پی آئی اے کی ان ایئرہوسٹس کی تصویر آپ نے انٹرنیٹ پر تو دیکھی ہی ہو گی ،اب انہوں نے خاموشی توڑ دی ،ایسی بات کہہ دی کہ آپ بے اختیار داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے

پی آئی اے کی ان ایئرہوسٹس کی تصویر آپ نے انٹرنیٹ پر تو دیکھی ہی ہو گی ،اب ...
پی آئی اے کی ان ایئرہوسٹس کی تصویر آپ نے انٹرنیٹ پر تو دیکھی ہی ہو گی ،اب انہوں نے خاموشی توڑ دی ،ایسی بات کہہ دی کہ آپ بے اختیار داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پی آئی اے کی ایئر ہوسٹس صبیرا کی تصویر سوشل میڈاپر شیئر کی گئی تو کافی لوگوں نے ان کی عمر اور خوبصورتی کو نشانہ بنایاتا ہم اس پر پی آئی اے نے بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنی ایئرہوسٹس کا مکمل دفاع کیا جبکہ باشعور پاکستانیوں نے ایئرہوسٹس کو تنقید کانشانہ بنانے والوں کی خوب سرزنش کی۔

تفصیلات کے مطابق 32سال قبل 19سالہ لڑکی کیلئے یہ فیصلہ لینا مشکل تھا کہ وہ میڈیکل سکول میں داخلہ لے یا پھر وہ ایئرہوسٹس کا شعبہ اپنا کر پوری دنیا کی سیر کرے ،توصبیرا نے پی آئی اے میں شمولیت اختیار کی ۔

ان کا کہناہے کہ آج میرے تمام دوست ڈاکٹرز ہیں اور بہت امیر ہیں لیکن مجھے آج بھی اپنے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ،میں نے دنیا کے نہایت خوبصورت شہروں کو دیکھاہے ،مجھے اپنے کام سے محبت ہے ،میں ہر روز کچھ نیا سیکھتی ہوں ۔

صبیرا چونکہ اپنی مصروفیت کے باعث سوشل میڈیا پر زیادہ ایکٹو نہیں ہیں اور انہیں اس بارے میں معلوم بھی نہیں تھا کہ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر گھوم رہی ہیں تاہم انہیں ان کی ایک دوست نے اس حوالے سے آگا ہ کیا۔صبیرا نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہو ں نے اپنی تصویر پر کیے جانے والے کمنٹس دیکھے تو وہ بہت حیران ہوئیں، انہوں نے پہلی بات یہ سوچی کہ اس سب نے میری نوکری پر سوال اٹھا دیاہے ،انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا ان باتوں نے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ۔

صبیرا کا کہناتھا کہ میں بہت زیادہ پریشان تھی اور راتوں کو سو نہیں پاتی تھی ۔صبیر ا کو ان سب سے کتنا دکھ پہنچا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ جب وہ یہ سب بتا رہی تھیں تو ان کی آواز لڑکھڑا رہی تھی یعنی وہ بے حد پریشان تھیں ۔

صبیرا کاکہناتھا کہ میں نے اپنا کیرئر بنانے کیلئے زندگی کے کئی اہم ترین سال سخت محنت کی اور آج سینئر پوزیشن حاصل کی ،میں اپنے کام میں بہت اچھی ہوں اور میرے پاس کہیں اور جانے کی کوئی مضبوط وجہ بھی نہیں ہے ،میرا تجربہ ایک اثاثہ ہے اور اسی وجہ سے ادارہ مجھے مکمل حمایت فراہم کر رہاہے۔

صبیرا یہ نہیں سوچتیں کہ ان کی عمر کا ان کا ان کی کارکردگی سے کوئی تعلق ہے بلکہ وہ محسوس کرتی ہیں کہ اتنے سالوں میں وہ اپنے آپ میں مزید بہتری لے کر آئی ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ بہت سارے مسافر حفاظت کو ترجیح نہیں دیتے اور وہ کیبن کریو کو صرف آنکھوں کی ’ٹھنڈک‘ سمجھتے ہیں ،ہم تربیت یافتہ پیشہ ور لوگ ہیں اور اس لیے احترام کا حق رکھتے ہیں ۔

صبیرا نے بارہ جماعتیں پاس کرنے کے بعد ایئر ہوسٹس کی ٹریننگ شرو ع کر دی تھی ،انہوں نے بتایا کہ ان دنوں پی آئی اے میں شمولیت حاصل کرنے سے زیادہ کوئی بھی چیز کشش نہیں رکھتی تھی ۔صبیرا کا کہناتھا کہ وہ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والی ایک سادہ سی لڑکی تھیں اور اس کیلئے نامزد ہونا ان کیلئے باعث فخر ہے ۔

صبیرا کا کہناتھا کہ انہیں دنیا گھومنے کا شوق تھا اور ان کی پہلی انٹرنیشنل فلائٹ بھی کراچی سے قاہرہ کی تھی۔ صبیرا نے بتایا کہ مجھے آج بھی یہ کل کی بات ہی محسوس ہوتی ہے ،اس وقت میں پریشان بھی تھی اور حیران بھی کیونکہ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں آخر کار ملک سے باہر جار ہی ہوں ۔ان کا کہناتھا کہ مجھے سب سے زیادہ مزہ نیویارک جانے میں آ تاہے کیونکہ پوری دنیا میں اس جیسا شہر نہیں ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -