پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت

پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت
پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت

  

انتخابات اب 12دن کے فاصلے پر ہیں، یعنی دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ دنیا کے جس ملک میں بھی انتخابات ہوں، ایک ہلچل ضرور مچتی ہے، لیکن ہمارے ہاں تو ہلچل سے بھی زیادہ زلزلے جیسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔

کِسے معلوم تھا کہ ان انتخابات سے پہلے 13جولائی جیسا دن بھی آئے گا۔ اس دن کیا ہوگا یہ کسی کے علم میں نہیں تھا اور نہ آج ہے کہ جب اس دن کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔

اب اس بحث کا کیا فائدہ کہ احتساب عدالت کو کیا انتخابات سے پہلے فیصلہ سنانا چاہیے تھا یا سزا کے بعد نوازشریف کو اس طرح گرفتاری دینے کا انداز اپنانا چاہیے تھا کہ ملک میں بے چینی پھیل جائے۔ زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ آج کا دن آ پہنچا ہے۔

کل سارا دن یہ خبر چلتی رہی کہ لیگی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں جاری ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کا بھی ذکر ہوا۔ آج لاہور کی نجانے کیا حالت ہوتی ہے۔ کھلتا ہے یا بند کر دیا جاتا ہے۔ کنٹینرز کو مسلم لیگ(ن) نے اپنے دورِ حکومت میں بہت استعمال کیا ہے، اب اسے خود ان کا سامنا ہے۔

ابھی تو یہ خبریں بھی آنی ہیں کہ ملک کے مختلف شہروں سے نوازشریف کا استقبال کرنے کے لئے جو قافلے آنے ہیں۔

ان کے ساتھ کیا بیتے گی، انہیں راستے میں روک لیا جائے گا یا وہ لاہور میں داخل ہو جائیں گے؟ مسلم لیگ (ن) اپنے قائد کی آمد کو ایک بڑا سیاسی شو بنانا چاہتی ہے، تاکہ ایک طرف نوازشریف کے لئے عوامی حمایت کو شو کر سکے اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی انتخابی مہم میں جو ایک مردہ دلی نظر آ رہی ہے، وہ جوش و جذبے میں بدل جائے، لیکن اس کے لئے ملک و قوم کو کتنی بڑی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے، اس کی طرف ان کا دھیان نہیں ہے۔

نوازشریف نے چلنے سے ایک دن پہلے لندن میں جوپریس کانفرنس کی،وہ ایک سیاستدان کی نہیں،ایک جنگجو کی پریس کانفرنس تھی جو اپنے ملک میں لڑنے کے لئے واپس آ رہا ہے۔

ایک دن پہلے وہ نام لے کر آئی ایس آئی کے ایک افسر پر الزام لگا چکے ہیں کہ وہ امیدواروں کی وفاداری تبدیل کرانے کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کی پریس کانفرنس میں فوج کے خلاف نعرے بھی لگتے رہے۔ یہ تو بہت تشویشناک صورت حال ہے۔

اس سے ایک بہت بڑی انارکی جنم لے سکتی ہے۔ نوازشریف واپسی پر پورا زور لگائیں گے کہ ایئرپورٹ پر گرفتار نہ ہوں اور باہر نکل کر استقبال کے لئے آنے والے عوام کی قیادت کریں اور پورے لاہور کا چکر لگا کر یہ پیغام دیں کہ ان کے خلاف فیصلہ دینا تو آسان ہے، اس فیصلے پر عملدرآمد کرنا ممکن نہیں۔ وہ جلوس کے ساتھ اگر جاتی امراء پہنچ جاتے ہیں تو پھر انہیں کون گرفتار کر سکے گا۔

وہ لندن میں شاید اتنے محفوظ نہ ہوں، جتنے جاتی امراء میں ہوں گے، کیونکہ وہاں ان کی مرضی کے بغیر کوئی چڑیا بھی پَر نہیں مار سکتی۔ چلو فرض کرتے ہیں کہ میاں صاحب ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی عوامی طاقت سے نگران حکومت کا پلان ناکام بنا دیتے ہیں تو پھر کیا ہوگا؟ کیا وہ مقدمے سے بری ہوجائیں گے ، سزا کو معطل کرا لیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس طرح سے قانون کو بے اثر بنانے کے بعد وہ آئین اور قانون کی بات کر سکیں گے۔

ان کی آمد سے پہلے ہی ان کے کارکنوں کی آزمائش شروع ہو گئی ہے۔ گرفتاریاں، چھاپے اور روپوشی، اس شدید گرمی میں اگر حوالاتیں کارکنوں سے بھر جاتی ہیں تو ان کا کیا حال ہوگا نوازشریف نے لندن میں یہ کہا کہ وہ پاکستان گرفتاری دینے جا رہے ہیں، پھر انہوں نے یہ دشوار راستہ کیوں اختیار کیا ہے۔ سڑکوں پر اگر دوچار لاکھ افراد ان کے لئے آجائیں گے تو اس سے کیا فرق پڑے گا، بلکہ مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ صرف دوچار لاکھ افراد ہی آئے ہیں، یہ تو بائیس کروڑ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے تھے ۔ اس سے تو کہیں بہتر تھا کہ وہ ائرپورٹ پر گرفتاری دیتے۔ اڈیالہ جیل جاتے، قانونی جنگ لڑنے کے بعد ضمانت پر باہر آتے اور اس دن اڈیالہ جیل کے دروازے پر ان کا لوگ والہانہ استقبال کرتے۔موجودہ صورت میں تو وہ قانون شکنی کا ارتکاب کر رہے ہیں، جبکہ دوسری صورت میں نوازشریف ایک قانون پسند رہنما کے طور پر ایک شاندار امیج کے ساتھ باہر آتے۔

میں تو یہ سوچ رہا ہوں کیا آج کا دن اپنے اثرات و نتائج کے حوالے سے صرف آج تک ہی محدود رہے گا۔ کیا انتظامیہ اور مسلم لیگ (ن) سمجھ بوجھ کا مظاہہر کریں گے۔؟ یہ شہر لاہور تو پہلے ہی ماڈل ٹاؤن سانحے کی گونج تلے دبا ہوا ہے۔

کیا اسے کسی نئے امتحان میں تو نہیں ڈالا جائے گا۔؟ سعد رفیق اور ایاز صادق جیسے بڑے مسلم لیگی رہنما کل جب یہ کہہ رہے تھے کہ کارکنوں میں اشتعال پھیل گیا تو ہم کیسے کنٹرول کریں گے تو میں ڈر سا گیا۔ جب قیادت ہی اس قسم کے بیانات دے گی تو حالات کیا ہوں گے۔

کہنا تو یہ چاہئے تھا کہ پولیس جتنے لوگ بھی پکڑ لے، ہم مشتعل نہیں ہوں گے۔اپنے قائد کا استقبال کرنے ضرور جائیں گے، مگر شاید لیڈروں کی یہ مجبوری بھی ہوتی ہے کہ وہ کارکنوں کے جذبات کی ترجمان بھی کریں، اس لئے ایسے جملے کہنے پڑ جاتے ہیں، حالانکہ ایسے جملوں کے اثرات گہرے زخم بھی چھوڑتے ہیں جو عرصے تک مندمل نہیں ہوتے۔

قانونی و اخلاقی طور پر نوازشریف کا یہ حق ہے اور نہ ہی ان کی سیاسی جماعت کا کہ وہ نوازشریف کو ہر قیمت پر ائرپورٹ سے باہر آکر استقبالیہ جلوس کی قیادت کا کہیں۔ نوازشریف ایک سزایافتہ مجرم ہیں اور سزا کے بعد کوئی مجرم بغیر کسی قانونی جواز کے اس طرح آزاد نہیں پھر سکتا۔ ریاستی اداروں کی اپنی مجبوری اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس لئے ائرپورٹ پر نوازشریف اور مریم نواز کو گرفتار کیا جانا عین قانونی تقاضا ہے، جس سے نیب، پولیس یا ایف آئی اے کے ادارے پہلوتہی نہیں کر سکتے۔

نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ میں سزا معطل کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔ گویا ایسا کوئی قانونی شیلٹر نہیں کہ جس میں یہ مجرمان پناہ لے سکیں۔ یہ واقعہ بھی سب دیکھ چکے ہیں کہ کیپٹن (ر) صفدر کو کیسے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بلاوجہ کی مزاحمت کی، حالانکہ اگر وہ باوقار طریقے سے اپنی گرفتاری پیش کر دیتے تو ان کا سیاسی قد بڑھ جاتا۔ اب ان کے ساتھ راولپنڈی کے رہنما اور کارکن پولیس مقدمات بھگت رہے ہیں۔

کبھی ریاست سے بھی کوئی جیت سکا ہے۔ نوازشریف تو تین بار ملک کے وزیراعظم رہے ہیں، انہیں تو یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ جب قانون حرکت میں آجاتا ہے تو اس سے طاقت کے زور پر نہیں بچا جا سکتا، بلکہ قانونی راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے میاں صاحب کو اس بارے میں بتانے والا کوئی نہیں۔وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی عوامی طاقت سے بدلوانے کے لئے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی مہم لے کر سڑکوں پر آ گئے تھے۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کو تبدیل کرنے کا یہ طریقہ پہلی مرتبہ پاکستان میں دیکھا گیا۔ اب پھر وہ اس غلطی کو دہرانے جا رہے ہیں۔ وہ اس بات کو سمجھنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں، اس کے ملک کی سلامتی، جمہوریت اور امن و امان پر بھی انتہائی ضرررساں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انتخابات کے اس قدر قریب آکر احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کا طریقہ یہ نہیں کہ امن و امان کو تہہ و بالا کر دیا جائے، بلکہ اس کا اصل طریقہ یہ ہے کہ ووٹرز تک اپنا پیغام پہنچایا جائے، جس قسم کی مار دھاڑ سے بھرپور کال دی گئی ہے اور لیگی رہنما یہ بڑھکیں مار رہے ہیں کہ ہم کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ پولیس اور انتظامیہ ہمارا راستہ روکنے کی کوشش نہ کرے، ایاز صادق نے تو نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ وہ اپنی حدود میں رہیں، صرف دو ماہ کے لئے اقتدار میں آئے ہیں۔

ایسا کام نہ کریں، جس کا نتیجہ بعد میں بھگتنا پڑے۔ اب کوئی بتائے کہ آج کیا لاہور میں پانی پت کی کوئی جنگ ہونے جا رہی ہے۔ ایک پارٹی کے قائد لاہور آ رہے ہیں ،جنہیں دس سال قید ہو چکی ہے۔ انہیں انتظامیہ باہر آنے دیتی ہے تو ٹھیک ہے ،لیکن اگر انہیں ایک قانونی جواز میں گرفتار کرلیا جاتا ہے تو اس پر احتجاج کیسا۔

؟ انتظامیہ ایک دن کی ہو یا دس سال کی، اسے تو درپیش صورت حال میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ساری پولیس اور انتظامیہ چپ چاپ ایک طرف ہو کر بیٹھ جائے اور ہجوم کو کھلا چھوڑ دے کہ وہ لاہور ائرپورٹ پرجو چاہے کرے۔

سب پاکستانیوں کی طرح میں تو بس دعا ہی کر سکتا ہوں کہ آج کا دن بخیر و عافیت گزر جائے۔ سب کو عقلِ سلیم کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت دے اور کسی بھی سانحے کو رونما ہونے سے پہلے روکنے کی بصیرت عطا کرے۔ اللہ نہ کرے کہ کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو جو چند روز بعد ہونے والے عام انتخابات کے لئے خطرہ بن جائے۔

مزید : رائے /کالم