کپاس کے پودوں کو بارش کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے حکمت عملی جاری کر دی

کپاس کے پودوں کو بارش کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے حکمت عملی جاری کر دی

لاہور(کامرس رپورٹر ) ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق زیادہ بارشیں کپاس کیلئے فائدہ مند نہیں ہوتیں کیونکہ بارشوں کی صورت میں کپاس کے پودوں کی غیر ثمر دار بڑھوتری میں تیزی آجاتی ہے جبکہ کپاس کے کھیتوں کے اندر اور باہر کئی نظر انداز جگہوں پر جڑی بوٹیوں کی بھر مار ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں نقصان رساں کیڑوں کی تعداد بھی بہت تیزی سے بڑھتی ہے، مسلسل بارشوں کی صورت میں کپاس کے کیڑوں پر قابو پانے کیلئے بھی زیادہ توجہ اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، بارشوں کے موسم کی ابتداء میں کپاس کے کاشتکاروں کی راہنمائی کیلئے کپاس کی فصل پر بارش کے امکانی خطرات کو کم کرنے کی تدابیر فراہم کی جاتی ہیں، ترجمان نے کہا کہ بارش کا پانی کھیت میں اگر24 گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔

اور اگر پانی 48گھنٹوں تک کھڑا رہے تو پودے مرجھانا شروع کردیتے ہیں، کپاس کی فصل کو زیادہ پانی کے نقصان سے بچانے کیلئے کھیت میں کھڑا پانی کسی خالی نشیبی کھیت میں نکال دیا جاتا ہے، ایسے میں اگر قریبی کھیت میں کماد کی فصل موجود ہو اور اس میں پانی ڈالا جا سکتا ہو تو کپاس کا اضافی پانی اس کھیت میں ڈال دیں، اگر پانی کپاس کے کھیت سے باہر نہیں نکالا جا سکتا تو کھیت کے ایک طرف لمبائی کے رخ کھائی کھود کر پانی اس میں جمع کردیا جاتا ہے،زیادہ پانی کی وجہ سے کپاس کے پودوں کی جڑیں کام کرنا بند کردیتی ہیں، اس لئے اگر فصل زردی مائل ہوجائے تو کھیت سے پانی نکالنے کے بعد زمین وتر آنے کی صوررت میں اس پر یوریا کا ۱ سے2فیصد محلول اسپرے کریں، تاکہ پودوں کی نشوونما دوبارہ شروع ہوجائے، بارشوں سے پیدا ہونے والی نمی کی وجہ سے کپاس پر رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً جیسڈ کا حملہ بڑھ جاتا ہے اس لئے کپاس کی فصل میں رس چوسنے والے کیڑوں کی ہفتے میں دو بار پیسٹ اسکاؤٹنگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کے علاقوں میں نمی کے باعث کپاس کے ٹینڈوں پر سنڈیوں کا حملہ بڑھنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ ا

مزید : کامرس