آنحضورؐ کی چند تعلیمات۔۔۔! محمد علیم نظامی

آنحضورؐ کی چند تعلیمات۔۔۔! محمد علیم نظامی

آنحضورؐ کا ارشاد مبارک ہے مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آنحضورؐ کے منہ مبارک سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچائی کا آئینہ دار ہے۔ آپؐ نے جب ایسے لوگوں کو دیکھا کہ جو مذہب اسلام سے تعلق رکھتے تھے مگر پھر بھی ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑے کرنے، ایک دوسرے کو گالیاں دینے میں آگے تھے چنانچہ حضورؐ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کو منع فرمایا، اور ان پر واضح کر دیا کہ اگر کبھی ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کے ساتھ لڑائی جھگڑا کیا تو وہ اُمت محمدؐ سے اپنے آپ کو خارج سمجھے۔

زمانۂ جاہلیت میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوتے تھے۔ چھوٹا اپنے بڑوں کی عزت نہیں کرتا تھا اور بڑا اپنے سے چھوٹوں سے پیار نہیں کرتا تھا چنانچہ اللہ تعالٰی نے حضورؐ کو یہ اختیار دیا کہ وہ اَن پڑھ اور جاہلوں کو سمجھائیں کہ نہ تو وہ ایک دوسرے سے لڑیں اور نہ ہی اپنے سے چھوٹے یا بڑے آدمی کو گالیاں دیں۔

اسلام ایک مہذب اور دین سے محبت کرنے والا مذہب ہے۔ اس میں کسی قسم کی گالی دینا، ایک دوسرے سے نفرت کرنا اور لڑنے مرنے پر اتر آنا اور دلوں میں کدورت رکھنا انتہائی غلیظ اور برا فعل ہے۔ اللہ تعالٰی اس شخص سے ناراض ہوجاتے ہیں جو اپنے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان بھائی کو برا کہے یا مغرور وتکبر کہے یا کوئی تکلیف دے۔ غرور کرنے والا اللہ تعالٰی کو پسند نہیں۔ اچھے ذہن کے لوگ جلد سیدھے راستے پر آجاتے ہیں۔ جو لوگ مغرور ہوتے ہیں اللہ تعالٰی انہیں پسند نہیں کرتے اور انہیں مختلف طریقوں سے انہیں سبق سکھاتے رہتے ہیں۔ اس لئے تو کہتے ہیں کہ اللہ مغرور لوگوں کو دوست نہیں رکھتے اللہ تعالٰی جس شخص کو نیکی کی ہدایت دیتے ہیں اسکے لئے اتنی آسانیاں پیدا کردیتے ہیں کہ اس شخص کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کب اس نے نیک کام کیا جن کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہونے کا حقدار بن گیا۔

امیر اور غریب میں فرق ہی یہ ہے کہ امیر لوگ اس لئے مغرور بن جاتے ہیں کہ زندگی گذارنے کی زیادہ تر اثرات اس پر ظاہر ہوتے ہیں اور جو شخص غریب ہوتا ہے وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا اور محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ اس سے اللہ تعالٰی خوش ہوتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ’’محنت کرنے والا مزدور جب اپنے ہاتھوں سے سارا دن محنت و مشقت کرتا رہتا ہے اور شام کو جب گھر پہنچتا ہے تو اسکے ہاتھوں میں کچھ پیسے ہوتے ہیں جہنیں خرچ کرکے وہ روٹی سالن کا انتظام کرتا ہے اور اسکے بیوی بچے اور وہ خود اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہوئے رات کو سکھ کی نیند سوتے ہیں اور اگلی صبح کا انتظار کرتے ہوئے پیٹ بھر کر نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

والدین اگر محنت مزدوری کرتے ہوں تو ان کے بچے بھی یہی کام انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر والدین بڑی آسامی ہوں اور ان کی تعلق امیر فمیلی سے ہوتو بچے عیش وعشرت سے اپنی زندگی کو سکون اور اچھے سانچے میں ڈھال لیتے ہیں۔ امیر لوگوں کوچاہئے کہ وہ اپنے سے کم تر اور غریب لوگوں کو نظر انداز نہ کریں اور جس حد تک ممکن ہوسکے ان کی مالی اور اخلاقی مدد کرتے رہیں تاکہ زندگی آسانی اور آرام دہ طریقے سے گذرسکے۔ آنخصورؐ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ آپؐ اللہ کے آخری بنیؐ تھے۔ آپؐ کی عمر 63 برس رہی مگر 40 سالوں تک آنخصورؐ مبلغ اسلام کی حیثیت سے مسلمانوں کی فلاح وبہود کے کام اور ان کی خدمت میں مصروف رہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی خصورؐ کے صدقہ میں ہم تمام مسلمانوں کو ایک، نیک اور متحد بنادے اور اتحادواتفاق سے زندگی گذارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید : ایڈیشن 1