’گزشتہ برس مجھے کینسر تشخیص ہوگیا، روایتی علاج سے تنگ آکر میں بھارت چلی گئی، جہاں مجھے گائے کا پیشاب پلایا جاتا رہا اور پھر ۔۔۔‘ کینسر زدہ خاتون کے ساتھ پھر بھارت میں کیا کیا گیا؟ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

’گزشتہ برس مجھے کینسر تشخیص ہوگیا، روایتی علاج سے تنگ آکر میں بھارت چلی گئی، ...
’گزشتہ برس مجھے کینسر تشخیص ہوگیا، روایتی علاج سے تنگ آکر میں بھارت چلی گئی، جہاں مجھے گائے کا پیشاب پلایا جاتا رہا اور پھر ۔۔۔‘ کینسر زدہ خاتون کے ساتھ پھر بھارت میں کیا کیا گیا؟ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا میں ایک خاتون کو کینسر ہو گیا اور روایتی علاج سے جب افاقہ نہ ہوا تو وہ آیورویدک طریقے سے علاج کروانے کے لیے بھارت چلی آئی جہاں اسے علاج کے نام پر ایک ایسی چیز پلائی جاتی رہی کہ سن کر ہی آپ کو کراہت ہونے لگے گی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق روزلین مک ماسٹر نامی یہ 54سالہ خاتون آسٹریلوی شہر برسبین کی رہائشی ہے۔ اسے انتڑیوں کا کینسر ہوا جسے ڈاکٹروں نے خطرناک قرار دے دیا۔ کیموتھراپی اور سرجری کے باوجود جب مرض قابو میں نہ آیا تو وہ دیسی طریقہ علاج کے لیے بھارت چلی آئی۔

آدمی کا گلا خراب، اسے معمولی زکام سمجھتا رہا، لیکن پھر اچانک آنکھوں سے ایسی چیز ٹپکنے لگی کہ پیروں تلے زمین نکل گئی، دراصل کیا ہوا تھا؟ جان کر ہر شخص گھبراجائے

رپورٹ کے مطابق بھارت میں اسے علاج کے نام پر روزانہ گائے کا پیشاب پلایا جاتا رہا۔ روزلین نے بتایا کہ کافی تلاش کے بعد وہ بھارتی ریاست کیرالہ کے ضلع ویانڈا کے ایک دورافتادہ گاﺅں میں کی ایک علاج گاہ میں چلی گئی۔ اس گاﺅں میں 2ہفتے کے قیام پر 3ہزار آسٹریلوی ڈالر (تقریباً2لاکھ 44ہزار روپے) خرچ آتا ہے۔ علاج گاہ میں اسے گائے کا پیشاب پلانے کے ساتھ ساتھ روزانہ برہنہ کرکے گائے کے پیشاب سے اس کے پورے جسم پر مساج بھی کیا جاتا رہا۔ علاج کے پہلے چار دن اسے غذا کے طور پر گرم گھی میں 30جڑی بوٹیاں ڈال کر دی جاتی رہیں۔ اس کے بعد قے کروانے، اسہال کروانے جیسے افعال بھی علاج کا حصہ تھے۔ علاج کے اگلے مرحلے میں 20دن تک روزانہ دو وقت گائے کا پیشاب پلایا جاتا رہا، جس میں جڑی بوٹیاں ابلی ہوتی تھیں۔ اس سب کے بعد حیران کن طور پر روزلین کا کہنا ہے کہ اب وہ پہلے سے بہتر محسوس کرتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -