عمران خان نا اہلی کیس، چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو دستاویزات جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا، یہ مقدمات جلد نمٹانا چاہتے ہیں: جسٹس میاں ثاقب نثار

عمران خان نا اہلی کیس، چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو دستاویزات جمع کرانے کیلئے ...
عمران خان نا اہلی کیس، چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو دستاویزات جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا، یہ مقدمات جلد نمٹانا چاہتے ہیں: جسٹس میاں ثاقب نثار

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عمران خان نا اہلی کیس میں ان کے وکیل نعیم بخاری کو تمام ضروری دستاویزات جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے جہانگیر ترین کے وکیل انور منصور کے پیش نہ ہونے پر ریمارکس دیے کہ آپ چاہتے ہیں ہم جہانگیر ترین کا کیس نہ سنیں؟ یہ معمول کے مقدمات نہیں انہیں جلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں، بعض دفعہ حالات ہمارے لیے بھی مشکلات پیدا کردیتے ہیں عدلیہ کے لیے بطور ادارہ بھی بہتر ہوگا کہ یہ مقدمے جلد ختم ہوں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ آج انور منصور سے دوبارہ بات کروں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کبھی بھی ان مقدمات میں تاخیر نہیں چاہتے آپ چاہیں تو جہانگیر ترین والا مقدمہ بھی شروع کرسکتے ہیں۔

نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کی کرکٹ آمدن پر آبزرویشن دی تھی جبکہ درخواست گزار نے کرکٹ آمدن سے فلیٹ خریدنے پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ گزشتہ رات کو تمام دستاویزات موصول ہوگئے ہیں عمران خان کی کرکٹ آمدن کا ریکارڈ آج جمع کروا دوں گا تمام ریکارڈ عدالت کی آبزرویشن پر ہی منگوایا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فلیٹ کی ادائیگی نقد تو نہیں کی گئی ہوگی؟ جس پر نعیم بخاری نے بتایا کہ ادائیگی بذریعہ بینک کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ صرف فلیٹ ظاہر نہ کرنا ہے تو نعیم بخاری درست کہہ رہے ہیں، اکرم شیخ صاحب آپ نے پٹیشن میں یہ اعتراض کہاں کیا؟۔ اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے انتخابی گوشواروں میں فلیٹ اپنی ملکیت ظاہر کیا حالانکہ فلیٹ درحقیقت نیازی سروسز کی ملکیت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان نے بینی فیشل مالک ہونے کی تصدیق کی اور بطور حقیقی مالک فلیٹ کو گوشواروں میں ظاہر کیا گیا، ہم نے صرف ادائیگی کا ثبوت مانگا تھا،صرف شفافیت دیکھنا چاہتے تھے عدالت دیکھنا چاہتی تھی کہ پیسہ پاکستان سے منی لانڈرنگ کے ذریعے تو نہیں کیا گیا۔ اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کیس فراڈ کا ہے۔جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کبھی آپ کہتے ہیں کہ فلیٹ عمران خان کا ہے جو ظاہر نہیں کیا کبھی کہتے ہیں فلیٹ آف شور کمپنی کا ہے، اکرم شیخ صاحب ! آپ کے موقف میں تضاد ہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ عمران خان نے اٹھایا، نیازی سروسز نے نہیں، دستاویزات آتے رہے تو جواب الجواب کب دونگا؟۔

نعیم بخاری نے کہا کہ کیا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانا بے ایمانی ہے؟ اگر بے ایمانی ہے تو فائدہ اٹھانے والے سب بے ایمان ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 62،63 کے اطلاق کا طریقہ کار اور معیار کیا ہے؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آف شور کمپنیاں عموماً پیسے چھپانے اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں، عدالت اطمینان کرنا چاہتی ہے کہ لندن فلیٹ کا پیسہ پاکستان سے تونہیں گیا؟ پیسہ کہاں سے آیا اور ادائیگی کیسے ہوئی یہ عدالت کے سوالات ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ پبلک آفس ہولڈر کی ایمانداری کا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ ایف بی آر تمام معاملے کی چھان بین کررہا ہے،کرکٹ کلبز سے دستاویزات آرہی ہیں آئندہ سماعت سے قبل تمام دستاویزات جمع کروا دوں گا۔ 55 سے60 ہزار پاو¿نڈ کا مارگیج تھا مارگیج کی ادائیگی کے دستاویزات بھی موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سب کچھ ٹکڑوں میں ہی عدالت کو دیا جاتا ہے، ہوسکتا ہے مزید دستاویزات دینے کی اجازت نہ دیں آپ نے ہمیں مطمئن کرنا ہے فلیٹ کن پیسوں سے خریدااور ادائیگی کیسے ہوئی، ایک مدت بتادیں جس میں دستاویزات جمع ہوجائیں ، آپ کی کوشش ہونی چاہئے اگلے ہفتے میں دستاویزات جمع ہوجائیں۔

مزید :

قومی -