اتنی سی کہانی 

اتنی سی کہانی 
اتنی سی کہانی 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انسانیت

مَیں سر جھکائے بیٹھا تھا

’’تم لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہو‘‘

فرنچ انٹونیئے غصے سے بولا

’’تم معصوموں کے گلے کاٹتے ہو

بچوں کو مار کر کچرے میں پھینک دیتے ہو‘‘

جرمن والٹر گرجا

تم عبادت گاہوں کو نہیں چھوڑتے

سکولوں کو بھی مقتل بنا ڈالا ہے تم نے

برطانوی مارک غراّیا

مَیں جنون میں پین ہتھیلی پر رگڑنے لگا

پھر امریکی ڈیوڈ دھاڑا

’’مریضوں کے گردے نکالتے ہو

دواؤں میں زہرملاتے ہو

کسی پاکستانی نے انسانیت کے لئے کچھ کیا؟‘‘

وہ چُپ ہوا تو مَیں نے ہتھیلی آگے پھیلا دی

سب شرمندہ ہو گئے

لکھا تھا

ایدھی

مزید : رائے /کالم