دریا کے پانی میں آگ لگ گئی، یہ کیسے ہوگیا؟ اصل حقیقت جان کر ہر شخص پریشان ہوجائے

دریا کے پانی میں آگ لگ گئی، یہ کیسے ہوگیا؟ اصل حقیقت جان کر ہر شخص پریشان ...
دریا کے پانی میں آگ لگ گئی، یہ کیسے ہوگیا؟ اصل حقیقت جان کر ہر شخص پریشان ہوجائے

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) آپ نے ’آگ کا دریا‘ کسی طلسماتی کہانی یا فلم میں تو ضرور دیکھا ہوگا لیکن امریکی ریاست وایومنگ کے علاقے ورلنگ میں شہریوں کو دہکتے شعلوں کا اصلی دریا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا پڑگیا۔

ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اس خوفناک منظر کی ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں دور دور تک شعلے بھڑکتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ فائر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کو 7 جولائی کے روز مقامی لوگوں نے آگ کے متعلق خبردار کیا تھا۔

وہ شہر جو خدا کے عذاب کے باعث تباہ ہوگیا لیکن اب اس کے کھنڈرات سے سائنسدانوں کو ایک شخص کی لاش ایسی حالت میں مل گئی کہ دنیا کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوگئی

ا ہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک واقعہ ایک پرانی کیمیکل فیکٹری کی چھوڑی ہوئی سلفر دھات کی بہت بڑی مقدار کی وجہ سے پیش آیا ہے، جس نے کسی وجہ سے آگ پکڑلی اور اب وسیع و عریض علاقے میں شعلے بھڑک رہے ہیں۔ سلفر دھات کے جلنے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ گیس بھی پیدا ہورہی ہے جس کی ناقابل برداشت بدبو نے مقامی لوگوں کیلئے سانس لینا مشکل بنادیا ہے۔ جب سے یہ آگ بھڑکی ہے لوگوں کو سانس کی تکالیف کا بھی سامنے کا جبکہ پھیپھڑوں اور جلد کے مسائل بھی عام دیکھنے میں آرہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر کیمیکل کے جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیس براہ راست آنکھوں میں پڑنے سے بینائی بھی ضائع ہوسکتی ہے۔

فائر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کیمیکل فیکٹری تو بہت عرصہ قبل ہی بند ہو گئی تھی لیکن اس کے بند ہونے کے بعد سلفر اور دیگر کیمیکلز کی بھاری مقدار ملبے کی صورت میں پڑی رہی، جس نے کسی وجہ سے چند روز قبل آگ پکڑ لی۔ مقامی میڈیا کے مطابق ٹیکساس گلف سلفر پلانٹ نامی فیکٹری 1950ءکی دہائی میں اس علاقے میں سالانہ ہزاروں ٹن کیمیکل تیار کرتی تھی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -