تفہیم اقبال: جواب شکوہ (3)

تفہیم اقبال: جواب شکوہ (3)
تفہیم اقبال: جواب شکوہ (3)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بند نمبر(5)

آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترا

اشکِ بے تاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا

آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ ترا

کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا

شُکر شکوے کو کیا حسنِ ادا سے تو نے

ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے

مشکل الفاظ کے معانی

غم انگیز(غم بڑھانے والا، غمگین کرنے والا)۔۔۔ اشکِ بے تاب(بے صبر آنسو،نہ رکنے والے آنسو)۔۔۔آسماں گیر(آسمان تک پہنچ جانے والا)۔۔۔

اب اس بند کی تشریح

شکوے کے پہلے چار بندوں میں بتایا جاچکا ہے کہ جب شکوہ کرنے والے کی آواز عرش تک جا پہنچی تو کوئی بھی پہچان نہ سکا کہ یہ آواز کس کی ہے۔ کون ہے جو اتنی بیباکی سے خدا کے حضور ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔

آخر جنت کے دربان فرشتے (رضوان) نے اس آواز کو پہچانا اور کہا کہ یہ تو ابنِ آدم کی آواز ہے۔ اسی آدم کے بیٹے کی جس کو بہشت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا گیا تھا۔جب اس ابنِ آدم کی آواز پہچان لی گئی تو اس کے بعد اس ہستی کی آواز ابھری جسے کسی نے آج تک نہ دیکھا نہ سنا۔

وہ ہر ذرے میں موجود رہ کر بھی نظروں سے اوجھل ہے۔ یہی آواز تھی جسے خدا کے بعض برگزیدہ بندوں نے سنا تھا اور رسول کہلائے تھے۔ اب اسی آواز نے شکوے کا جواب دینا شروع کر دیا۔

خدا رحمان بھی ہے اور رحیم بھی، قہار بھی ہے اور کریم بھی اور جلیل بھی ہے اور جمیل بھی۔۔۔ لیکن شاعر کا اندازبیان دیکھئے کہ اس نے خدا کی رحیمی، کریمی اور جمال کواس کی صفاتِ رحمانی و قہاری و جلالی پر ترجیح دی ہے۔ خدا اگر چاہتا تو شکوہ کرنے والے نے اپنے شکوے کی زبان اور اندازِ بیان میں جو گستاخانہ روش اپنائی تھی اس کی سزا کا فیصلہ کر دیتا۔ لیکن خدا کا جمال اس کے جلال پر غالب آیا اور اس نے اپنے تخلیق کئے ہوئے انسان کو معاف کر دینے کا پیرایہ استعمال کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم نے اپنے شکوے میں جو کچھ بیان کیا ہے وہ حقیقت نہیں، افسانہ ہے۔ ہمیں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے تمہارا پیالہ، بے تاب و بے قرار آنسوؤں سے لبالب بھر گیا ہے۔

تو نے جس زور سے نعرۂ مستانہ لگایا ہے وہ ہمارے آسمان تک تو آن پہنچا ہے، لیکن ہم تمہیں یہ بھی بتائے دیتے ہیں کہ تو نے اپنے حسنِ بیان سے شکائت کو بھی شکر بنا کر پیش کیا ہے اور ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو مجھ سے ہمکلام کر دیا ہے‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بند نمبر(6)

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

راہ دکھلائیں کسے راہروِ منزل ہی نہیں

تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں

جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہِ گل ہی نہیں

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

اب اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

مائل بہ کرم (مہربانی کرنے پر تیار)۔۔۔ سائل (مانگنے والا)۔۔۔راہرو (راہ چلنے والا)۔۔۔ رہروِ منزل(منزل کی طرف سفر کرنے والا)۔۔۔ تربیت (ٹریننگ)۔۔۔ جوہرِ قابل (قابلیت کا جوہر رکھنے والا، کسی اہلیت کا حامل شخص)۔۔۔ گِل(مٹی)

اب اس بند کی تشریح:

اس بندسے خدا کی طرف سے،خدا ہی کی زبان میں شکوے کا جواب شروع ہوتا ہے۔اس کا پہلا مصرعہ اتنا بلیغ ہے کہ گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔۔۔’’ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں‘‘پر غور کیجئے اور دیکھئے کہ خدا کی طرف سے جوابِ شکوہ کی یہ شروعات کس آن بان اور شان سے کی جا رہی ہیں۔

خدائے رحیم و کریم فرما رہا ہے:

’’ہم تو مہربانی کرنے پر تلے بیٹھے ہیں لیکن کوئی مانگنے والا ہی نہیں۔۔۔ کس کی رہنمائی کریں کہ جب کوئی منزل کی طرف جانے کے لئے کمربستہ ہی نہ ہو؟۔۔۔ اگر کسی نے کچھ سیکھنا ہو تو ہماری سکھلائی کا تو ایک وسیع سلسلہ ہر جگہ موجود ہے۔

لیکن اگر کوئی سیکھنا ہی نہ چاہے تو ہم کس کو ٹریننگ دیں؟ اور جس سے تعمیرِ آدم کی جا سکے اگر وہ مٹی ہی کہیں نظر نہ آئے تو ہم انسانیت کی تعمیر کا فن کس کو بتائیں اور سمجھائیں؟۔۔۔ ہاں اگر کوئی مانگنے والا ہو تو ہم اسے شاہانِ کئی جیسی شوکت و سطوت عطا کر دیتے ہیں اور اگر کوئی ڈھونڈنے کے لئے نکلنے پر تیار ہو تو اسے ایک نئی دنیا بخش دیتے ہیں!

اس بند کے آخری شعر کی معنویت اور گہرائی اقبال کے کمالِ فن کی عکاس ہے۔ایران کے قدیم خاندانوں میں ہنحامنشی، کیانی اور ساسانی خاندانوں نے صدہا برس تک حکومت کی اور ان کی سلطنت کی حدود موجودہ پاکستان سے لے کر ارضِ فلسطین تک پھیلی ہوئی تھیں۔

ان قدیم خاندانوں میں وہ خاندان سب سے مشہور تھا جس میں تاریخ کے بڑے بڑے نام نظر آتے ہیں۔ مثلاً دارا، اردشیر، قباد، طہما سپ، کاؤس اور خسرو وغیرہ کی فرمانروائی کا دور تاریخِ عالم کے سنہری ادوار میں شمار کیا جاتا ہے۔ سکندر یونانی کے بعد اس کے خاندان کا کوئی اور حکمران تاریخ میں زندہ نہیں۔ رومن ایمپائر میں بھی صرف جولیس سیزر کا نام بہت نمایاں ہے۔

تیونس کے؟؟؟؟ نے کوہ ایلس پر ہاتھی چڑھا دیئے تھے۔ لیکن ان خاندانوں میں کوئی اکا دکا بادشاہ ہی مشہور ہوئے حالانکہ وہ شخصی حکومتوں کے آمرانہ ادوار تھے۔ لیکن جس طرح ہندوستان میں مغل سلطنت کے فرمانرواؤں میں مسلسل کئی عظیم نام ملتے ہیں جیسے بابر، اکبر، جہانگیر، شاہجہان اور اورنگ زیب، اسی طرح ایران کے قدیم اہخامنشی ادوار میں کوروش کبیر، نوشیروان عادل، جمشید اور ساسانیوں میں ارد شیر سے لے کر یزدگرد سوم تک کا عہد 400سے زیادہ برسوں پر پھیلا ہوا ہے۔

اس ساسانی خاندان کا مذہب آتش پرستی تھا۔ اس خاندان کا بانی اردشیر تھا جو 224ء میں تخت پر بیٹھا اور آخری فرمانروا یزدگرد سوم تھا جسے 651ء میں مسلمان عربوں نے حملہ کرکے شکست دی اور زرتشت کی جگہ حضرت رسولِ اکرمؐ کا لایا ہوا دینِ اسلام نافذ کیا۔کیانی شاہنشاہوں کے ناموں سے پہلے لفظ ’’کے‘‘ کا اضافہ کر دیا جاتا تھا جو ایک لقب تھا جیسا ہمارے ہاں نوابزادہ وغیرہ کا لقب ہے اسی طرح کیقباد، کے طہاسپ، کیکاؤس اور کیخسرو کے نام اور ان کے کارہائے نمایاں تاریخ میں بہت مشہور ہیں۔

فارس کے ان شاہنشاہوں کو شاہانِ کئی بھی کہا جاتا ہے۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر کوئی جوہرِ قابل ہو تو خدا اسے ’شانِ کئی‘ عطا کر دیتا ہے۔ اور دوسرے مصرعے میں مغرب کے ان عظیم لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے امریکہ، آسٹریلیا، قطب شمالی اور انٹارکٹیکا نام کے براعظم دریافت کئے۔

ان کو نئی دینائیں بھی کہا جاتا ہے۔ سپین کے کولمبس نے 1492ء میں امریکہ دریافت کیا، کیپٹن کک نے 1772ء میں آسٹریلیا دریافت کیا اورفریڈرک کک نے1908ء میں قطب شمالی پر پہنچ کر اس حقیقت پر مہرتصدیق ثبت کر دی کہ کوئی ڈھونڈنے والا ہو تو خدا اسے نئی دنیائیں بھی عطا کر دیتا ہے۔

بند نمبر(7)

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں

امتّی باعثِ رسوائی پیغمبر ہیں

بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں

تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں

بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خم بھی نئے

حرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تم بھی نئے

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

الحاد (کفر)۔۔۔ خوگر (عادی)۔۔۔ براہیم (حضرت ابراہیم۔ ضرورتِ شعری کی وجہ سے الف ساقط کر دی گئی ہے اور ابراہیم علیہ السلام کی جگہ براہیم کر دیا گیا ہے۔) آذر (حضرت ابراہیم کے والد جو کہا جاتا ہے کہ بت بنا کر بیچتے تھے)۔۔۔ بادہ (شراب)۔۔۔ بادہ آشام (شراب پینے والے، شرابی)۔۔۔ خُم (مٹکا جس میں شراب ذخیرہ کی جاتی ہے)۔۔۔ حرمِ کعبہ (مسجد کعبہ)۔

اب اس بند کی تشریح:

شکوہ کے جواب میں اللہ کی طرف سے سرزنش جاری ہے۔۔۔ خدائی آواز کہہ رہی ہے:

’’تمہارے بدن لاغر ہیں اور دل میں کفر و الحاد بھرا ہوا ہے۔ مسلم امّہ، اپنے رسولِ اکرمؐ کی رسوائی کا باعث بن رہی ہے۔(خدا کسی بھی پیغمبر کے لئے لفظ رسوائی استعمال کر سکتا ہے) بت شکن مسلمان اب تم میں نہیں رہے(محمود غزنوی کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے سومنات پر حملہ کرکے وہاں کے مندر میں رکھا بہت بڑا بت توڑ دیا تھا۔

تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ ابراہیم کے والد بت فروش اور بت گر تھے لیکن اب تمہاری حالت یہ ہے کہ تمہارے آباؤ اجداد تو بت شکن تھے لیکن تم بت گر بنے بیٹھے ہو۔ یعنی تم نے اپنے طرزِ عمل سے صورتِ حال معکوس بنا رکھی ہے۔

ابراہیم کے زمانے میں باپ بت گر تھا اور بیٹا بُت شکن تھا لیکن آج تم بت گر ہو جبکہ تہارے آبا بت شکن تھے۔ یعنی تم نے سارا معاملہ ہی الٹ پلٹ کر دیا ہے۔۔۔ شرابی بھی نئے۔۔۔ شراب بھی نئی۔۔۔ شراب کے مٹکے بھی نئے۔۔۔ تمہارا کعبہ بھی نیا۔۔۔ اس میں رکھے بت بھی نئے۔۔۔اور تم خود بھی نئے۔۔۔!

مزید : رائے /کالم