بے ہنگم انڈسٹریل زونز اور ماحولیاتی تغیر کا سبب ہیں ،پانی اور فضائی آلودگی کا مسئلہ گھمبیر صورتحال اختیار کرسکتا ہے : چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

بے ہنگم انڈسٹریل زونز اور ماحولیاتی تغیر کا سبب ہیں ،پانی اور فضائی آلودگی ...
بے ہنگم انڈسٹریل زونز اور ماحولیاتی تغیر کا سبب ہیں ،پانی اور فضائی آلودگی کا مسئلہ گھمبیر صورتحال اختیار کرسکتا ہے : چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کا گرین کورٹس سے متعلق دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اکانومی کا زیادہ انحصار قدرتی وسائل اور زراعت پر ہے اور اس وقت موسمی تغیرات سے زراعت اورہمارے قدرتی وسائل بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

بعض عناصر سی پیک کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں،ماضی میں حکومتوں کو گرانے کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے: احسن اقبال

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علیٰ شاہ نے کہا ہے  کہ بے ہنگم انڈسٹریل زونز اور نقل مکانی ماحولیاتی تغیر کا سبب بن رہی ہے جس سے آنے والے وقت میں پانی کا مسئلہ اور فضائی آلودگی گھمبیر صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین کورٹ ججز کو ماحولیاتی معاملات پر باریک بینی سے نظر رکھنا ہوگی، ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی آنے والی نسلوں کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوگی، ماحولیاتی تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تغیر میں پاکستان کا کوئی زیادہ ہاتھ نہیں لیکن پاکستان ماحولیاتی تغیر اور آلودگی سے شدید متاثر ہے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ کس طرح ان مسائل سے نمٹ سکتے ہیں۔ ماحولیاتی قوانین کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کےلئے موثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور ہم ایک نئی اصطلاح "ماحولیاتی انصاف" متعارف کروا چکے ہیں، فیصلہ کرتے وقت ہمیں ذہن میں رکھنا ہوگا کہ پورے مقدمے میں ایک خاموش پارٹی بھی موجود ہے جس کا نام ماحول ہے اور وہ انصاف کا متلاشی ہے، ہمیں ماحول کے ساتھ ناانصافی نہیں کرنی ہے۔

فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں 36 سینئر سول ججز بطور گرین کورٹس ججز کام کر رہے ہیں قائم ہیں اور کریمینل سائیڈ پر بھی اس حوالے سے مقدمات سنے جا رہے ہیں لیکن یہ امر باعث افسوس ہے کہ گرین کورٹس کی کارکردگی متاثر کن نہیں، 2012 ءکے بعد سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جبکہ ماحولیاتی قوانین کے تحت گرین کورٹس میں 1627 مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین کورٹس میں ٹول کٹ لا، سٹیچوری لا اور لا آف ٹورٹ کے استعمال کی اشد ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے، ماحویاتی قوانین کے ساتھ ساتھ گرین کورٹس میں جدت کی ضرورت ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ تیزی سے آنے والے ماحولیاتی تغیرات کی وجہ سے انسانی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے آئندہ نسلوں ہم پر منحصر ہے، اگر ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر رہے تو ہمارا مستقبل خطرے میں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سول مقدمات میں بھی ماحولیاتی پہلوﺅں کو نظر انداز نہ کیا جائے اور پنجاب جوڈیشل اکیڈمی سول سائیڈ پر بھی ماحولیاتی قوانین سے آگہی کی ورکشاپس کا اہتمام کرے، گرین کورٹس اپنے فیصلے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کو بھیجیں تاکہ عوامی رہنمائی کےلئے ویب سائٹ پر آویزاں کئے جا سکیں۔

منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ادارہ ماحولیاتی تحفظ کو بھی آزاد بنایا جائے، انورنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اکیلے ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتی۔ چیف جسٹس نے شرکاءکو ہدایت دی کہ ماحولیات سے متعلق مقدمات کو فاسٹ ٹریک پر چلایا جائے، ایسے مقدمات کی نشاندہی کےلئے سبز رنگ کی فائلز اور کاغذ استعمال کیا جائے۔ دو روزہ گرین کورٹس ورکشاپ میں 33 گرین کورٹ ججز اور انورنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹرز نے شرکت۔ ورکشاپ میں جسٹس علی باقر نجفی جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس فیصل زمان خان نے لیکچرز دیئے۔ جبکہ چیئرمین پنجاب ماحولیاتی ٹریبونل جسٹس (ر) محمود مقبول باجوہ بھی شریک تھے۔فاضل چیف جسٹس نے ورکشاپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں اور اکیڈمی کی جانب سے ورکشاپ میں لیکچرز دینے والے جج صاحبان اور ماہرین کو شیلڈز دیں جبکہ اکیڈمی کی جانب سے چیف جسٹس کو بھی سوونیئر پیش کیا گیا۔

مزید :

لاہور -