معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر13

معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط ...
معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر13

  

مہاراجہ کھنڈے راؤ کی ایک منظور نظر طوائف رمزی پہلوان کی شہرت سے خائف تھی۔وہ رمزی پہلوان کو راجہ کی نظر سے گرانا چاہتی تھی اور کسی موقع کی تاک میں بیھی تھی۔رمزی بڑھاپے کی طرف گامزن تھے کہ بوٹا پہلوان رستم ہند بھی لاہور سے بڑودہ چلے آئے۔بوٹا پہلوان جتنے شاہ زور تھے اسی قدر حسین بھی تھے۔ مہاراجہ کی طوائف بوٹا پہلوان کو پسند کرنے لگی۔ ایک روز اس نے مہاراجہ سے رمزی پہلوان اوربوٹا پہلوان میں مقابلہ کرانے کے لئے کہا۔مہاراجہ نے کشتی کی تیاری کے لئے حکم دے دیا۔ دونوں پہلوانوں نے خوب تیاری کی۔اس وقت بوٹا پہلوان طاقت اور جوانی میں تھے۔کشتی کے لئے اکھاڑہ کے قریب ایک چبوترہ بنایا گیا جس پر مہاراجہ اور عمائدین ریاست نے تشریف فرما ہونا تھا۔دنگل کا اہتمام نہایت عالی شان طریقے سے کیاگیا تھا اور جگہ کو خوب سجایا گیاتھا۔سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ چبوترے پرراجہ کے ساتھ وہ طوائف بھی بیٹھ گئی۔کشتی شروع ہو گئی۔

رمزی پہلوان نے کشتی کے دوران بوٹا پہلوان کی کمر میں دونوں ہاتھ ڈال کر پیچھے سے پکڑ لیا۔بوٹا نے تیزی کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے لوہے کے جنگلے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔رمزی نے اپنی طاقت سے بوٹا پہلوان کو پٹھی ایسی ماری کہ بوٹا کے ساتھ ہی لوہے کا جنگلہ بھی اکھڑ گیا۔

معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر12  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بوٹا نے فوراً پینترا بدلا اور سامنے آئے اور جواباً رمزی کو پٹھی لگاکر نیچے گرا لیا۔اسی لمحہ راجہ کی طوائف بے ساختہ چلائی ’’وہ مارا‘‘۔راجہ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا اور بوٹا پہلوان بھاگ کرراجہ کو سلام کرنے چبوترے پر چڑھ گئے۔

رمزی پہلوان کو سخت غصہ آیا کیونکہ کشتی صاحب نہیں ہوئی تھی۔ طوائف کی آواز ’’وہ مارا‘‘ پربوٹا اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ رمزی نے دل برداشتہ ہو کر ریاست چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ جب راجہ کو اس بات کا پتہ چلا تو راجہ نے رمزی کے اکھاڑے کے پہلوانوں کو کہا کہ جوکوئی انہیں واپس لائے گا اسے ایک ہزارروپیہ انعام دیا جائے گا۔ چند پہلوان جو رمزی کے بہت قریب تھے، اس کے پیچھے گئے۔ تین میل کے فاصلہ پر جاکر رمزی کو روک لیا اور واپس چلنے کو کہا۔رمزی نے صاف جواب دیا۔’’میرے ساتھ بے ایمانی ہوئی ہے۔ میں واپس نہیں جاؤں گا۔بوٹا نے جب مجھے گرایا نہیں تھا تو راجہ نے بوٹا کو اکھاڑے میں کیوں نہیں بھیجا۔‘‘

پہلوان نے منت سماجت کی۔’’حضور آپ کے جانے کے بعد ہمارا کیا بنے گا۔‘‘

رمزی نے بے اعتنائی سے کہا۔ ’’میں کیا جانوں۔تم واپس چلے جاؤ راجہ تمہاری دیکھ بھال کرے گا۔‘‘

پہلوان بولے۔’’نہیں سرکار ہم آپ کے بغیر کچھ نہیں۔آپ ساتھ چلیں۔راجہ نے آپ کو واپس لانے کے لئے ایک ہزار انعام مقرر کیا ہے۔آپ ہماری خاطر واپس چلیں۔‘‘خیر وہ پہلوان رمزی کو راضی کرکے واپس لے آئے۔

رمزی نے واپس آکر بوٹا پہلوان سے دوپارہ کشتی لڑنے کے لئے سخت محنت شروع کر دی۔وہ ہزاروں کے حساب سے ڈنڈ اور بیٹھکیں لگاتے،گندم کی بوریاں اٹھاکر کئی کئی بار سیڑھیاں چڑھتے،اترتے اور بوریاں اٹھا کر کئی میل دوڑ لگاتے،لوہے کا وزنی کڑا گردن میں ڈال کر ڈھنڈ لگاتے، کو لہو کے آگے بیل کی جگہ جت کر تیل نکالتے۔جب رمزی نے دیکھا کہ اب وہ پوری طرح تیار ہے تو انہوں نے اپنے حریف بوٹا پہلوان کے گھر پہنچ کر للکارا۔بوٹا پہلوان نے جھروکوں سے رمزی کو دیکھا۔رمزی نے اپنے ڈنڈوں پر ہاتھ مار کر کہا۔’’اوئے نیچے آاور میرے ساتھ کشتی لڑو۔‘‘

بوٹا پہلوان نے کہا۔’’پہلوان جی یوں کشتی نہیں لڑی جاتی۔جائیں اور مہاراجہ سے کہیں،وہ طے کریں گے تو کشتی ہو گی۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ بوٹا پہلوان نے رمزی سے کشتی لڑنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ چپکے سے ریاست چھوڑ کر جودھپور چلے گئے تھے جہاں اس وقت راجہ جسونت سنگھ حکمران تھا۔یوں اس وقت کے دو عظیم پہلوانوں کے درمیان فیصلہ کن مقابلہ نہ ہو سکا۔

****

یہی وہ استاد بوٹا تھے جن سے کیکر سنگھ زور رانا چاہتا تھا۔دیکھنے والوں نے دیکھا کہ استاد بوٹا نے کیکر سنگھ کو چند منٹوں میں زور کراکے فارغ کر دیا اور وہ جواکیلا پچاس پر بھاری تھا۔ تھک ہار کر بیٹھ گیا مگر استاد بوٹاکے دم خم قائم رہے اور انہوں نے مزید پچاس پہلوانوں کو زورکرادیا۔استاد جب اکھاڑے سے باہر آئے تو کیکر سنگھ نے جھک کر استاد بوٹا کے چرن چھوئے اور اپنی چادر میں سے پگڑی اور گڑ نکال کر پیش کئے۔

کیکر سنگھ کی طاقت کا پہلے مان تھوڑا تھا کہ وہ کسی پہلوان کو اپنے ساتھ کھڑا نہیں ہونے دیتا تھا۔ اس لئے وہ ہندوستان کے تمام پہلوانوں کو للکارنے لگا۔امرتسر کے چوبیس سالہ شاہ زور غلام پہلوان نے اس بدمست ہاتھی کی للکار کا جواب دیا۔

یہاں اس کا مفصل ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔غلام پہلوان1860ء میں امرتسر میں پیدا ہوا۔وہ بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔اس کے دو بھائی کلو پہلوان اور رحمانی پہلوان(بھولو کا نانا)بھی دنیائے پہلوانی میں نامور ہوئے۔غلام کا باپ علی بخش امرتسری المعروف علیا پہلوان بھی اپنے زمانے کا مانا ہوا پہلوان تھا۔غلام پہلوان بچپن میں باپ کے زیر تربیت رہا لیکن لڑکپن کی منزل سے گزرنے پر علی بخش نے اسے اپنے ایک جگری یار چھبیلا پہلوان کی تحویل میں دے دیا۔غلام پہلوان کشتی کے فن ورموز سیکھ کر جوان ہوا تو اس نے دیکھا کہ ہندوستان میں جوالا سنگھ سندھو کے گرانڈیل بیٹے کیکر سنگھ کا طوطی بول رہا ہے۔یہ وہ دور تھا جب ہر ریاست میں چند ایک بڑے پہلوان موجود تھے جو ریاست کے خزانے پر پلتے تھے اور اپنے آقا کی آن پر مرمٹنے کے لئے تیار رہتے تھے، لیکن غلام پہلوان نے کسی جاگیر دار کی سرپرستی قبول نہ کی اور دنیائے پہلوانی میں وارد ہوا۔۔۔دنگلوں میں جاتا اور جو بھی تازہ دم پہلوان مقابلے پر آتا چت کرکے اپنا نام بناتا گیا۔

کیکر سنگھ ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ پر تاب سنگھ کا درباری پہلوان تھا۔کوئی پہلوان اب اس کے منہ نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ کیکر سنگھ کے مقابلہ کے لئے کوئی تازہ دم پہلوان لایا جائے۔ کچھ لوگ امرتسر گئے اور غلام پہلوان کو ساتھ لے کر جموں و کشمیر آئے۔غلام پہلوان تو پہلے ہی کیکر سنگھ سے مقابلہ کی ٹھان چکا تھا۔لہٰذا یہ موقع غنیمت تھا۔

غلام پہلوان اپنے ساتھی پہلوانوں کو بھی ساتھ لے کر آیا اور اس نے بھرے دربار میں کیکر سنگھ کو دعوت مبارزت دی اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ اگر کیکر سنگھ اسے گرالے تو غلام پہلوان ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں گے۔عام لوگوں نے غلام پہلوان کے اس اعلان کو دیوانے کی بڑ کہا لیکن جب غلام پہلوان کے ساتھیوں نے یہ خطیر رقم مہاراجہ کے حوالے کی تو سب کے منہ بند ہو گئے اور وہ نوجوان غلام پہلوان کی جرأت اور اعتماد کو دیکھ کر ششدرہ رہ گئے۔(جاری ہے)

معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر14 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

طاقت کے طوفاں -