا سکتی ہے؟‘‘ میں نے اسے تسلی دی ۔ایک بار پھر ہم سب نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ صائمہ کا رو رو کر برا حال تھا۔ وہ نڈھال سی کرسی پر گر گئی۔

’’عمران کہاں ہیں، فاروق بھائی! ‘‘ نازش نے پوچھا۔

’’اسے بازار سے کچھ چیزیں خریدنا تھوڑی دیر میں آجائے گا۔‘‘ میں نے بتایا۔

’’اچھا وہ درزی کے پاس میرے کپڑے لینے گئے ہوں گے آپ ایسا کریں ان کو بلا بلائیں‘‘ انہوں نے مجھے ایڈریس بتاتے ہوئے کہا۔ میں جلدی سے گاڑی میں بیٹھا اور آندھی طوفان کی طرح بھگاتا ہوا بازار کی جانب چل پڑا۔ ابھی میں بازار سے کچھ دورہی تھا کہ مجھے اپنے پیچھے پولیس موبائل کا سائرن سنائی دیا میں چونکہ خطرناک حد تک تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کر رہا تھااس لئے شادی ٹریفک سارجنٹ نے مجھے چیک کرکے گاڑی پیچھے لگا دی تھی۔ میں نے رفتار سست کر دی پولیس موبائل تیزی سے میرے برابر آئی اور اگلی سیٹ پر بیٹھے پولیس والے نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا۔ میں نے گاڑی ایک طرف کرکے روک لی۔

میں چاہتا تھا اسے سمجھاؤں کہ میں کس مشکل میں ہوں اور تیز رفتاری کے لئے معذرت بھی کروں لیکن میرے نیچے اترنے سے پہلے موبائل سے چارپانچ پولیس والے اترے جنہوں نے ہاتھ میں خود کار رائفلیں پکڑی ہوئی تھیں۔ سب میری گاڑی کے گرد گھیرا ڈال کر کھڑے ہوگئے ۔میں ابھی سنھبل بھی نہ پایا تھا کہ ایک کرخت صورت تھانیدار نیچے اترا اور میری گاڑی کے پاس آکر غرایا۔

’’فاروق خان تمہاراہی نام ہے‘‘

’’جی ہاں۔۔۔بات دراصل یہ ہے آفیسر۔۔۔‘‘

’’بات کے بچے نیچے اتر۔۔۔‘‘اس نے میری بات کاٹ کرایک نہایت فحش گالی دی۔ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

’’دیکھو آفیسر۔۔۔!‘‘ ابھی الفاظ میرے منہ میں ہی تھے کہ اس نے گرج کر اپنے سپاہیوں کو حکم دیا۔

’’اس حرامزادے کو نیچے اتار کر گاڑی میں بٹھاؤ‘‘ ایک سپاہی نے جلدی سے میری گاڑی کا دروازہ کھولا اور مجھے کالر سے پکڑ لیا۔

’’میری بات سنو تم یہ ٹھیک نہیں کر رہے۔‘‘ میں نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔

اچانک میرے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا۔ آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے۔ اس کے بعد تو مجھے پر گھونسوں اور لاتوں کی بارش ہوگئی۔ میری کنپٹی پر کسی کا زوردار ہاتھ پڑا اور میں زمین بوس ہوگیا۔ گرتے ہی جیسے میرے سر پر پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ یہ کسی سپاہی کے بوٹ کی ٹھوکر تھی جو میرے سر پر پڑی تھی۔ سپاہیوں نے مجھے ڈنڈا ڈولی کرکے موبائل میں پھینک دیا۔ ابھی میں سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ گاڑی چل پڑی۔ چار سپاہی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور میں ان کے قدموں میں پڑا تھا۔ سر کی چوٹ نے میرے حواس معطل کر دیئے تھے۔ بائیں آنکھ میں بری طرح سوزش کے ساتھ درد ہو رہا تھا۔ جسم کے ایک حصے سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ ان بدبختوں نے مجھے بری طرح مارا تھا۔ میں گٹھڑی بنا ان کے قدموں میں گاڑی کے فرش پر پڑا تھا۔ سپاہی مجھ سے بے نیاز ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔ وہ بات کم کرتے اور گالیاں زیادہ بکتے۔ شاید پولیس کے محکمے میں رہ کر ان کی زبان اس قدر گندی ہو چکی تھی۔ ایک سپاہی دوسروں کو کوئی واقعہ سنا رہا تھا۔ اس نے ایک محبت کرنے والے جوڑے کو کسی پارک سے پکڑا تھا۔ وہ مزے لے لے کر ان کو بتا رہا تھا کہ اس نے لڑکی کے ساتھ کیا کیا تھا اور کتنے پیسے لے کر انہیں چھوڑا تھا۔ کچھ دیر کے بعد موبائل تھانے کی عمارت میں داخل ہوگئی۔ گاڑی کے رکتے ہی تھانیدار نے سپاہیوں کو حکم دیا۔

’’اسے سپیشل حوالات میں بند کر دو میں رات کو اس کے ساتھ ۔۔۔کروں گا۔‘‘ اس نے نہایت فحش بات کی۔

’’بچو جی! خود ہی اترو گے یا تمہارے لئے پالکی لے کر آئیں۔‘‘ ایک سپاہی نے ہنس کر طنز کیا۔ میں جلدی سے نیچے اتر آیا وہ مجھے لے کر ایک طرف چل پڑا۔ سامنے ایک قطار میں چند کمرے بنے ہوئے تھے اس نے ایک کمرے کا تالا کھولا اور مجھے دھکیل کر دروازہ باہر سے بند کردیا۔ پہلے بھی میرا سابقہ ان حالات سے پڑ چکا تھا۔ جب سادھو کے چیلے تھانیدار نے مجھے چمپا کے جھوٹے اغوا کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔ اس دن رادھا نے بلی کے روپ میں مجھے ان کے چنگل سے نہ صرف رہائی دلائی تھی بلکہ سادھو کے چیلوں کو عبرتناک سزا بھی دی تھی۔ میں نے سپاہی کے جانے کے بعد کمرے کا جائزہ لیا۔ نہایت کم روشنی کا ایک بلب اپنی مدقوق روشنی پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ فرش پر پرانی سی چٹائی بچھی تھی کمرے میں دیوار کے ساتھ کوئی کمبل اوڑھے لیٹا تھا۔ مجھ سا کوئی بد نصیب ہوگا۔ میں نے سوچا۔ میرے جسم پر ایک ہلکا سا سوئیٹرتھا۔ سردی اور خوف سے میرا جسم کانپ رہا تھا ’’ نہ جانے یہ درندے میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟‘‘ رادھا بھی مجھ سے ناراض تھی۔ میں نے اس کے بقول اسے دھوکہ دیا تھا لیکن کیا واقعی یہ دھوکہ تھا؟ کیا میں اس کا مطالبہ مان کر اس کی ہوس پوری کرتا رہتا؟ اس کا مطالبہ تھا صائمہ جو وظیفہ رات کو کرتی ہے وہ بند کر دے تاکہ وہ پہلے کی طرح صائمہ کے جسم میں سما کر میرا قرب حاصل کرسکے۔ میں کوئی زیادہ مذہبی آدمی تو نہیں ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں یہ کام غلط ہے۔ گزشتہ بار تو رادھا نے میری مدد کرکے مجھے چھٹکارا دلایا تھا اب کیا ہوگا؟‘‘ یہ سوال بار بار میرے ذہن میں ڈنک ما رہا تھا۔

’’کہیں یہ سب رادھا کا کیا دھرا تو نہیں؟‘‘ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا۔ میں نے ایک بار پھر گردن گھما کر سونے والے کی طرف دیکھا وہ بڑے مزے سے کمبل اوڑھے حوالات میں اس اطمینان سے سو رہا تھا۔ ’’ہو سکتا ہے کوئی عادی مجرم ہو؟‘‘ میرے ذہن میں خیال آیا۔ اچانک ہر طرف تاریکی چھا گئی شاید لائٹ چلی گئی تھی۔ (جاری ہے )

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر29 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

رادھا -