آدتیہ ناتھ یوگی خود اور اس کی تنظیم ’’دہشت گرد‘‘ہے،نریندرا مودی کے ترقی کے ایجنڈے کی جگہ ’’ہند و توا ‘‘ نے لے لی :نیو یارک ٹائمز

آدتیہ ناتھ یوگی خود اور اس کی تنظیم ’’دہشت گرد‘‘ہے،نریندرا مودی کے ترقی کے ...
آدتیہ ناتھ یوگی خود اور اس کی تنظیم ’’دہشت گرد‘‘ہے،نریندرا مودی کے ترقی کے ایجنڈے کی جگہ ’’ہند و توا ‘‘ نے لے لی :نیو یارک ٹائمز

  

نیو یارک(ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت کے انتہا پسند ہندو رہنماؤں کی مسلم دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،اترپردیش میںیوگی آدتیہ ناتھ جیسے متعصب ہندو جس پر مسلمانوں کے قتل عام سمیت فرقہ وارانہ تشدد کے کئی مقدمات درج ہیں کو نریندرا مودی کی جانب سے وزیر اعلیٰ نامزدکرنا ابھی تک عالمی سطح پر حیرانگی کا باعث بنا ہوا ہے ،امریکہ کے معروف اخبار ’’نیو یارک ٹائمز ‘‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق ’’نیو یارک ٹائمز ‘‘ میں ایلن بیری کے’’سیاسی سیڑھیاں چڑھتا ایک فائربرانڈ ہندو پجاری ‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اترپردیش کا وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ’’ ہندو یووا واہنی‘‘ نامی تنظیم کا سرغنہ اور یہ شدت پسند تنظیم  دہشت گردوں کا ایک جتھہ ہے  ۔مضمون میں لکھا ہے کہ ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست میں ایک ایسے شخص کو حکومت کرنے کے لئے منتخب کیا گیا ہے، جس کی تقریریں نفرت پر مبنی ہوتی ہیں، آدتیہ ناتھ کو زیادہ تر لوگ یوگی کہہ کر بلاتے ہیں، یوگی کی شناخت ایک مندر کے ’’مہنت ‘‘(بڑے پجاری )کے طور پر ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ یوگی کی شناخت ایک ایسے مندر کے پجاری کی حیثیت سے ہے ، جو اپنی شدت پسندی ہندتواودی روایت کے لئے جانا جاتا ہے۔یوگی نے مسلمان حکمرانوں کی طرف سے تاریخی غلطیوں کا بدلہ لینے کے لئے نوجوانوں کی ایک ذاتی فوج (ہندو یوا واہنی ) بنائی ہوئی ہے، جس کا مقصد دو ٹانگوں والے جانوروں (مسلمانوں) کی فصل کو روکنا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ایک انتخابی ریلی میں آدتیہ ناتھ  نے چلا کر کہا تھا کہ ہم سب مذہبی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ بھارت میں ترقی کی بات کہہ کر تین سال پہلے دہلی کے اقتدار پر قابض ہونے والے وزیر اعظم مودی کے ترقی کے ایجنڈے کی جگہ ہندوتوا نے لے لی ہے۔ اخبار کے مطابق ہندوستان کو ’’ہندو راشٹر ‘‘میں تبدیل کرنے کے لئے چلائی جارہی مہم نے مودی کے ترقی کے ایجنڈے کو ڈبو دیا ہے جبکہ ملک کے 17 کروڑ مسلمان اقتصادی اور سماجی حاشیہ پر چلے گئے ہیں۔واضح رہے کہ آدتیہ ناتھ یوگی کی ساری زندگی اور سیاست تشدد سے بھرپور رہی ہے ،وہ کھلم کھلا بھارت میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد فسادات کی سربراہی کرتے رہے ہیں جبکہ قتل، اقدام قتل ،اور فرقہ وارانہ فسادات کے کئی مقدمات میں بھی یوگی آدتیہ ناتھ نامزد ملزم ہیں ۔

مزید :

بین الاقوامی -