دہشت گردی اور سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ 

دہشت گردی اور سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ 

وزیراعظم جسٹس(ر) ناصر الملک نے وزارتِ داخلہ کو پورے مُلک میں سیکیورٹی انتظامات میں اضافے کے لئے صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کرنے کے لئے کہا ہے، وزیراعظم آفس میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کہا کہ وہ سیاسی قیادت سے رابطہ کرے اور اُنہیں حکومت کی طرف سے کئے گئے سیکیورٹی انتظامات سے آگاہ کرے اور اس معاملے میں اُن سے تعاون طلب کرے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جا سکے۔ وزیراعظم نے انتخابات کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے صوبوں کا دورہ کرنے اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا۔ وزارتِ داخلہ نے چاروں صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ سیاسی شخصیات کی سیکیورٹی کے حوالے سے طے شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد کرایا جائے،ہر طرح کی احتیاطی تدابیر کی جائیں، صوبے آپس میں بہتر کوآرڈی نیشن اور معلومات کا تبادلہ کریں۔ اجلاس میں تاکید کی گئی کہ جن سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو سیکیورٹی خدشات زیادہ ہیں ان کے حفاظتی انتظامات کو زیادہ بہتر بنایا جائے،بین الاقوامی مبصرین اور سی پیک کے منصوبوں پر مامور افراد کو بھی مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پشاور میں اے این پی کے جلسے میں ہونے والے خود کش دھماکے کی وجہ سے پورے مُلک میں سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کی ایک لہڑ دوڑ گئی ہے،لیکن راولپنڈی اور لاہور کی انتظامیہ مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ میں زیادہ مصروف نظر آتی ہے۔لاہور میں پارٹی کے متحرک کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یو سی چیئرمینوں سمیت سینکڑوں لیگی کارکن گرفتار کئے گئے ہیں، ان گرفتاریوں کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ ورکر اپنے قائد کے استقبال کے لئے لاہور ایئر پورٹ نہ جا سکیں، بڑی تعداد میں کنٹینروں کا انتظام بھی کر لیا گیا ہے جو اہم سڑکوں پر کھڑے کر کے ٹریفک روکی جائے گی، اس طرح نہ صرف مسلم لیگی کارکنوں کا راستہ رُکے گا،بلکہ عام لوگوں کو بھی آمدو رفت میں دشواریاں پیش آئیں گی،جن کا نہ تو سیاست سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ سیاسی سرگرمیاں کر رہے ہیں، ویسے بھی انتخابات کے موسم میں سیاسی سرگرمیاں کون سا جرم ہے،لیکن پکڑ دھکڑ کے جو انتظامات کئے جا رہے ہیں اور اس کے لئے وہی پرانے فرسودہ اور گھسے پٹے اقدامات کئے جا رہے ہیں، جو ماضی میں ایسے موقعوں پر پاکستان کی ہر حکومت کرتی رہی ہے اور تجربہ بتایا ہے کہ ایسے اقدامات ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹو ہی ثابت ہوئے ہیں۔

نواز شریف جس طیارے میں سوار ہو کر آ رہے ہیں وہ ظاہر ہے پہلے رن وے پر اُترے گا۔ یہ عام مسافر پرواز ہے اور معمول کے طریقِ کار کے مطابق نواز شریف بھی دوسرے مسافروں کے ساتھ ہی عام راستوں سے باہر آئیں گے، ویسے تو شنید یہ ہے کہ اُنہیں طیارے ہی سے گرفتار کرنے کا منصوبہ ہے اور وہیں سے انہیں ہیلی کاپٹر میں سوار کر کے راولپنڈی اڈیالہ جیل لے جایا جائے گا۔اگر واقعی ایسا ہے تو استقبال کے لئے جو لوگ جانا چاہتے ہیں اُنہیں روکنے میں کیا منطق ہے؟نواز شریف اگر رن وے سے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے راولپنڈی لے جائے جائیں گے،تو باہر سڑکوں پر استقبال کے لئے جانے والے خود ہی نعرے وغیرہ لگا کر اور اپنے جذبات کا اظہار کر کے واپس چلے جائیں گے، ٹریفک روکنے کے انتظامات اور متحرک کارکنوں کی گرفتاریوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ایسے اقدامات عموماً ایسی انتظامیہ کرتی ہے، جو خوفزدہ ہو اور کسی موہوم خوف اور خدشے نے اس کے ہاتھ پاؤں پھلا رکھے ہوں۔

راولپنڈی میں کیپٹن(ر) صفدر کو گرفتار کر کے جیل پہنچا دیا گیا ہے۔انہوں نے گرفتاری سے پہلے اگر جلوس نکال لیا اور اِس جلوس میں اُن کی پارٹی کے ورکروں نے شرکت کی تو اِس پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں،لیکن پکڑ دھکڑ سے لگتا ہے کہ انتظامیہ نے اپنی ساری توجہ اِس ایک کام کی طرف مبذول کر رکھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں احتساب عدالت جیل کے اندر لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اِس لئے وہاں تو سیکیورٹی کا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہو گا، اِس لئے بلاوجہ ایسے اقدامات کی کوئی ضرورت نہیں،جن سے اشتعال پھیلے اور گرفتاریوں پر احتجاج کی کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیدا ہو،جب وزیر داخلہ نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ نواز شریف کو ایئر پورٹ سے ہی گرفتار کر لیا جائے گا،تو پھر شہروں میں معمول کی زندگی کو رواں رہنے دینا چاہئے اور سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کی وارداتیں روکنے پر اپنی توانائیاں صرف کرنی چاہئیں۔پشاور میں اے این پی کے جلسے میں جس خود کش بمبار نے دھماکہ کیا نہ جانے وہ کتنا طویل فاصلہ طے کر کے کِس طرح جائے واردات پر پہنچا اور اندوہناک دھماکہ کر دیا، جس نے ایک نوجوان سیاست دان سمیت 21افراد کی جان لے لی،اسے کِسی نے چیک نہیں کیا اور نہ کسی نے راستے میں روکا، حالانکہ پشاور شہر کے اندر ہی جگہ جگہ ناکے لگے ہیں،جہاں سیکیورٹی کا عملہ موجود ہوتا ہے،لیکن دہشت گرد ان سب کی نگاہوں سے بچ کر واردات کے مقام پر پہنچا اور کامیابی سے اپنا مشن پورا کر لیا اِس میں بھارت ملوث ہے یا افغانستان،لیکن آپریٹر تو مقامی باشندہ ہی ہو سکتا ہے اور وہ فضا میں اُڑ کر نہیں، زمین پر چل کر جائے واردات پر پہنچا تھا، جتنی جانفشانی سے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، اس سے کم محنت میں اس کی گرفتاری ممکن تھی بشرطیکہ توجہ اِس جانب مبذول ہوتی۔اب وقت ہے کہ انتظامیہ اور سیکیورٹی پر مامور ادارے اپنی ترجیحات بدلیں اور پُرامن سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے کی بجائے دہشت گردوں کو پکڑنے پر اپنی صلاحیتیں اور مہارت صرف کریں۔

مزید : رائے /اداریہ