ایم پی اے نے 50 ہزار کے عوض بچے رکھے تھے، والد مقتول اختر

ایم پی اے نے 50 ہزار کے عوض بچے رکھے تھے، والد مقتول اختر
ایم پی اے نے 50 ہزار کے عوض بچے رکھے تھے، والد مقتول اختر

  

اوکاڑہ(ویب ڈیسک) لاہور میں ایم پی اے کی بیٹی کے مبینہ تشدد سے قتل ہونے ولے اوکاڑہ کے رہائشی محنت کش نوجوان کے حوالے سے دل سوز انکشافات سامنے آئے ہیں۔مقتول اختر کا والد ایک محنت کش ہے جو قصبہ لکھن میں ایک جھونپڑی نما ایک کمرہ کے مکان میں رہتا ہے ۔

روزنامہ جنگ کے مطابق بچوں کے والد اسلم نے بتایا کہ اس کی اہلیہ رقیہ بی بی لاہور میں موجودہ ایم پی اے شاہ جہاں کے گھر کام کرتی تھی۔ پانچ سال قبل وہ اپنے بیٹے اختر علی اور بیٹی عطیہ بی بی کو پڑھانے کے لیے لاہور لے گئی۔انہیں کسی قسم کی تنخواہ نہیں دی جاتی تھی۔ اسلم کا کہنا تھا کہ دوسال قبل رقیہ بی بی اسے چھوڑگئی اور اس نے لاہور میں کسی شخص سے دوسری شادی کر لی ۔ مجھے جب اس بات کا پتہ چلا تو میں اپنے بچوں کو لینے لاہور گیا تو مجھے ایم پی اے شاہ جہاں کی طرف سے بتایا گیا کہ رقیہ بی بی نے 50 ہزار روپے ایڈوانس لے رکھے ہیں وہ دے دو اور بچے لے جاﺅ۔میرے پاس 50 ہزار نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے میں بچوں کو نہ لاسکا۔ اسلم کا کہنا تھا کہ بچے میرے ہیں اور میں ہی بچوں کا قانونی اور شرعی وارث ہوں ۔ میرے ساتھ میرے بچوں کی کبھی کبھار بات کروائی جاتی ۔ جس میں میرے بیٹے اختر اور بیٹی عطیہ بی بی کو زبردستی کہا جاتا کہ وہ کہیں کہ ہم یہاں بہت خوش ہیں ہمیں اچھے کپڑے ملتے ہیں اچھا کھانا ملتا ہے۔

اسلم نے بتایا کہ حالیہ عید الفطر پر جب میں اپنے بچوں کو لینے گیا تو مجھے بتایا گیا کہ بچے شادمان گئے ہوئے ہیں جب دوبارہ رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ بچے آئس کریم کھانے گئے ہیں۔ اسلم اور اس کے رشتہ داروں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ میں کبھی اور کسی صورت اپنے بیٹے کے قاتلوں کو معاف نہیں کروں گا ۔ میری وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے التجا ہے کہ وہ مجھے اور میرے خاندان کا انصاف دلوائیں۔اگر مجھے انصاف نہ دیا گیا تو میں اپنے خاندان کے ساتھ لاہور میں اجتماعی خود سوز ی کر لوں گا۔ جنازگاہ میں موجود مردو خواتین کا کہنا تھا کہ تشدد کا شکار بچی 12 سالہ عطیہ بی بی اپنے بھائی کے قتل کے بعد اس حد تک سہمی ہوئی ہے کہ وہ مسلسل چیخ چلا رہی ہے ۔ وہ اس قدر روئی ہے کہ اب اس کے آنسو بھی نہیں نکلتے۔

مزید :

اوکاڑہ -