وطن روانہ ، نواز شریف ، مریم کی لاہور ایئر پورٹ پر گرفتاری ، استقبال کی تیاریاں مکمل ، شہر کے اندرونی داخلی ، خارجہ راستے کنٹینرز لگا کر بلاک ، رینجرز تعینات ، چھاپے گرفتارایں جاری ، موٹروے اور نیشنل ہائی ویز بند ، موبائل سروس معطل کرنے پر غور

وطن روانہ ، نواز شریف ، مریم کی لاہور ایئر پورٹ پر گرفتاری ، استقبال کی ...

لاہور ،لندن (جنرل رپورٹر،لیڈی رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، ) نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز گزشتہ رات پاکستان کیلئے روانہ ہو گئے ، وہ براستہ ابو ظہبی پاکستان آئیں گے۔ابو ظہبی میں وہ سات گھنٹے قیام کریں گے جہاں سے وہ شام سوا چھ بجے لاہور ائیرپورٹ پہنچیں گے ، نواز شریف کے ہمراہ 200کے قریب لیگی کارکن ، سفارت کار اور ملکی ، غیر ملکی صحافی بھی پاکستان آ رہے ہیں سابق وزیر اعظم نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز نے روانگی سے قبل اسحاق ڈار اور حسین نواز سے ملاقات کی ،اسحاق ڈار اور حسین نواز نے نواز شریف کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، روانگی سے قبل نواز شریف نے اسحاق ڈاراور حسین نواز کو گلے لگایا ۔ دریں اثناپاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن (ن) لیگ کے کارکنوں کی گرفتاریوں کانوٹس لے سپریم کورٹ نے 30 جولائی تک کسی سیاسی رہنما اور کارکن کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے رکھاہے مگر (ن) لیگ کے رہنما اور کارکن کوگرفتارکرکے عدالت عظمیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی پکڑدھکڑکے باوجود آج مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے استقبال کیلئے ائیر پورٹ جائیں گے انہوں نے کہاکہ اگر خطرناک کھیل کو بند نہ کیا گیا تو تباہی ہو جائے گی ، الیکشن کمیشن کٹھ پتلی بن چکا ہے اور تماشہ دیکھ رہا ہے ،پنجاب کی نگران حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ مل گئی ہے ، ہمارے لئے دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے جبکہ لاڈے کو جلسہ کرنے کی کھلی چھٹی ہے ،وقت ایک جیسا نہیں رہتا اس لئے انتظامیہ اور پولیس اپنی چیرہ دستیاں روک دے اور 26جولائی کو جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنے گی تو آپ کے ساتھ نا انصافی نہیں کریں گے لیکن انصاف اورقانون کے کٹہرے میں لائیں گے او ر جن تھانوں اور کوٹھڑیوں میں آج (ن) کے کارکن بند ہیں وہاں آپ ہوں گے،الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ (ن) لیگ کے گرفتار کارکنوں کی رہائی اور ان کی نظر بندی ختم کرانے کے لئے احکامات جاری کئے جائیں ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے معاملے پر مرکزی رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مشاہد حسین سید، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق ، حمزہ شہباز ، مریم اورنگزیب ، پرویز ملک ، خواجہ عمران نذیر سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے کہا کہ پورے زمانے میں کرپشن کرپشن کا شور تھا لیکن احتساب عدالت کے فیصلے میں نواز شریف کے خلاف کرپشن کا کوئی چارج نہیں اور اس کے باوجود نواز شریف کو دس سال اور مریم نواز کو سات سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی اہلیہ شدید علیل ہیں لیکن وہ پاکستان اور اس کی عوام کیلئے واپس آرہے ہیں،انہیں معلوم بھی ہے کہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی وطن واپسی پر پر امن رہ کر فقید المثال استقبال کا اعلان کیااور میں نے خود اورپارٹی رہنماؤں کے ذریعے کارکنوں کو پیغام بھجوایا کہ ہم پر امن رہیں گے ۔ ہم الحمد اللہ پاکستان کو بنانے والے ہیں ، ہم اس کے معمار ہیں کیا ہم اس کی شکست و ریخت کا سوچ بھی سکتے ہیں؟ ۔ ہم لاک ڈاؤن اور دھرنے والی جماعت نہیں بلکہ ہماری کارکردگی پوری دنیا کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جانب سے پر امن رہنے کے واضح اعلان کے باوجود نگران وزیر اعلیٰ ،وزیر داخلہ اور انتظامیہ کی چیرہ دستی قابل مذمت ہے ۔ ہمارے کارکنوں کو گرفتار کر کے 16ایم پی او کے تحت مقدمات درج کئے جارہے ہیں او رانہیں ایک ،ایک مہینے کے لئے نظر بند کیا جارہا ہے ۔ لاہور میں بدھ کی رات سے غنڈہ گردی جاری ہے ، ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کیلئے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے اور خواتین کیساتھ بد تمیزی کی جارہی ہے ۔ اس وقت تک ہمار ے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور انہیں ایک ماہ کے لئے نظر بند کیا گیا ہے ۔ یہ ظلم او رزیادتی پر ی پول رگنگ ہے اور اس کے ذریعے انتخابات کے عمل پر شکوک و شبہات کے سائے پڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایف آئی سے کہا ہے کہ تیس اگست تک کسی سیاستدان کو گرفتار نہ کیا جائے لیکن (ن) لیگ کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ بد ترین انتقامی کارروائی ہے ۔ اس سے پوری دنیا کو آگاہی ہوئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نشانے پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پر امن رہنے کی یقین دہانی کرائی لیکن اس کے باوجود دفعہ 144لگا دی گئی جبکہ لاڈلا عمران خان لاہور میں جلسہ کر رہا ہے کیا یہ دوہرا معیار نہیں ؟۔میں واضح طو رپر کہتاہوں کہ ہم آج جمعہ کے روز مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کے استقبال کیلئے جائیں گے اور ظلم او رزیادتیوں کے باوجود پر امن رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ وقت سدا ایک جیسا نہیں رہتا ۔ میں ایک روز قبل لاہور کے گلی کوچوںں میں گیا ہوں ، سب نے عوام کا موڈ دیکھ لیا ہے اور لاہور کا جوش اس وقت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے ،ہم عوام کی دعاؤں کی بدولت انتخابات جیت رہے ہیں ۔ اگر اس کے باوجود انتخابات کے نتائج کچھ اور نکلے تو اس کے بعد حالات کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے جو انہیں داغدار کر رہے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں لیکن انجینئرنگ کی جارہی ہے اور ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے ۔ غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ نواز شریف کی فلائٹ منسوخ ہو گئی ہے نواز شریف آج جمعہ کو لاہور ائیر پورٹ پر لینڈ کریں گے۔ نواز شریف کی پہلی محبت پاکستان کے ساتھ ہے اور وہ جیل کے سلاخوں کا ادراک ہونے کے باوجود اپنی ذات کو پس پشت ڈال کر پاکستان اور اس کی عوام کیلئے واپس آرہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری ہوئی تو ہم نے ان کے حوالے سے آگاہ کیا تھا ۔ ٹی وی پر ان کے خیالات جمہوریت کیلئے کبھی بھی خوش کن نہیں رہے اور وہ اپنے آرٹیکلز کے میں اپنے ارشاد عالیہ کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کیلئے جس محبت کا اظہار کرتے ہیں اس سے بھی سب آگاہ ہیں لیکن ہم نے صرف پیغام دیا اور اس سے آگے نہیں گئے ۔ 26جولائی کو آپ کا عہدہ ختم ہو جانا ہے پھر جو آپ کالم لکھتے ہیں انہیں کون پڑھے گا اور آپ کو اپنے اقدامات کا جواب دینا پڑے گا ، آپ کا ٹی وی پر آنا بھی مشکل ہو جائے گا ۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ نگران وزیر داخلہ جو ریٹائر آئی جی ہیں وہ بھی پی ٹی آئی کی غلیظ سیاست کا شکار ہو جائیں گے ، یہ ملک کے لئے خطرناک صورتحال ہے ۔ میں عدالت عظمیٰ ، جرنیلوں سب سے کہتا ہوں کہ ہم سب پاکستانی ہیں کیا ہم سب نے مل کر اس پاکستان کو بنانا ہے یا تباہ کرنا ہے ؟۔اگر انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھ گیا تو پھر کون جواب دے گا اور اس سے ہمارے دشمنوں میں ہماری جگ ہنسائی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر ایک ماہ کی ایکسپورٹ کے برابر رہ گئے ہیں ، سرمایہ کار بیرون ملک چلے گئے ہیں ، خطرناک کھیل کو بند کیا جائے وگرنہ تباہی ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو کہا ہے کہ آصف علی زرداری کو تیس اگست نہ بلائیں اور گرفتار نہ کریں لیکن جو سینکڑوں مسلم لیگی ، ہمارے عظیم ساتھی ہیں وہ دشمن تو نہیں ، کیا ہر کسی کو لیول پلینگ فیلڈ ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم پر امن استقبال کریں گے اور یہ پاکستان کے امن کے حق میں ہوگا اور اس کے انتخابات پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے ۔ لیکن اگر پکڑ دھکڑ ،دھونس اوردھاندلی جاری رہی تو پھر صورتحال کنٹرول میں نہیں ہو گی اور میں اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتا رہوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہماری ماں ہے اس کے ساتھ ظلم اور زیادتی برداشت نہیں ۔ الیکشن کمیشن اس وقت کٹھ پتلی بن چکا ہے اور خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ، راجہ ظفر الحق سے کہا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج جمعہ کے روز مسلم مسجد لوہاری سے جلوس کی قیادت کروں گا اور امن سے جائیں گے اور نواز شریف کے استقبال کے بعد پر امن طریقے سے منتشر ہو جائیں گے ۔ اگر مجھے گرفتار کر لیں گے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ، میں لانڈھی جیل ، اٹک قلعے کو خاطر میں لایا نہ کل لاؤں گا لیکن ہمیں ذاتی پسند او رنا پسند سے اوپر جانا چاہیے ، کسی کو کھلی چھٹی ہے اور ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے ، اس فلاسفی پر عمل کیا جائے جو قائد اور علامہ اقبال کی فلاسفی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کو جہاز سے ہی گرفتار کیا جائے گا تو ہم بازؤں پر پٹیاں باندھ کر پورے ملک میں پر امن احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے کیمروں کے توسط سے الیکشن کمیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے گرفتار کارکنوں کی رہائی اور ان کی نظر بندی ختم کرنے کے احکامات جاری کریں ، یہ بد ترین رگنگ ہے ،اگر کارکن رہا نہ ہوئے اور 25جولائی گزر گئی تو میں اونچی چوٹی پر دہائی کروں گا ۔ ۔ نگران وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ، انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کانوٹس لیں ،پنجاب کی نگران حکومت پی ٹی آئی سے مل گئی ہے ،لاڈلے کو جلسہ کرنے کی اجازت ہے جبکہ (ن) لیگ کے سینکڑوں کارکنوں کو پکڑ لیا گیا ہے یہ (ن) لیگ کی مقبولیت سے بوکھلا گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کے بعد پولیس اور بیورو کریسی کے لئے اصلاحات کی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئی کہتا ہے کہ ’’یہ ڈوو ہے ، اسٹیبلشمنت کا آدمی ہے ‘‘لیکن میں سب سے پہلے اور آخر میں پاکستانی ہوں ، اگر پاکستان ٹریک سے ہٹ گیا تو چاہے جج ہوں ، جرنیل ، سیاستدان حتیٰ کہ ہر شعبے سے وابستہ پاکستانی کو تکلیف پہنچے گی ، ۔ دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے صوبہ بھر میں رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر نگران وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کو خط لکھ دیا ۔شہباز شریف نے خط میں کہا ہے کہ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی گرفتاریاں غیر قانونی ہیں، انتظامیہ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کارکنوں کو گرفتار ی کے علاوہ جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا ہے ۔ انہوں نے خط میں کہاکہ لیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، ہمارے 169ورکرز کو کوٹ لکھپت جیل بھیجا جا چکا ہے، ہمیں انتخابی مہم چلانے سے روکنے کے لیے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، منفی ہتھکنڈوں سے الیکشن کو متنازع بنایا جا رہا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ میں چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس سپریم کو رٹ کو بھی یہ خط ارسال کر رہا ہوں۔ دریں اثنا لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد طے کی گئی حکمت عملی کے تحت ائیر پورٹ پہنچنے اور گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہو گئی جن کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں ،پولیس نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں اور مختلف شاہراہوں کے اطراف پر کنٹینرز کھڑے کر دئیے جبکہ بیرئیر اور خار دار تاریں بھی پہنچا دی گئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے مطابق پارٹی قائد نواز شریف محمدنواز شریف اور ا ن کی صاحبزادی مریم نواز آج ( جمعہ) کو لندن سے وطن واپس پہنچیں گے۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم لندن سے براستہ ابو ظہبی لاہور آئیں گے او ران کا طیارہ جمعہ(آج) شام سوا چھ بجے ائیر پورٹ پر لینڈ کرے گا۔ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی ابو ظہبی میں قیام کے دوران اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں اور ان کے ہمراہ (ن) لیگ کے رہنماؤں ،پاکستان سمیت دیگر ممالک کے صحافی بھی لاہور آئیں گے جبکہ بعض ممالک کے سفارتکاروں کی آمد کے حوالے سے بھی بتایا جارہا ہے۔ دوسری طرف (ن) پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد مرکزی رہنماؤں نے آئندہ کی حکمت عملی کیلئے اجلاس منعقد کئے جس میں نگران حکومت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے بدھ کی رات سے (ن) لیگ سے وابستگی رکھنے والے غیر فعال بلدیاتی نمائندوں اور متحرک سمجھے جانے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں اور درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکمت عملی کے تحت کئی رہنما اور کارکن روپوش ہو گئے ہیں جو آج جمعہ کے روز ہر صورت ائیر پورٹ پہنچنے کی کوشش کریں گے ۔پولیس کی جانب سے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا اور مبینہ طو رپر کئی مقامات پر اہل خانہ سے بدتمیزی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی پولیس کی جانب سے (ن) لیگ سے وابستگی رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں کی جانے کی اطلاعات ہیں ۔ پولیس کی جانب سے لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں کے اطراف میں کنٹینرز کھڑے کر دئیے ہیں جبکہ بیرئیرز اور خار دارتاریں بھی پہنچا دی گئی ہیں۔ لاہور میں مختلف شاہراہوں کے اطراف پر بھی کنٹینرز کھڑے کر کے دئیے گئے ہیں جنہیں حکمت عملی کے تحت کارکنوں کو روکنے کے لئے راستوں کی بندش کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق (ن) لیگ کی جانب سے بھی ائیر پورٹ پہنچنے اور رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے ۔مسلم لیگ کے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے رہنما اور کارکن بھی لاہور پہنچنا شروع ہو گئے اور بتایا گیا ہے کہ یہ تمام لوگ عام مسافروں کے روپ میں لاہور پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حراست میں لیے گئے لیگی کارکنوں میں فیصل ٹاؤن تحفظ امن کمیٹی کے چیئرمین عاشرجٹ، کاہنہ سے مسلم لیگ (ن) کے وائس چیئرمین محمد شفقت، یو سی 98 چیئرمین مزمل گجر، چیئرمین یوسی 78سید عامر شاہ گلشن راوی، یو سی 48کے چیئر مین چودھری محمد علی گجر، یو سی 59کے چیئر مین باؤ محمد رفیق، یو سی 98 سے چیئرمین مزمل گجر شامل ہیں۔اس کے علاوہ فیروزوالہ یوسی 2مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین شیخ کاشف، یوسی 4کے ساجد چوہان اور جوہر ٹاؤن سے مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین ملک نثار احمد کھوکھر کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے یو سی 66کے چیئرمین اویس چیمہ یوسی 59سے باؤ رفیق گجر ،یوسی 65سے اویس بشیر کو گرفتار کر کے تھانہ اسلام پورہ میں بند کر دیا ۔چیئرمین یوسی 205مزمل گجر،،چیئرمین یوسی 209توصیف قریشی،اقلیتی رہنما عارف صادق،کونسلرسید وقار شاہ اور دیگر کارکنوں کو بھی گرفتار کر کے تھانوں میں بند کر دیا گیا ۔پولیس نے یو سی 33یکی گیٹ وائس چیئرمین احمد رشید بٹ کے دفتر اور فیروزوالہ شاہدرہ پولیس نے مسلم لیگ (ن) کے چئیرمینز اور وائس چیئرمینز کے گھروں پر چھاپے مارے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

شہباز شریف

لاہور ،اسلام آباد ( کرائم رپورٹر ،سٹاف رپورٹر ، آن لائن ) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہاہے کہ معزز احتساب عدالت کے ایوان فیلڈ ریفرنس میں دیئے گئے فیصلے اور معزز احتساب عدالت کی طرف سے نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری کیلئے جاری کئے گئے وارنٹ گرفتاری پر قانون کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائیگا۔ ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری پر قانون کی خلاف ورزی اور کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگینیب لاہور کی سولہ رکنی ٹیم دن دو بجے سے پہلے لاہورائرپورٹ نوازشریف اور مریم کی گرفتاری کے لئے پہنچ جائے گی ۔نیب کے ڈائریکٹر امجد علی اولکھ ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے شام سواچھ بجے نوازشریف اور مریم کو لاہورائر پورٹ پر لانے والے طیارے میں داخل ہونگے ۔ذرائع کے مطابق ائر پورٹ سکیورٹی ،سول ایوی ایشن اورایلیٹ کمانڈوز جہاز کو اپنے حصار میں لیں گے ۔ائر پورٹ سکیورٹی حکام نے طیارے میں شور شرابہ مچانے اور نوازشریف اور مریم کی گرفتاری میں رکاوٹ بننے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے پلان مرتب کرلیا ہے ۔نواشریف اور مریم کو حراست میں لیکر ہیلی کاپٹر میں بٹھانے کے لئے لیڈی کمانڈوز کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں ۔ذرائع کے مطابق نوازشریف اور مریم سے ملاقات کرنے کے لئے کسی بھی شخص کو طیارے تک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔کسی ایمر جنسی کی صورت میں نیب لاہور کے مزید افسران کو ائر پورٹ پر بھجوانے کے بھی انتظامات کئے گئے ہیں ۔اس مقصد کے لئے نیب لاہور کے تمام افسران کو آج (جمعہ) نیب دفاتر میں موجود رہنے کے احکامات دئیے گئے ہیں ۔اس آپریشن کی مانیٹرنگ نیب لاہور کے ڈی جی شہزاد سلیم خود کریں گے ۔جبکہ نواز شریف اور مریم نواز کی آج شام ممکنہ لاہور آمد پر داخلی وخارجی راستے بندکرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ جس کے لیے کنٹینرز بھی پہنچا دیئے گئے ہیں جس کے لئے کنٹینرز کی بڑی تعداد داخلی اور خارجی راستوں پر پہنچا دیے گئے ہیں جس کے لیئے ۔ سٹی ٹریفک پولیس نے متبادل ٹریفک پلان بھی جاری کر دیاہے۔سٹی ٹریفک پولیس کے متبادل ٹریفک پلان کے مطابق موٹروے سے آنیوالی ٹریفک ٹھوکر، قزلباش چوک سے شہر میں داخل ہوگی۔ جی ٹی روڈ سے آنیوالی ٹریفک کالاشاہ کاکو سے براستہ ٹھوکر شہر میں آسکے گی۔ کالا خطائی روڈ سے آنیوالی ٹریفک شاہدرہ چوک، بیگم کورٹ سے داخل ہوگی۔ملتان روڈ سے آنیوالی ٹریفک سندر روڈ، موہلنوال روڈ سے داخل ہوگی۔رائیونڈ روڈ سے آنیوالی ٹریفک ہلوکی روڈ، صوئے آصل سے داخل ہوگی۔ قصور سے آنیوالی ٹریفک براستہ کاہنہ کاچھا گرین ٹاؤن آئے گی۔سرکاری ٹی وی نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی کوریج پر پابندی لگا دی،نواز شریف کے حوالے سے کسی پروگرام اور ٹاک شوز میں بات چیت یا تبصرہ نہیں کیا جا سکے گا،سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم کی وطن واپسی سے متعلقہ اہم فیصلہ، موٹروے اور نیشنل ہائی ویز کو بند کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے پیِش نظر لاہور اسلام آباد موٹروے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، موٹروے کو بابو صابو سمیت متعدد انٹر چینجز سے بند کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق نیشنل ہائی ویز کو بھی جہاں جہاں ضرورت ہوئی بند کیا جائے گا۔ موٹروے اور نیشنل ہائی ویز بند کرنے پر رات گئے سے عملدرآمد شروع کیا جائیگا۔ جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر لگائے جانے والے پولیس ناکوں پر رینجرز کے اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں جس کامقصد بیرون شہر سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کی صورت میں ان کے استقبال کیلئے آنے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے قافلوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکنا ہے بتایاگیا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر لگائے جانے والے پولیس ناکوں پر دس دس رینجرز اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جو کسی بھی ممکنہ صورتحال میں لاہورپولیس کی معاونت کرینگے اس سلسلے میں تمام داخلی و خارجی راستوں پرکنٹینرز بھی پہنچا دئیے گئے ہیں جن کے حوالے سے متعلقہ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں جیسے ہدایات ملیں گی وہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دینگے یہ بھی بتایاگیا ہے کہ مذکورہ کنٹینرز اور رینجرز اہلکار لاہور کے داخلی و خارجی راستوں جن میں سگیاں پل شیرا کوٹ ٹھوکر نیاز بیگ گجومتہ اور شاہدرہ موڑ شامل ہیں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا جائیگا۔

گرفتاری تیاریاں

مزید : صفحہ اول