دیکھو دیکھو کون آیا

دیکھو دیکھو کون آیا
دیکھو دیکھو کون آیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج شام کا سورج پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک نئے سورج کے طلوع ہونے کی نوید دے کر ڈوبے گا ۔ اب تک آپ جو کچھ سن رہے ہیں یا جو کچھ پڑھ رہے ہیں اس کی اہمیت نواز شریف کی آمد سے قبل تک ہے ، ایک مرتبہ طیارہ لینڈ کرگیا تو صرف اس بات کی اہمیت ہوگی جو نواز شریف کریں گے اورجولوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ نواز شریف کو اترتے ہی گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر اڈیالہ جیل لے جایا جائے گا انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ نواز شریف کو گرفتار کرنا اتنا آسان ہوتا تو کب کا ایسا کیا جا چکا ہوتا ۔

نہال ہاشمی، دانیال عزیز اور طلال چودھری پر وقت ضائع نہ کیا جاتا!۔۔۔ اور اگر ہیلی کاپٹر لاہور ایئرپورٹ سے نواز شریف کو لے اڑا تو یہ ان کے سیاسی عروج کا اسی طرح ایک اور سفر ثابت ہوگا جس طرح جنرل مشرف نے جب انہیں طیارے میں ڈال کر سعودی عرب بھیجا تھا اوراپنی طرف سے ان کی سیاست کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا تھا۔

نواز شریف نے تب بھی پکڑائی نہیں دی تھی، نواز شریف اب بھی پکڑائی نہیں دیں گے اور ان کی محنت کے سبب پاکستان کے عوام اپنے حق حکمرانی کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتا دیکھنے والے ہیں۔

جنرل مشرف کے زمانے میں نواز شریف کبھی واپس جانے کے لئے پاکستان آئے تھے، اب کی بار وہ پاکستان آنے کے لئے آرہے ہیں!آج شام کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عوام کے حق حکمرانی کا نیا باب کھلے گا، ووٹ کی عزت کا باب کھلے گا اور انصاف کے چہرے پر جمی گرد دھلنے کا باب کھلے گا۔۔۔جو نواز شریف کے خلاف کھڑے ہیں وہ ایک نظر عالمی میڈیا پر ڈالیں تو انہیں خبر ہو کہ دنیا بھر میں پاکستان کی کس قدر جگ ہنسائی ہو رہی ہے کہ ان کے بقول پاکستان میں صاف ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد پر اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے سائے پڑ رہے ہیں۔

آج آسمانوں سے قائد اعظم کی روح دیکھ رہی ہوگی، علامہ محمد اقبال کی روح دیکھ رہی ہوگی، حسین شہید سہروردی کی روح دیکھ رہی ہوگی، نوابزادہ لیاقت علی خان کی روح دیکھ رہی ہوگی، مادر ملت فاطمہ جناح کی روح دیکھ رہی ہوگی، حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی روحیں دیکھ رہی ہوں گی، یہ سب روحیں عوام کے حق حاکمیت کی لڑائی لڑکر گئی ہیں ، ان روحوں کو خوش کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آج عوام کے حق حکمرانی کے ساتھ کھڑا ہوا جائے ، آج لاڈلوں کو لاک اپ میں ڈال دینے کا دن ہے۔ آج اگر ان روحوں میں سے کوئی روح زندہ ہوتی تو نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہوتی کیونکہ نواز شریف عوام کے حق حکمرانی کے ساتھ کھڑے ہیں۔!

قائداعظم کی آواز پر لوگ گھربار چھوڑ کر پاکستان بنانے نکل کھڑے ہوئے تھے ، نواز شریف کی کال پر پاکستان بچانے نکل کھڑے ہوئے ہیں!نکتے کی بات یہ ہے کہ اگر آصف علی زرداری کے ایوان صدر میں بیٹھے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ چل سکتا تھا تو ایوان وزیراعظم میں نواز شریف کے بیٹھے ہوئے بھی مقدمہ چل سکتا تھا لیکن انہیں نکال باہر اس لئے کیا گیا کہ ان کی وجہ سے ایک ڈکٹیٹر کو ملک بدر ہونا پڑا تھا۔

آج عوام کا بھی امتحان ہے کہ کیا وہ ان بزرگوں اور پرکھوں کو شرمندہ تو نہیں کریں گے جنھوں نے اپنی عزت نفس کے لئے اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی آزادی کی قیمت کے طور پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے تھے ، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئی تھیں کہ آج پاکستان اقوام عالم میں پورے قدکے ساتھ کھڑا ہے مگر آج اگر ہم نے اپنے حق حکمرانی کی جنگ نہ جیتی تو ہمارے بزرگوں کی روحوں کو بڑا دکھ ہوگا، آج ان روحوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن آن پہنچا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ابھی بھی نون لیگ کے جیتنے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ لوگ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب وقت نے انہیں پرکھا تو وہ تاریخ کے دائیں جانب کھڑے تھے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان نہیں چاہتے کہ ووٹ کو عزت ملے، کیا زرداری ایسا نہیں چاہتے، کیا ہماری مذہبی جماعتیں ایسا نہیں چاہتی ہیں، اگر نون مخالف جماعتیں ایسا چاہ رہی ہوتیں تو نواز شریف کی واپسی ان کی شکست پر مہر تصدیق بن کر ثبت نہ ہو رہی ہوتی۔

حیرت یہ ہے کہ 2013ء میں عمران خان کا سارا زور پنجاب میں لگا تھا ور ان کا ووٹ خیبر پختونخوا میں نکلا تھا، دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بار وہاں بھی نکلتا ہے یا نہیں ، انہیں صرف نواز شریف کی عدم موجودگی کی وجہ سے میدان کھلا ملا ہوا تھا ، اب ان کا ’جب آئے گا عمران‘ اصل میں ’جب آئے گئے عمران‘ ہونے والا ہے۔

نواز شریف کو ملنے والی سزا کا مزا کسی کو تو چکھناہے کیونکہ کبھی سزا پانے والے کو ہی نہیں کبھی کبھی سزا دلانے والے کو بھی اس کا مزا چکھنا پڑجاتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ اب کے سزا عمران خان کو سہنی پڑے اور مزا میاں صاحب کرتے پھریں!13جولائی سے 25جولائی اب پاکستان میں صرف نواز شریف کا بول بالا ہوگا۔ وہ جیل جائیں گے تو ان کی بات ہوگی، ہائیکورٹ میں اپیل لگے گی تو ان کی بات ہوگی، ان کی درخواست ضمانت منظور ہوئی تو ان کی بات ہوگی، خارج ہوئی تو ان کی بات ہوگی ۔ ضمانت کے نتیجے میں رہائی ہوئی تو ایک اور پاور شو سڑکوں پر نظر آئے گا، ضمانت منسوخ ہوئی تو انتخابات سے پہلے اور طرح کا پاور شو ہوتا نظر آئے گا کیونکہ نواز شریف کو جیل کیپٹن صفدر کو جیل تھوڑا ہے کہ کوئی خبر ہی نہ آئے، اگر پاکستانی میڈیا دباؤ میں آبھی گیا تو بین الاقوامی میڈیا کو کیسے روکا جائے گا۔!

پاکستان میں انتخابات کے تناظر میں اگلا ہفتہ ہی اہم ہے ،اس سے اگلے ہفتے تو انتخابات ہیں ، اگر اگلا ہفتہ نواز شریف کے نام ہے تو انتخابات والا ہفتہ کیونکر ان کے نام نہیں ہوگا۔ وہ جیل میں بیٹھیں تو جیتیں گے ، ضمانت پر رہا ہوئے تو جیتیں گے ، سوشل میڈیا بڑا کھوچل میڈیا ہے ، وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور کسی کے قابو میں نہیں آتا، اس سے لڑائی پوری دنیا سے لڑائی ہے۔

!پاک فوج پاکستانیوں کی آنکھ کا تارا ہے ، انہیں پاک فوج کی صلاحیتّوں،اس کی ہمت، بہادری اور شجاعت پر خدا کی ذات جنتا یقین ہے ، ان کے جذبے پاک فوج کی عزت و غیرت پر مر مٹنے کوتیار رہتے ہیں اور نواز شریف بھی پاک فوج سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنا کوئی عام پاکستانی کرتا ہے ، ان پر تو تہمت بھی باندھی جاتی ہے کہ وہ فوج کی پیداوار ہیں، ایسا ہے تو وہ کیونکر پاک فوج کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ اگر عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں تو پاک فوج بھی عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، نواز شریف کبھی انٹی عوام سیاست نہیں کرسکتے ، کبھی انٹی آرمی سیاست نہیں کر سکتے۔

وہ جانتے ہیں کہ عوام اور فوج کی اکثریت پاکستان میں جمہوریت کے پنپنے کی خواہش رکھتی ہے ، اگر عوام اور اتنے بڑے ادارے میں چند ایک عناصر اس کے برعکس سوچ رکھتے ہیں تو ان کی اصلاح احوال میں کیا حرج ہے ، پاکستان کو بنے 70برس ہو گئے ہیں ، پاکستان بنانے والوں کی چوتھی پانچویں نسل جوان ہو چکی ہے ، بچوں کے پاؤں کا سائز باپ برابر ہوچکا ہے،اگر کبھی پاکستان کو یکجا رکھنے کے لئے کنٹرول رکھنا ضروری تھا تو آج اس کی ضرورت نہیں رہی ہے ، اب اس باشعور قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے دینا چاہئے ، پاکستان تبھی ترقی کرے گا۔!

مزید : رائے /کالم