کلثوم نواز ہوش میں آگئیں ، خاوند اور بیٹی کو دیکھ کر آبدیدہ

کلثوم نواز ہوش میں آگئیں ، خاوند اور بیٹی کو دیکھ کر آبدیدہ

لندن(آن لائن) نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ہوش میں آگئیں ،آنکھیں کھولتے ہی نواز شریف اور مریم نواز کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں، 30 دن بعد امی نے آنکھیں کھولی ہیں،مریم نواز کا ٹویٹر پیغام،والدہ کی حالت میں بہتری آ رہی ہے، حسین نواز،دوسری طرف مریم نوازنے کہا کہ تاریخ کا بدترین کریک ڈاؤن ہمارے کارکنوں کے خلاف شروع ہو چکا ، ہمیں سزا دینے کے بعد یہ سب کچھ ہورہا، اس کا مطلب ہے یہ لوگ مان لیں وہ ہار چکے ہیں گی۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ہوش میں آگئیں انکھیں کھولتے ہی نواز شریف اور مریم نواز کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں،حسین نواز نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کو ایک ماہ بعد ہوش آیا ہے اور انہوں نے اپنی آنکھیں کھولی ہیں، ڈاکٹروں نے دوائیں تبدیل کی تھیں جن کے مثبت نتائج آئے ہیں۔مریم نواز نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی والدہ کو 30دن بعد ہوش آیا ہے، انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں ہیں اور ہمیں دیکھا ہے تاہم یہ نہیں پتہ کہ ہمیں پہچانا بھی ہے کہ نہیں؟ ابھی بھی امی بے ہوشی میں ہیں، انہوں نے صرف اپنی آنکھیں جھپکیں وہ بدستور وینٹی لیٹر پر ہیں۔ آب سب سے دعاؤں کی اپیل ہے۔مریم نواز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ والدہ کو ابھی تک ہوش نہیں آئی، انہوں نے اپنی پلکیں جھپکی ہیں۔ دوسری طرف لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ تاریخ کا بدترین کریک ڈاؤن ہمارے کارکنوں کے خلاف شروع ہو چکا ہے، ہمیں سزا دینے کے بعد یہ سب کچھ کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے یہ لوگ مان لیں کہ وہ ہار چکے ہیں، ن لیگ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن اس بات کا ثبوت ہے کہ مخالفین ہمارے سے خوف زدہ ہیں اور ہمیں سزائیں دینے کے باوجود ن لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں یہ سب کچھ کرنے کا مطلب ہے یہ لوگ ہار چکے ہیں اور یہ بات ان کو مان لینی چاہئے۔ جو لوگ کرسی کے نشے میں ہیں انہیں جواب تو دینا پڑے گا، نواز شریف نے اپنے کارکنوں کو عدم تشدد کا پیغام دیا ہے اور لاہوریوں نے مخالفین کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا ہے، کسی کو ہمیں ڈرانے دھمکانے کی ضرورت نہیں ہم خود گرفتاری دینے آرہے ہیں، ہم باہر بھی نکلیں گے اور عوام سے خطاب بھی کرینگے، انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو بھی باہر نکلنا ہو گا اور وہ فاطمہ جناح کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت اور ووٹ کے تقدس کی جنگ میں ہمارا ساتھ دیں۔

کلثوم ،مریم

لندن (آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے قائداورسابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جن حالات میں ہم وطن واپس جا رہے ہیں کوئی نہیں جاتا، مجھے یقین ہے کہ پاکستانی قوم ہمارا ساتھ دے گی، مریم نواز اپنی والدہ کو بیماری کی حالت میں چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اہلیہ نے آنکھیں کھولی ہیں لیکن مجھے پہچان نہیں رہیں، جن حالات میں ہم واپس جا رہے ہیں کوئی نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اپنی والدہ کو بیماری کی حالت میں چھوڑ کر جا رہی ہیں، ہم پاکستان اور عوام کیلئے وطن واپس جا رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ پاکستانی قوم ہمارا ساتھ دے گی۔ محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بے اصولی کا قائل نہیں ،جو کچھ ہو رہا ہے میرا فرض ہے عوام کے نوٹس میں لاؤں،ملک سے باہر ہی رہنے کے پیغامات موصول ہوئے ہیں ،الیکشن میں بدترین دھاندلی کا ارتکاب ہو رہا ہے،کارکنوں کی گرفتاریوں جیسے اقدامات انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف ہیں، ایسے اقدامات سے ملک کے لئے گھناؤنے نتائج نکلیں گے، نظر آرہا ہے ملک بربادی کی طرف جارہا ہے، اپنے ملک کو برباد نہیں ہونے دینگے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمد نواز شریف نے کہا کہ بے اصولی کا قائل نہیں ہوں جو کچھ ہو رہا ہے میرا فرض ہے کہ عوام کے نوٹس میں لاؤں۔ انہوں نے کہا کہ پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ میں ملک سے باہر ہی رہوں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کس قسم کے انتخابات کرانے جارہے ہیں، لاہور سمیت پنجاب میں (ن) لیگ کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے، باقی پارٹیاں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی کا ارتکاب ہو رہا ہے، گرفتاریوں جیسے اقدامات انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف ہیں، ایسے اقدامات سے ملک کے لئے گھناؤنے نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ امیدواروں کو ڈرایا، دھمکایا جارہا ہے یہ جو کچھ ہو رہا ہے سب کے نوٹس میں آچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں اورگردونواح میں کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے امیدواروں کو ڈرا، دھمکا کر تحریک انصاف جوائن کرائی گئی ۔ نظر آرہا ہے کہ ملک بربادی کی طرف جارہا ہے، ہم اپنے ملک کو برباد نہیں ہونے دینگے۔

نواز شریف

مزید : صفحہ اول