ہندو انتہا پسندوں کا گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں بی جے پی کے جنرل سیکرٹری پر تشدد

ہندو انتہا پسندوں کا گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں بی جے پی کے جنرل ...
ہندو انتہا پسندوں کا گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں بی جے پی کے جنرل سیکرٹری پر تشدد

  


ناگپور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں انتہا پسند ہندوﺅں نے گائے کا نام لے کر مسلمانوں پر زمین تنگ کر رکھی ہے اور آئے روز مسلمانوں کی شہادت کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بدھ کے روز بھی متعدد انتہا پسند ہندوﺅں نے گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں ایک 40 سالہ شخص کو مار مار کر ادھ موا کردیا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ جس شخص کو انہوں نے مارا ہے وہ تو بھارت کی سب سے بڑی انتہا پسند جماعت بی جے پی کے اقلیتی ونگ کا جنرل سیکرٹری ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز سلیم شیخ نامی شخص جلال کھیڑا کے علاقے میں اپنی موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اسی دوران متعدد افراد نے اس کا پیچھا کیا اور اس پر گائے کا گوشت لے جانے کا الزام عائد کرکے پکڑ کر تشدد شروع کردیا۔ پولیس کو جب اس واقعے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی سلیم کو ہسپتال منتقل کیا۔ علاج کے بعد جب سلیم کے ہوش بحال ہوئے تو اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ بی جے پی کے اقلیتی ونگ کا جنرل سیکرٹری ہے۔ یہ بات پتا چلتے ہی معاملے میں ٹال مٹول سے کام لینے کی کوششیں کرنے والی پولیس فوری طور پر متحرک ہوگئی اور 4 انتہا پسند ہندوﺅں کو گرفتار کرلیا۔

سلیم شیخ کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اس کے پاس گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا گوشت تھا کیونکہ وہ اپنی کمیونٹی کے ایک پروگرام کیلئے مارکیٹ سے سامان لینے گیا تھا جس میں بکرے کا گوشت بھی شامل تھا۔

ویڈیو دیکھیں

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں


loading...