ملک کو دور اندیش حکمرانوں کی ضرورت!

ملک کو دور اندیش حکمرانوں کی ضرورت!
ملک کو دور اندیش حکمرانوں کی ضرورت!

  

پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتوں نے سیاست کو اپنے ذاتی مفاد، اور عناد کے لئے استعمال کیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 70برس گزر جانے کے باوجود ہم ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر سکے جو ہمارے سے بعد میں آزاد ہونے والے بہت سے ممالک کرچکے ہیں، بدقسمتی تو یہ ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں نے جو ملک میں دو تین دفعہ حکومت بھی کرچکی ہیں، اُن کے بعض اقدامات کی بدولت سیاست آج ملک میں ’’گالی‘‘ بن چکی ہے، جب سیاست پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ کیا جائے اور مصنوعی ترقی کے ذریعے قوم کو دھوکہ دیا جائے تو پھر اس کے نتیجے میں ملک میں انارکی بڑھتی ہے اور ملکی حالات بتدریج تباہی کی جانب گامزن ہوتے ہیں، یہی سب کچھ آج پاکستان میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔سیاست ایسی عوامی خدمت کو کہتے ہیں، جس سے عوام بتدریج ترقی کی جانب گامزن ہوں اور انہیں بنیادی ضروریاتِ زندگی بآسانی دستیاب ہوں، جس میں خوراک، لباس بہتر معیار زندگی، اعلیٰ تعلیم، صحت عامہ کی سہولتوں سمیت ہر وہ چیز شامل ہے جو انسانی ضرورت ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں ترقی کاغذوں میں تو بہت ہوئی جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صرف برعکس ہی نہیں ہے، بلکہ اس حد تک خطرناک ہے کہ جس کا من حیث القوم تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہماری معیشت کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی آتش فشاں کے دھانے پر بیٹھا ہو، جہاں پر تباہی کسی وقت بھی اس کا مقدر بن سکتی ہے،آج ملک میں کرپشن، لاقانونیت، غنڈہ گردی اور اقرباء پروری اس حد تک بڑھ چکی ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے اس سے سبق حاصل کرنے کی بجائے الٹا قومی اداروں کے خلاف محاذ کھول دیا ہے اور عوام میں قومی اداروں کے خلاف نفرت کے ایسے بیج بوئے جا رہے ہیں جس سے سوائے ملک میں تباہی کے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ پاکستان میں گزشتہ ربع صدی کے حکمرانوں کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ق) کا دورِ حکومت روشنی کی مانند دکھائی دیتا ہے، جس میں دعوے نہیں حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کی گئی اور عام آدمی کی زندگی تبدیل کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے۔ تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر ملک بھر میں میٹرک کی سطح تک تعلیم نہ صرف بالکل مفت کی گئی، بلکہ طلبہ کو کتب بھی مفت فراہم کی گئیں، عوام کو علاج معالجے کی بہتر اور معیاری سہولتوں کے لئے اقدامات کئے گئے اور 1122کی طرز پر جدید ایمبولینس سروس متعارف کرائی گئی، ہسپتالوں کی حالت نہ صرف بہترکی گئی، بلکہ آؤٹ ڈور میں سینئر ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا، تاکہ غریب اور بے بس عوام کے لئے علاج معالجے کی سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایمرجنسی میں ادویات اور آپریشن بالکل مفت کر دیئے گئے۔ تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں بھی جدید مشینری فراہم کی گئی۔

نئے ہسپتال تعمیر کئے گئے۔ تھانوں کو عوامی خدمت کے مراکز بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ 

اس کے علاوہ پولیس کے فرسودہ نظام کو ختم کرکے اسے جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ تھانوں میں پڑھے لکھے اعلیٰ تعلیم یافتہ ایس ایچ اوز تعینات کئے گئے۔ ٹریفک وارڈن کا نظام متعارف کروایا۔

شاہراہوں میں عوام کی حفاظت کے لئے پٹرولنگ پولیس سنٹر قائم کئے گئے،نوجوانوں کو بڑی تعداد میں روزگار دیا گیا، غرض ہر وہ اقدام کیا گیا، جس سے عام لوگوں کا طرز زندگی تبدیل ہو سکے۔

ان تمام اقدامات کے پیچھے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی عوامی خدمت کا وہ ویژن تھا جو انہیں چودھری ظہور الٰہی شہید سے ورثے میں ملا تھا۔تاریخ شاہد ہے کہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی جب تک مسلم لیگ (ن) میں رہے۔

مسلم لیگ(ن) اس وقت تک ایک عوامی جماعت تھی ، لیکن 1999ء میں مسلم لیگ (ن) نے قومی اداروں کے خلاف محاذ کھول کر اقتدار گنوایا لیکن پھر بھی سبق حاصل نہیں کیا۔

چودھری برادران نے مسلم لیگ (ق) کی بنیاد رکھی ہی اس اصول پر تھی کہ وہ عوامی خدمت کے کام بطریق احسن کر سکیں اور انہوں نے کرکے دکھائے بھی۔

مسلم لیگ(ن) کی قیادت جب تک چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے مشاورت کرتی رہی، تو وہ ایک عوامی جماعت بنی رہی، لیکن جب شریف برادران خود کو عقلِ کُل سمجھنے لگے تو ان کا زوال شروع ہو گیا اور رہی سہی کسراب انہوں نے ملکی اداروں کے خلاف برسرپیکار ہو کر پوری کر لی۔

وہ قومی ادارے جو ملکی وقار اور احترام کی علامت ہوتے ہیں، شریف برادران کے ان اداروں کے خلاف بیانات سے ملک دشمن طاقتوں کو تقویت مل رہی ہے اور وہ عوام میں ان اداروں کے خلاف جو نفرت پیدا کررہے ہیں، اس سے انہیں ،اپنی تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، انہیں چاہیے تھا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے لیکن انہوں نے اپنے اسی ’’بیانیہ‘‘ کو انتخابی مہم کا حصہ بنا لیا ہے۔

ایسے میں قوم کو چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی اور جواں جذبوں کے حامل چودھری مونس الٰہی جیسے دور اندیش حکمرانوں کی ضرورت ہے، جن کا ماضی عوامی خدمت کی روشن روایات سے مزین ہے۔ قوم کو چاہیے کہ وہ 25جولائی کو مسلم لیگ(ق) کے رہنماؤں اور امیدواروں کو بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر کامیاب کریں تاکہ ملک ایک مرتبہ پھر ترقی و خوشحالی کی منزل کی جانب گامزن ہو سکے۔

مزید : رائے /کالم