نرالے کھیل 

نرالے کھیل 
نرالے کھیل 

ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر ہونے والے گیارویں عام انتخابات کے لئے پولنگ کا دن سر پر کھڑا ہے۔ کہیں بھی محسوس ہی نہیں ہوتا کہ پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ نہ جلسے ہیں ، نہ جلوس، نہ بینر ہیں، نہ پوسٹر، نہ ہی پینا فلیکس۔

تشہیر کے جو بھی مروجہ طریقے ہو سکتے ہیں ، امیدوار اگر ان پر عمل کرتے ہیں تو اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔ اس لئے امیدواروں نے بہتر جانا ہے کہ محدود پیمانے پر ہی تشہیر کی جائے۔ عام انتخابات کے موقع پر تو جو تشہیر ہوتی رہی ہیں یا دھوم دھام ہوتی رہی ہے موجودہ انتخابی مہم کے دوران تو اس کا عشر عشیر دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ راقم نے ایوب خان کے دور میں دوسرے بنیادی جمہوریت کے اراکین کے انتخابات جو 1964ء میں ہوئے تھے ، کے وقت پہلی مرتبہ انتخابی مہم میں اس طرح حصہ لیا تھا کہ امیدوار مرحوم ولی محمد میو کی ووٹروں کی سلپ لکھنا تھی۔ دوسرے دوستوں کے ساتھ مجھے بھی یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ گلی گلی بینر لگے ہوئے تھے ۔

امیدوار کھل کر اپنی مہم چلا رہے تھے ۔ 1970ء کی انتخابی مہم دیکھی۔ 1977ء سے 2013ء تک کے انتخابات بحیثیت رپورٹر کام کرنے کا موقع ملا۔ تمام ہی انتخابات میں انتخابی مہم بہت زیادہ مصروف رکھنے کا سبب تھی،لیکن 2018ء کے انتخابات ہی نرالے ہیں۔ امیدواروں کی بہت زیادہ سرگرمی گھرگھر جاکر ووٹوں سے ملاقاتیں ہیں۔

بعض مرتبہ تو دروازوں پر بار بار گھنٹی بجنے سے ہی پریشان ہو جاتے ہیں۔ امیدوار چھوٹے چھوٹے ہینڈ بل گھر پر دے کر چلے جاتے ہیں۔ بعض امیدوار پریس کانفرنسوں کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ انہیں چینلوں پر ہی کچھ تشہیر کا وقت مل جائے۔ 

ایک سروے جس میں سڑک پر چلتے ہوئے ووٹروں سے سوال کیا گیا کہ کیا ا نہیں اپنے انتخابی حلقوں کے نمبر معلوم ہیں ، کیا انہیں اپنے حلقے میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے لئے کھڑے ہوئے امیدواروں کے نام اور نشان سے آگاہی ہے، تمام ہی لوگوں کا حیران کن جواب یہ تھا کہ انہیں امیدواروں کے ناموں اور نشان سے آگاہی نہیں ہے۔ عام ووٹروں کو سوائے دو یا تین سیاسی جماعتوں کے کسی کا انتخابی نشان یاد نہیں ہے۔ مخصوص سیاسی جماعتوں سے ہمدردی رکھنے والوں کو صرف اپنی جماعت کا ہی نشان یاد ہے۔

سندھ میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) کے انتخابی نشان (سٹار) سے بھی لوگ شناسا نہیں ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے انتخابی نشان کتاب سے بھی لوگ آگاہ نہیں ہیں۔ لوگوں کو پیپلز پارٹی کا نشان تیر، مسلم لیگ (ن) کا نشان شیر، ایم کیو ایم کا نشان پتنگ تو یاد ہیں، تحریک انصاف کا نشان بلا کے بارے میں بھی بعض لوگ آگاہ نہیں ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ امیدواروں یا سیاسی جماعتوں کو تشہیر کی اجازت ہی نہیں ہے۔

بعض انتخابی حلقوں میں امیدواروں نے الیکشن کمیشن کے دیئے گئے سائز کے پیش نظر اپنے بینر بنوائے اور بجلی کے کھمبوں پر لگا دئے۔دوسری صبح وہ غائب تھے ۔ آدھی رات کے بعد ایسے عناصر سرگرم ہوجاتے ہیں جو ان بینروں کو اتار لیتے ہیں۔ امیدوار بلبلاتے رہ جاتے ہیں ۔ کسی کا نام بھی نہیں لے سکتے ، حالانکہ بعض حلقوں میں لوگوں نے خود دیکھا ہے کہ کون لوگ ان بینروں کو اتار رہے تھے ۔ 

عجیب انتخابی رنگ ہے۔ حیدرآباد میں مسلم لیگ (ن) کے قومی اسمبلی کے ایک امیدوار تو کہتے ہیں کہ شائد بعض قوتیں اس ملک میں اس مرتبہ صرف 20 یا 30 فیصد پولنگ چاہتی ہیں اِسی لئے امیدواروں پر ایسی پابندیاں عائد کی گئی ہیں کہ وہ اپنی مناسب تشہیر بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتخابات کا کیا فائدہ جس میں ووٹر کو علم ہی نہ ہو کہ اس کے انتخابی حلقے سے امیدوار کون کون ہیں اور اسے کسے منتخب کرنا ہے۔

نیلم میگواڑ عمر کوٹ سے پہاڑ جیسے دو امیدواروں کے مدمقابل امیدوار ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کی امیدوار ہیں۔ حلقہ انتخاب بہت بڑے ایریا پر محیط ہے۔ وہ بتا رہی تھیں کہ وہ تو دن بھر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کا سفر ہی کر رہی ہیں تاکہ لوگوں کو بتا سکیں کہ تیر اور بلا کے مقابلے پر شیر بھی میدان میں ہے اور انہیں شیر کے نشان پر ہی مہر لگانی ہے۔ نیلم کے حلقے میں ووٹر کو ذہن نشیں کرانا بھی ایک تھکا دینے والی مشق ہے۔ ووٹر کو پولنگ اسٹیشن پر قومی اور صوبائی امیدواروں کو ووٹ دینا ہوگا۔

اس کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوگا کہ وہ بیلٹ پرچی کو پوری طرح دیکھ بھی سکے۔ اس مُلک میں ووٹروں کی اکثریت نا خواندہ ہے۔ انہیں تو صرف نشان یاد رہتا ہے۔ جب انہیں نشان کے بارے میں آگاہی ہی حاصل نہیں ہوگی تو وہ کیا خاک اپنا امیدوار منتخب کر سکے گا۔

دیہی علاقوں کے حلقوں میں امیدواروں نے اپنے گانے تیار کر لئے ہیں جنہیں وہ لاؤڈ سپیکر پر چلاتے ہیں۔ ان گانوں میں انتخابی نشان کا بار بار تذکرہ کیا گیا ہے۔ تیر کے علاوہ تاج، تالا، پنکھا، بکری یا جو بھی نشان ملا ہو ، امیدوار اس کا ان گانوں کے ذکر کراتے ہیں تاکہ ووٹر کو آگاہی حاصل ہو۔

بینر،پوسٹر، پینا فلیکس لگانے کی اجازت ہوتی اور وہ آدھی رات کے بعد اتارے نہیں جاتے تو ووٹروں کو آگاہی حاصل ہوتی۔اس تماش گاہ میں ہونے والے تمام ہی کھیل نرالے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی شاعر کا یہ کہنا بھی خوب ہی ہے ۔

’’ جسے تم ووٹ کہتے ہو نظام زر کی بستی میں ،

یہ رسم تاجپوشی ہے درندوں اور لٹیروں کی‘‘

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...