پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس،شہبازشریف کی نااہلی کیلئے تحریک انصاف کے ریفرنس کی مکمل حمایت

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس،شہبازشریف کی نااہلی کیلئے تحریک ...

  

لاہور (پ ر )پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا ہنگامی اجلاس،پانامہ کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال،وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف سے استعفے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور جبکہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ قائداعظم اور جماعت اسلامی نے شہباز شریف کی نا اہلی کیلئے تحریک انصاف کے ریفرنس کی مکمل حمایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزپنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید کی زیر صدارت اپوزیشن کی جماعتوں کا اہم اجلاس ہوا،اجلاس میں پانامہ کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں جماعت اسلامی سے ڈاکٹر سید وسیم اختر، مسلم لیگ قائداعظم سے وقاص حسن موکل جبکہ تحریک انصاف سے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر مراد راس، وحید اصغر ڈوگر، شنیلا روتھ نے شرکت کی۔

اجلاس میں پنجاب میں مکمل و جاری منصوبوں اور سکیموں میں کرپشن، مالی بدعنوانیوں،جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد، وزراءاور حکومتی شخصیات کی اہم ملکی اداروں پرتنقید سمیت اہم قومی و صوبائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف سے استعفے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف میاں محمودالرشید نے کہا کہ پانا مہ دستاویزات کی تحقیقات کیلئے بننے والی جے آئی ٹی رپورٹ میں واضح ہے کہ وزیراعظم اور انکا خاندان بیرون ممالک میں موجود اپنے اثاثہ جات کے حوالے سے منی ٹریل پیش نہ کر سکا، رپورٹ میں وزیراعظم کی آف شور کمپنی کا بھی انکشاف کیا ،کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر بھی حکمران خاندان اپنی صفائی میں کوئی ثبوت نہ پیش کر سکا نیز رپورٹ میں واضح ہے کہ وزیراعظم کی اپنے اثاثہ جات سے متعلق قومی اسمبلی میں تقریر ، قوم سے خطاب اور پھر عدالت میں موقف میں یکسانیت نہیں ہے، اس طرح وزیراعظم آئین پاکستان کی شق62-63 کے تحت صادق اور امین نہیں۔

میاں محمودالرشید نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف حدیبیہ پیپرز ملز سکینڈل کے مرکزی کردار ہیں، وزیراعلیٰ نے اپنے خاندان کو فائدہ دلانے کیلئے شوگر ملوں کی غیر قانونی منتقلی کا حکم دیا جو توہین عدالت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے حلف سے روگردانی بھی ہے، اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب پانامہ کیس میں بطور ملزم پیش ہوئے جس پر عدالتی میں مقدمہ زیر سماعت ہے ، لہٰذا وزیراعلیٰ کا بھی اپنے عہدے پر رہنے کا آئینی وقانونی جواز باقی نہیں رہا ، اس لئے تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے فوری طور پرمستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

میاں محمودالرشید نے مزید کہا کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ قائداعظم اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ز نے جے آئی ٹی کی رپورٹ سے قبل اور بعد میں وزیراعظم،وزیراعلیٰ سمیت اہم حکومتی شخصیات اور وزرا کی سپریم کورٹ کے زیر اہتمام تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی سمیت اہم ملکی اداروں کیخلاف سازش،بے جا تنقید پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور متفقہ طور پر اسے جمہورت کے منافی اقدام قرار دیا۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے ڈاکٹر وسیم اختر اور مسلم لیگ قائداعظم کے وقاص حسن موکل نے کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ ن ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے سپریم کورٹ پر حملے جیسا مکروہ فعل سرانجام دے چکی ہے، اب بھی حکمران جماعت کی جانب سے سخت اشارے دیئے جارہے ہیں جس سے ملک میں شدید بدامنی اور جمہوریت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، لہذا تمام سیاسی جماعتیں اور پوری قوم ایسے عزائم کوناکام بنانے کیلئے تیار ہے اور حکمرانوں کو کسی صورت جمہوریت یا ملکی اداروں کیخلاف گھناونا کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

ایک سوال کے جواب میں میاں محمودالرشید نے کہا کہ عوام کو حکومتی عزائم سے آگاہ رکھنے کیلئے آگاہی مہم چلائی جائیگی اور آج سے ہی ایوان سے باہر کی جماعتوں عوامی تحریک، مجلس وحدت المسلمین، مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور وکلائ سے رابطے کئے جائیں گے۔

مزید :

لاہور -