جب بیٹی گھر سے بھاگ جائے

جب بیٹی گھر سے بھاگ جائے
جب بیٹی گھر سے بھاگ جائے

  


ماں باپ اپنی اولاد کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ۔وہ سماجی اور مذہبی طور پر معاملات کو اپنی اولاد سے زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔سولہ سترہ سال کے لڑکے یا لڑکی کا ایسا تجربہ نہیں ہوتا کہ وہ ساری زندگی کو گزارنے کے لیے اپنی مرضی سے اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرلیں۔محبت، عشق نوجوان لڑکے لڑکیوں میں آج کل کھیل تماشہ بنا ہوا ہے۔چند دہائیاں قبل اُمرا ء کے ہاں یہ لوسٹوری والا کھیل کھیلا جاتا تھا۔ اور ایسا مڈل کلاس اور معاشی طور پر کمزور طبقات میں اِس طرح محبتیں پروان چڑھانا یا بھاگ کر شادی کرنا انتہائی معیوب تصور کیا جاتا تھا ۔ لیکن وطن عزیز میں موبائل فون ، کیبل ٹی وی اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے استعمال کی بہتات نے یہ بیماری اُمراء سے نکل کر اب غریب غرباء تک بھی پہنچ گئی ہے۔صرف لاہور کی فیملی کورٹ چلیں جائیں روزانہ کی بنیاد پر بے شمار کیسیز خُلہ کے لیے درج ہوتے ہیں ۔ اور خُلع لینے والی لڑکیوں کی کثیر تعداد اُن پر مشتمل ہوتی ہے جنہوں نے بھاگ کر شادی کی یا پسند کی شادی کی۔

ہمارے معاشرے میں سکول، مسجد اور گھر یہ تینوں اتنے اہم ادارے تھے لیکن موبائل فون کے استعمال کی بہتات سوشل میڈیا کیوجہ سے تینوں ادارے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔اور عورت جو کہ گھر کی عزت ہے وہ گھر کی دہلیز کو پار کرکے اپنی من پسند زندگی کی خاطر سماج کے سارئے رشتے تور دیتی ہے۔ لیکن اِس طرح ہونے والی شادیاں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔ چند دن پہلے لاہور میں غیرت کے نام پر ایک اور لڑکی درندگی کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔ لاہور کے علاقہ فیکٹری ایریا میں پسند کی شادی کرنے پر 18 سالہ لڑکی کو اسکی ماں نے بیٹے اور داماد سے ملکر گلا گھونٹنے کے بعد زندہ جلا دیاتھا۔وہ ایک ہفہ قبل گھر سے غائب ہوگئی تھی اور اپنے ہمسایہ نوجوان حسن سے عدالت میں پسند کی شادی کر لی جس پر اسکے گھر والے سخت خفا تھے۔

ایسی خبروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گھر جیسی جنت کو کس طرح دوزخ بنا دیا گیا ہے۔حتیٰ کے ایسے گروہ بھی سرگرم عمل ہیں جو شادی کا جھانسہ دے کر بعدازاں لڑکیوں کو بیرون ملک اسمگل کردیتے ہیں اور یوں ایسی لڑکیاں ساری زندگی گناہوں کی دلدل میں پھنسی رہتی ہیں۔چونکہ معاشرہ کے نفوس پذیری کے حامل افراد بھی اِس وقت ہوس زر کے عادی ہوچکے ہیں ۔ اِس لیے اخلاقیات والا شعبہ بانجھ ہو چکا ہے۔عزتیں نیلام ہورہی ہیں اور زندگی میں سے روحانیت امن چین سکون ناپید ہوتا جارہا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اپنی نئی نسل کو اندھے کنویں میں گرنے سے کیسے بچایا جائے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...