ریمنڈ ڈیوس کیس میں دیت کی ادائیگی، منی ٹریل کیلئے عدالت سے رجوع کرلیاگیا

ریمنڈ ڈیوس کیس میں دیت کی ادائیگی، منی ٹریل کیلئے عدالت سے رجوع کرلیاگیا
ریمنڈ ڈیوس کیس میں دیت کی ادائیگی، منی ٹریل کیلئے عدالت سے رجوع کرلیاگیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاناما کیس میں منی ٹریل کا سلسلہ شروع ہوا جو اب ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور اب کی بارامریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے کیس میں اداکی گئی دیت کی رقم کی منی ٹریل کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی جس میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ، آرمی چیف اور وزیرداخلہ کو فریق بنایاگیا۔

ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں کیا کچھ لکھ ڈالا، اردو میں قسط وار پوری کتاب پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں طارق اسد ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ لاہورمیں دوافراد کے قتل کے بعد دیت کی 2.4ملین ڈالر(24کروڑ روپے تقریباً)کی رقم کس نے ادا کی ، یہ معلوم کرنا ہے کہ دیت کی رقم حکومت پاکستان کی طرف سے سرکاری فنڈمیں سے اداکی گئی ، نہ کہ ریمنڈڈیوس یا امریکی حکومت کی طرف سے جیسا کہ جاسوس نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے ۔ درخواست گزار نے وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے سیکریٹریز کو بھی فریق بنایا۔درخواست میں موقف اپنایا گیاکہ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور وزیرداخلہ رحمان ملک اس کے ذمہ دار ہیں، انتہائی حساس معاملات پر خفیہ پالیسی ختم ہونی چاہیے ۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ مقدمے کا مکمل ریکارڈطلب کیا جائے اور فیصلہ کیا کہ کس نے دیت کی رقم اور دیگر اخراجات ادا کیے ، اور تحقیقات کی روشنی میں ذمہ دارشخص کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ رحمان ملک سمیت دیگر ذمہ داران کیخلاف بھی کلیئرنس کے بغیر ویزہ جاری کرنے پر قانونی کارروائی کی جائے ۔

درخواست گزار کاکہناتھاکہ ریمنڈ ڈیوس ایک’ امریکی دہشتگرد‘تھا جسے وفاقی حکومت و دیگر فریقین نے ریسکیو کیا اور غیرقانونی طریقے سے مقتولین کے ورثاءکو دیت کی رقم اداکی، شمائلہ فہیم پر مسلسل دباﺅ تھا،وہ اس حد تک قومی اداوں سے مایوس تھی کہ خودکشی کرلی اور اس کی موت کے ذمہ دار فریقین ہیں ۔ اگر اسے ورثاءنے معاف کردیا تھاتو قاتل کو دیت کی رقم اداکرنا تھی لیکن حالیہ شائع ہونیوالی کتاب ’دی کنٹریکٹر‘ میں قاتل نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ شجاع پاشا کا کردار بے نقاب کیا۔ ریمنڈ ڈیوس کا موقف ہے کہ پہلے حکام نے اسے سفارتی استثنیٰ دینے کی کوشش کی لیکن بعد میں دیت کی ادائیگی کرکے رہاکرنے کا فیصلہ کیااور رہائی کیلئے آئی ایس آئی چیف، سی آئی اے سربراہ لیون پنیٹا، پاکستان کی سیاسی قیادت اور عدلیہ نے مدد دی ۔ امریکہ نے بھی بالآخر اعتراف کیا کہ ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کا اہلکار اور جاسوسی مشن پر تھاجبکہ ریمنڈ ڈیوس پاکستانی سیاستدانوں کو جھوٹا قراردے چکا ہے ۔

مزید :

قومی -