انتظامیہ حکومتی منصوبوں کے نام پر شہریوں کی جدی پشتی جائیدادیں ہتھیا کر ان کے ساتھ فقیروں جیسا سلوک کر رہی ہے: ہائی کورٹ

انتظامیہ حکومتی منصوبوں کے نام پر شہریوں کی جدی پشتی جائیدادیں ہتھیا کر ان ...
انتظامیہ حکومتی منصوبوں کے نام پر شہریوں کی جدی پشتی جائیدادیں ہتھیا کر ان کے ساتھ فقیروں جیسا سلوک کر رہی ہے: ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے  شہری کے درخواست کے دوران ریمارکس  دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ حکومتی منصوبوں کے نام پر شہریوں کی جدی پشتی جائیدادیں ہتھیا کر ان کے ساتھ فقیروں جیسا سلوک کر رہی ہے ،یہ ظلم ہے،حکومتی منصوبوں کے نام پر حاصل کی جانے والی ارضی کے معاوضے کی ادائیگیوں کی بجائے شہریوں کومتبادل زمین فراہم کی جانی چاہیے۔

بعض عناصر سی پیک کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں،ماضی میں حکومتوں کو گرانے کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے: احسن اقبال

سعد حسن نامی شہری نے  عدالت کو بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سڑک کی تعمیر کے لئے حاصل کی جانے والی اراضی کا معاوضہ ادا نہیں کیا نہ ہی انہیں متبادل زمین فراہم کی جا رہی ہے۔بورڈ آف ریونیو کے سپرنٹنڈنٹ فرحت شاہ نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے تحت ایکوائر کی جانے والی نجی اراضی کے متبادل سرکاری اراضی فراہم نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ ممبر بورڈ آف ریونیو کی مصروفیت کی بناءپر تفصیلی جواب داخل نہیں کرایا جا سکا۔سپرنٹنڈنٹ بورڈ آف ریونیو فرحت شاہ کے مبہم جواب داخل کرنے پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں ممبر بوڈ آف ریونیو کی دستیابی کی پابند نہیں،شہریوں کی زمین ایکوائر کر کے انہیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے حکومت کا اس سے بڑا ظلم کیا ہے،جدی پشتی زمینیں رکھنے والے عدالتوں کے دھکے کھاتے پھرتے ہیں،اگر آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش نہ کی گئی تو سیکرٹری کالونیز کو عدالت میں طلب کیا جائے گا،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28ستمبر تک ملتوی کر دی۔

مزید :

لاہور -