زرداری کا موقف، عمران خان کی پیشگوئیاں!

زرداری کا موقف، عمران خان کی پیشگوئیاں!
زرداری کا موقف، عمران خان کی پیشگوئیاں!

بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر 35ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی روائتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی اور ہنس کر کہا کہ ڈھول تو 35ارب روپے کا پیٹا جا رہا تھا اور نوٹس صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کا آیا ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے اس کیس کے دوبارہ کھلنے کے اوقات پر اعتراض کیا اور احتساب کے حوالے سے انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ احتساب ہونا چاہیے، تاہم یہ انتخابات سے پہلے یا پھر انتخابات کی تکمیل کے بعد ہونا چاہیے اس سے پہلے وہ اس حوالے سے اپنی رائے کے اظہار سے گریز کرتے رہے تاہم اب ان کو بھی کچھ کہنے کا وقت مل گیا ہے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے طلبی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عدالت جب بلائے گی چلے جائیں گے حالانکہ اس وقت تک ان کے علم میں آ چکا تھا کہ عدالت نے 12جولائی کو دونوں بھائی بہن کو بھی طلب کر رکھا ہے۔ تادم تحریر ان کے وکلاء تو عدالت عظمیٰ میں حاضر تھے وہ خود نہیں آئے، اسلام آباد بلاول ہاؤس میں موجود تھے کہ بلاوا لازم ہوتو جائیں، اب تک چیف جسٹس والی بنچ دوسرے امور نمٹا رہی ہے۔

آصف علی زرداری اگرچہ محتاط گفتگو کے بھی عادی ہیں، لیکن کہیں کہیں زبان پھسل بھی جاتی ہے۔ انہوں نے بہت سے نامزد حضرات کی دوستی سے انکار کیا۔ شرجیل میمن کو بھی دوستی کی فہرست سے الگ رکھا اور کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر تھے۔

تاہم ڈاکٹر عاصم کو انہوں نے اپنا دوست قرار دیا، حسین لوائی کی بات ہی نہ ہوئی، البتہ خود حسین لوائی نے احتساب عدالت میں کہا کہ آصف علی زرداری سے ان کی دوستی تھی اور وہ منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں ہیں، سوشل میڈیا پر ترقی پسند دانشور لیاقت علی کا انکشاف بتایا گیا ہے جس کے مطابق حسین لوائی شوکت خانم ہسپتال ٹرسٹ بورڈ کے سربراہ بھی رہے اور آج کل ان کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے ان کو سٹاک ایکسچینج بورڈ کا چیئرمین بنایا تھا، یوں اب یہ بحث بھی چل رہی ہے۔

بات آصف علی زرداری کی تھی وہ ای سی ایل پر نام سے بھی گھبرا نہیں رہے اور کہتے ہیں کہ اس کی فکر نہیں کہ ہم تو کہیں جا ہی نہیں رہے، البتہ حالات کچھ ٹھیک نہیں، اس کے باوجود ہم انتخابات کے حامی ہیں اور کبھی بائیکاٹ کا نہیں سوچ سکتے اور نہ ہی کسی اور کو ایسا کرنے دیں گے۔

انہوں نے نام تو نہیں لیا لیکن اشارہ شاید مسلم لیگ (ن) کی طرف تھا، جس کی طرف سے اس بارے میں زبردست قسم کی تردید آ چکی ہے۔ آصف علی زرداری اب بھی بضد ہیں کہ عام انتخابات کے بعد کوئی بھی حکومت پیپلزپارٹی کی حمائت کے بغیر نہیں بن سکے گی۔ یوں یہ ظاہر ہوا کہ وہ 2018ء کے بعد حکومت بنانے کے دعویٰ سے تو دستبردار ہو گئے لیکن اپنی جماعت کے اثرات پر مصر ہیں یوں تو وہ حزب اختلاف میں بیٹھنے کو تیار ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس کے باہر آنے اور تفتیش شروع ہونے پر پیپلزپارٹی کو پریشانی اور عمران خان کو خوشی ہوئی ہے کہ وہ جو کہتے ہیں پورا ہوتا جاتا ہے، اب وہ سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر محمد شہبازشریف کے پیچھے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھی جیل جانے والے ہیں، ایسے ہی حالات و واقعات ہیں جو مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے بیانیئے کو بھی تقویت دیتے ہیں۔

عمران خان جو کہتے ہیں وہ پورا ہوتا ہے یا تو ان کو پورے پروگرام کا علم ہوتا ہے، یا پھر ان کو روحانیت میں کمال کا درجہ حاصل ہے کہ ان کو القاء ہو جانا ہے اور ان کی زبان میں تاثیر ہے کہ وہ جو کہیں اس کی آسمانوں سے منظوری ہو جاتی ہے۔

اس تمام سلسلے میں کمال تو یہ ہے کہ عمران خان خود اپنے خلاف الزامات کا جواب نہیں دیتے۔وہ عدلیہ کے احترام کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن فوجداری مقدمات میں بھی عدالت کے سامنے پیش ہونے سے گریز پا رہے، حتیٰ کہ انتخابی عمل میں بھی ریٹرننگ افسر تک کے سامنے پیش ہونے سے گریز کیا۔ فوجداری عدالت سے استثنیٰ لیتے اور ملتا بھی رہا۔

ملک میں انتخابی عمل جاری ہے اور تمام اہم اور غیر اہم سیاسی جماعتیں موجودہ نظام جمہوریت ہی کے تحت حصہ لے رہی ہیں اور یوں پارلیمانی طرز حکومت کی حامی ہی مانی جائیں گی۔ اس جمہوریت میں اہم عنصر عمل کا ہے اور جن رہنماؤں اور جماعتوں نے جمہوریت کو استحکام دیا ان سب نے اختلاف کیا تو مخالفین کو بھی یہ حق دیا، چنانچہ مہذب معاشروں میں ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی کو بہتر نہیں جانا جاتا، اس کے ساتھ ہی جمہوریت میں تحرک کی بھی بڑی اہمیت ہے اور اس میں رہبرو کارکن بھی ایک جیسی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں جیسے پارلیمنٹ میں سبھی رکن منتخب ہو کر آتے ہیں اور پھر اپنے میں سے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کا بھی انتخاب ہوتا ہے اور یوں ایوان میں بھی احترام باہم لازم ہو جاتا ہے۔

یہ سب اپنی جگہ تاہم جو حضرات جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ان کے لئے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ اس نظام کے تمام پہلوؤں پر نگاہ رکھیں اور ہر عمل میں حصہ دار ہوں، سب جمہوریت پسند حضرات اگر اداروں کے احترام کی بات کرتے ہیں تو ان کو ان اداروں پر یقین ثابت کرنے کا عملی ثبوت بھی دینا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بالکل مختلف عمل دیکھنے میں آیا ہے ،دعویٰ کرنے والے خود بھی گریز کرتے ہیں، اس کا ثبوت پارلیمان کی حاضری سے ملتا ہے کہ کس رہنما نے کتنی بار پارلیمنٹ کو ’’شرف باریابی‘‘ بخشا؟ اور پھر یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ عدالتوں کے احترام کی بات کرنے والے خود عدالتوں میں کتنی بار حاضر ہوئے۔یہ امر تکلیف دہ ہے احساس ہونے لگا ہے کہ کپتان ایسی عدالتوں، حتیٰ کہ ایوان میں جانا بھی مناسب نہیں سمجھتے وہ اسمبلی میں قریباً چھ بار گئے اور پورے پانچ سال کے الاؤنسز اور تنخواہ وصول کی، اسی طرح دھرنا کے دوران پی ٹی وی مرکز پر حملے اور ایس پی تشدد کیس والے مقدمات میں بھی وہ عدالت میں جانا گوارا نہیں کرتے تھے۔ اگر ایک آدھ بار گئے تو ساتھ ہی استثنا کی درخواست منظور کرا لی اور پھر بریت کی درخواست دے کر خود کو بری بھی کر ا لیا۔عام آدمی اور پڑھے لکھے باشعورحضرات کو یہ طرز عمل پسند نہیں آیا، ان کے خیال میں مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی دعویدار شخصیت کو یہ بالکل زیب نہیں دیتا، یوں بھی جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو ان کو جمہور کے قریب تر ہونا چاہیے اور اداروں کے احترام کی خود بات کرتے ہیں تو اس پر عمل کرکے بھی ثابت کرنا چاہیے۔ ہمارے خیال میں عمران خان کو اپنے طرز عمل میں تبدیلی لا کر یہ تاثر اور مخالفین کے اعتراض کو رد کرنا چاہیے کہ وہ عدالتوں میں خود پیش ہوں، زبانی احترام کا کہہ کر الگ رویہ اختیار نہ کریں ، بلکہ عملی ثبوت دیں، ان کو پارلیمان کے احترام کا بھی ثبوت دینا ہوگا۔

اب پشاور میں خودکش حملہ اور جمعہ کو لاہور آنے والے محمد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی گرفتاری کے مسئلہ پر ہلچل اور سراسیمگی بھی پھر سے کنفیوژن پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ تمام سیاسی عناصر کا فرض ہے کہ وہ ایسی دھندلاہٹ کو ختم کریں اور انتخابات کے لئے خوشگوار اور بہتر فضا پیدا کریں۔ نگرانوں نے ذمہ داری قبول کی تو یہ بوجھ برداشت بھی کریں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...