وقت کی قدرکرنا سیکھئے !

وقت کی قدرکرنا سیکھئے !

ہر کھوئی ہوئی چیز دوبارہ مل سکتی ہے، ہاری ہوئی بازی جیتی جا سکتی ہے، لیکن وقت جو بیت جائے اس کے لوٹنے کی توقع عبث ہے۔ اسی لئے انسان کی تمام ملکیتوں میں وقت سب سے زیادہ قدر و قیمت کا حامل ہے اور اسے اپنے ایام اور وقت کا اسی طرح استعمال کرنا چاہیے جیسے کوئی حریص اپنی دولت استعمال کرتا ہے۔ وہ تھوڑی سی دولت کے استعمال میں بھی لاپرواہی نہیں برتتا اور اس کے آگے تمام چیزوں کو ہیچ اور ناقابل اعتنا خیال کرتا ہے۔

ہم میں سے کوئی شخص جب اپنی موجودگی کا احساس کرتا ہے اور گزرے ہوئے دنوں پر ایک نظر ڈالتا ہے تا کہ ماہ و سال کا شمار کرے تو اس کی یہ سوچ اور فکر زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی، اس لئے کہ اسے اپنے اوقات کا صحیح انداز نہیں ہوتا۔ پھر دن اور مہینے گزر جاتے ہیں اور بیتے ہوئے دنوں کے حادثات و واقعات اکٹھے ہو جاتے ہیں تو معلوم ہونے لگتا ہے کہ جیسے پوری عمر ایک دن میں ختم ہو گئی اور سارے حادثات ایک ہی دن میں پیش آگئے۔

عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

یہ تو اس دنیا میں اسے احساس ہوتا ہے لیکن قیامت کے دن جب حساب کتاب ہوگا تو اس وقت اس کی کیا حالت ہوگی؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

’’جس روز اللہ ان کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دنیا کی زندگی انہیں ایسی محسوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھہرے تھے۔ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ ’’دنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے۔‘‘ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ) اس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی۔ (طہٰ: 103۔104)

’’جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (دنیا میں یا حالت موت میں) یہ بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں۔‘‘

یہ احساس بڑا مبارک ہے اور جن لوگوں کو اپنی اصل حقیقت معلوم ہے یعنی یہ کہ وہ مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور مٹی ہی میں جانا ہے، انہیں یہ احساس مضطرب کر دے گا اور یہ بڑا سچا اور صحیح احساس ہے، بشرطیکہ دنیاوی زندگی کا آخرت کی زندگی سے مقابلہ کیا جائے۔ لیکن یہی احساس ان لوگوں کے لئے ضلالت و گمراہی اور مکر و فریب کا موجب بن جاتا ہے جن پر صبح و شام گزر جائیں، ماہ و سال ختم ہو جائیں لیکن ان کی عیش کوشی و تن آسانی اور شکم پروری میں کوئی فرق نہ آئے۔ وہ اپنے ماضی حال اور مستقبل سے بے خبر پوری عمر گزار دیں اور جب عالمِ نزع طاری ہو، آنکھیں پتھرانے لگیں اور موت کی تاریکی مسلط ہونے لگے تو یکدم جھجک کر بیدار ہو اٹھیں اور ہنگامہ و واویلا شروع کر دیں۔ ظاہر ہے کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت۔

ایک سچا مسلمان وقت کی بہت زیادہ قدر وقیمت کرتا ہے، اس لئے کہ وقت ہی اس کی عمر ہوتی ہے، اگر اسے ضائع ہونے دے گا اور بربادی سے نہیں بچائے گا تو گویا خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلائے گا۔

انسان تیزی سے اللہ کی طرف دوڑ رہا ہے، فلک کی ہر گردش جو ایک نئی صبح لے کر آتی ہے، اس راستے کا ایک مرحلہ ہوتی ہے، جس کو کہیں استقرار اور ٹھہراؤ نہیں۔ کیا عقلمندی یہ نہیں کہ انسان اس حقیقت کو فراموش نہ کر دے اور اسے ہمیشہ اپنی نگاہوں کے سامنے رکھے، ماضی و مستقبل پر اس کی نظر رہے۔ یہ تو محض فریب نظر ہے کہ ٹرین پر بیٹھنے والا یہ تصور کرے کہ سامنے کی ساری چیزیں دوڑ رہی ہیں اور وہ خود ایک جگہ بیٹھا ہوا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ زمانہ انسان کو لے کر اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے، اسے چھوڑ نہیں سکتا۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو وقت کی اہمیت اور زمانے کی قدر و قیمت کو پہچانتا ہے، وہ اس بیش قیمت نصیحت کی تاکید کرتا ہے ’’وقت تلوار کی مانند ہے، اگر تم اسے نہیں کاٹو گے تو وہ تمہیں کاٹ لے گی۔‘‘ وہ ایمان کی دلیل اور تقویٰ کی نشانی یہ قرار دیتا ہے کہ انسان اس حقیقت کو سمجھ لے اور اس کی رہنمائی میں سفر زندگی طے کرے۔‘‘

جو لوگ مستقبل سے بے خبر، حال میں مست اور دنیوی زندگی کی چمک دمک سے مسحور رہتے ہیں، انہیں اسلام نے نقصان اٹھانے والے اور بے وقوف قرار دیا ہے۔

اسلام نے اپنی تمام اہم عبادات کو دن کے مختلف حصوں اور سال کے مختلف موسموں میں تقسیم کر دیا ہے۔ پانچ وقت کی نمازیں پورے دن پر محیط ہیں اور ان کے اوقات دن کی رفتار کا ساتھ دیتے گئے ہیں۔ جبرئیل آسمان سے نازل ہوئے تا کہ آغاز و اختتام کے اوقات کا تعین کر دیں جس کے ذریعہ اسلامی زندگی کو ترتیب دینے والا ایک محکم نظام وجودمیں آ سکے، چنانچہ طلوع فجر سے رات تک کے مختلف اوقات تسبیح و عبادات میں بانٹ دئیے گئے۔

’’پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو، آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جب کہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔‘‘ (روم: 17۔18)

محدود نظریں زمانے کے محسوس مظاہر اور محدود آثار پر رہی جاتی ہیں، وہ زمانے کے حادثات و واقعات اور خوشی و غمی تک محصور ہوتی ہیں جب کہ زمانہ جو متکبروں کی ناک سیدھی کرتا ہے، آرزوؤں اور تمناؤں کا خون کر دیتا ہے اور کتنی ہی تہذیبوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے، جس کے نوادرات و عجائبات کے سامنے انسان حیران و ششدر رہ جاتے ہیں، وہ خود ہوشمندوں کو ہشیار کرتا ہے کہ خیر و معروف کے کاموں میں آگے بڑھیں اور نافع اعمال کا ذخیرہ اکٹھا کریں۔

’’بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور چمکتا چاندر روشن کیا، وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشیں بنایا، ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔‘‘ (فرقان: 61۔62)

رات دن کے بعد آتی ہے، پھر دن فلک کی حرکتوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ رات و دن کی اس آمد و رفت کو اللہ نے کار عبث نہیں بنایا، یہ حد درجہ حماقت ہوگی کہ انسان اپنی اس مرتب زندگی کو بیکار سمجھ لے، یہ تو ایک میدان میں جو مسابقت و مقابلہ کے لئے فراہم کیا گیا ہے، اس میں وہی شخص حصہ لے سکتا ہے جو اپنے رب کو پہچانتا ہو، اس کے حقوق سے واقف ہو، اس کی نعمتوں کا شکر گزار ہو اور جو ماہ و سال کے تسلسل کو محنت و مشقت کا ذریعہ سمجھے تا کہ بڑی راحت کے لئے ذخیرہ کیا جا سکے۔

جو لوگ ان حقائق سے غافل رہتے ہیں، اپنی چند روزہ منفعت کے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں، وہ احمق ہیں، وہ کسی حکمت سے نصیحت نہیں حاصل کر پاتے اور کوئی درس ان کیلئے نافع نہیں ہوتا۔

’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں مگر اس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔‘‘ (توبۃ: 126)

عمر اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے، جس کے بارے میں قیامت کے دن ہر آدمی سے سوال کیا جائے گا کہ تو نے کہاں صرف کی اور کن کاموں میں صرف کی۔ اللہ کے رسول اکرمؐ کہتے ہیں: ’’قیامت کے دن کوئی بندہ اپنا قدم نہ بڑھا سکے گا جب تک وہ چار سوالوں کا جواب نہ دے لے گا۔ اپنی عمر اس نے کن کاموں میں صرف کی، جوانی کس چیز میں بتائی، مال کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا اور اپنے حاصل کردہ علم پر کس حد تک عمل کیا؟

عوام کی نگاہوں سے یہ حکمت بے بہا پوشیدہ رہتی ہے کہ ’’فرائض بہت ہی اور وقت کم ہے‘‘ اور ’’زمانہ کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتا یا تو وہ جگری دوست ہو گا یا بدترین دشمن۔‘‘

حسن بصریؒ کا مقولہ ہے کہ ’’فجر کی پو پھوٹتے ہی روزانہ خدا کی طرف سے ایک منادی اعلان کرتا ہے: اے آدم کے بیٹے! میں ایک نئی مخلوق ہوں اور تیرے اعمال پر گواہ ہوں۔ میرے واسطے نیک اعمال کا ذخیرہ کر لے کیونکہ میں قیامت تک دوبارہ نہیں لوٹ سکتا۔‘‘

یہ بے بہا نصیحتیں اسلام کی روح سے ماخوذ اور دنیوی زندگی کو اخروی زندگی کے لئے کھیتی کا میدان سمجھنے کی عظیم تعلیم سے مستفاد ہیں اور یہ محض اللہ کا فضل اور اس کی توفیق ہے کہ آدمی عمر کا ہر حصہ اچھے کام میں صرف کرے اور نئے سرے سے دوسرے نیک عمل کے لئے تازہ دم رہے۔

’’یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تا کہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے رب کا فضل تلاش کرو شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘

افسوس ہے کہ عوام اپنے اوقات کی بربادی کی کوئی پروا نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ تو ایک عظیم جرم اور بھی ان سے سرزد ہوتا ہے، وہ یہ کہ دوسروں کے اوقات بھی خراب کرتے ہیں۔ وہ کام کرنے والے آدمیوں کی خلوت میں مخل ہو کر انہیں بے کار اور لغو چیزوں میں الجھا دیتے ہیں۔ کتنی سچی بات کہی ہے اللہ کے رسولؐ نے کہ ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خیانت کرتے ہیں، ایک تو صحت ہے، دوسری فراغت۔‘‘ (متفق علیہ)

اسلام نے وقت کے صحیح استعمال کے لئے ایک تجویز یہ دکھائی ہے کہ عمل مسلسل کیا جائے چاہے وہ تھوڑا اور معمولی ہو اور کام کی اس ڈھیر سی مقدار سے پرہیز کیا جائے جس کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ تھوڑا سا کام بھی اگر مداومت کے ساتھ ہو تو زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ہی رائی پر بت بن سکتی ہے جس کے آغاز میں آدمی کو احساس تک نہیں ہوتا۔

اگر کوئی سریع الاثر خواہش آدمی کے اوپر مسلط ہو جائے جس کے نتیجہ میں وہ اسراف و افراط پر اتر آئے، پھر جذبات کی ندی اتر جانے پر اسے اکتاہٹ کا احساس ہو اور وہ سلسلہ یکدم رک جائے تو اس روش کو اسلام ناپسند کرتا ہے۔ حدیث میں ہے: ’’اے لوگو! اتنے ہی اعمال کرو جتنی کہ تمہارے اندر طاقت ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں گھبراتا، تا آنکہ تم عمل کرنے سے اکتا جاؤ۔ اللہ کو سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے وہ معمولی ہو۔‘‘ (متفق علیہ)

ایک روایت میں ہے: ’’راست رو رہو، میانہ روی اختیار کرو، دن کو چلو اور شام کو چلو اور رات کے آخری حصہ میں روانہ ہو جاؤ اور اعتدال کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھو تو منزل تک پہنچ جاؤ گے۔‘‘ (متفق علیہ)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میرے پاس اللہ کے رسولؐ آئے اور بنو اسد کی ایک عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ آپؐ نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: فلاں خاتون ہیں، رات بھر قیام کرتی ہیں۔ آپe نے فرمایا: ٹھہرو! تمہارے اوپر عمل کی اتنی ہی مقدار واجب ہے جس کی تم طاقت رکھتے ہو اور اللہ کو وہی دینداری محبوب ہے جو مداومت کے ساتھ ہو۔‘‘ (مسلم)

وقت کی حفاظت کے لئے اسلام نے صبح سویرے اٹھ جانے کا حکم دیا اور اسے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے دن کے کام نشاط و سرگرمی اور عزم و ارادے کی پوری قوت کے ساتھ شروع کرے۔ دن کے آغاز سے ہی اگر یہ جذبہ ہو کہ پورا پورا فائدہ اٹھانا ہے تو اس بات کی شدید خواہش آدمی کے اندر پیدا ہوگی کہ اس کے تمام اوقات برباد نہ جائیں۔

اسلامی زندگی کا نظام دن کا آغاز فجر سے کرتا ہے اور طلوع آفتاب سے پہلے مکمل بیداری کو فرض قرار دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ رات جگا اسے ناپسندیدہ ہے جس کے نتیجہ میں صبح کی نماز اپنے مسنون وقت سے دیر ہو جائے۔ حدیث میں ہے: ’’اے اللہ! میری امت کی سحر خیزی میں برکت دے۔‘‘ (ابوداؤد)

یہ بڑی غفلت اور محرومی کی بات ہے کہ لوگ دن چڑھے تک سونے کے عادی ہو جائیں، سورج طلوع ہو جائے اور وہ اوڑھ لپیٹ کر پڑے رہیں جب کہ دوسرے طلوع آفتاب کے وقت اپنے معاش کے حصول اور آخرت کے بنانے میں منہمک ہوں۔ حضرت فاطمہؓ بنت محمد سے روایت ہے کہ رسول اللہ میرے پاس سے گزرے اور میں صبح کے وقت لیٹی ہوئی تھی تو آپ نے اپنے پیر سے مجھے ہلایا اور فرمایا: ’’اے میری بیٹی! اٹھ جاؤ اور اپنے رب کے رزق کا مشاہدہ کرو اور غفلت نہ برتو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک رزق تقسیم فرماتا ہے۔‘‘(بیہقی)

یہی وہ وقت ہے جس میں سست اور فعال افراد ایک دوسرے سے ممیز ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر آدمی کو دنیا و آخرت کی بھلائی میں سے اس کی استعداد کے مطابق اسے مرحمت فرماتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1