پاکستان ، روس چین اور ایران کا خطے سے دہشتگردی ، داعش کا خاتمہ کرنے پر اتفاق

پاکستان ، روس چین اور ایران کا خطے سے دہشتگردی ، داعش کا خاتمہ کرنے پر اتفاق

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی میزبانی میں چین، روس اور ایران کے حساس اداروں کے سربراہوں کا مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اجلاس میں چاروں ممالک نے خطے سے دہشتگردی اور افغانستان سے داعش کے خاتمے کیلئے تعاون کو فرو غ، مشترکہ کو ششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جمعرات کو سرکاری ذرائع نے بتایااجلاس میں مشرق وسطیٰ سے جنم لینے والے گروپ ’’ د ا عش ‘‘ کو چاروں ممالک کی سرحدوں سے دور رکھنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ اجلاس میں شرکت کرنیوالے چاروں ممالک براہ را ست داعش کی دہشت گردی کی کاروائیوں سے متاثر ہیں تاہم یہ اجلاس کسی بھی دوسرے ملک کیخلاف منعقد نہیں کیا گیا۔ روس کے حساس ادارے کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے باعث اسلام آباد میں چاروں ممالک کے حساس اداروں کے نمائندوں کو ملاقات کرنا پڑی۔اجلاس میں شام ،عراق سے داعش کے دہشت گردوں کی افغانستان آمد روکنے کیلئے تجاویز پر غورکیا گیا۔اجلاس میں روس کی خفیہ ایجنسی کی نمائندگی سرگئی نارشکن نے کی ، روس کی خفیہ ایجنسی کے ڈائریکٹر سرگئی ایوانو ف نے روسی میڈیا کے ادارے ’’تاس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اجلاس میں تمام شرکا نے مل کر داعش کیخلاف اقدامات کرنے کیلئے تعاو ن پر اتفاق کیا ۔اجلاس کے دوران روس کی جانب سے لگائے جانیوالے ان الزامات کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں یہ کہا گیا تھا امریکہ افغا نستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کی حمایت کر رہا ہے، واشنگٹن نے ان الزامات کو افواہیں قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور دا عش کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو طالبان کی کاروائیوں کیساتھ منسلک کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے وزیلی نابینزیانے کہا داعش افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز قائم کر رہا ہے اور اس میں ایسے دہشت گردوں کو شامل کیا جا رہا ہے جن کا تعلق مشرق وسطیٰ کی ر یاستوں سے ہے، داعش میں اس وقت دس ہزار سے زائد عسکریت پسند موجود ہیں اور یہ افغانستان کے 34صوبوں میں سے 9صوبوں میں فعال ہیں، ایران بھی خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی وجہ سے ہونے والی کاروائیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکا ہے، داعش افغانستان میں کام کرنیوالے اپنے عسکریت پسندوں کو صوبہ خراسان کا نام دیتی ہے، داعش کی جانب سے افغانستان اور پاکستان میں متعدد حملے کئے جا چکے ہیں۔پاکستانی سرکاری ذرائع کاکہنا ہے داعش نے افغانستان کے ایسے خطرناک علاقوں میں اپنے تربیتی مراکز قائم کئے ہیں جن پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں اور یہ سرحد پار سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔پاکستان، چین، روس اور ایران نے طالبان کیساتھ رابطے قائم کئے ہیں تا کہ انہیں عسکریت پسندی کی کاروائیاں ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے اور مذاکرات کی طرف راغب کیا جا سکے تاہم ان رابطوں نے افغانستان اور امریکہ کو پریشان کر دیا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے ایسے رابطے طالبان کی دہشت گرد کارروائیوں کو قانونی قرار دینے کے مترادف ہیں۔دوسری طرف امریکہ کے ایک فوجی تجزیے میں بتایا گیا تھا افغان حکومت کے کنٹرول میں ملک کا 60 فی صد سے بھی کم علاقہ ہے۔تاہم اسلام آباد، ماسکو، بیجنگ اور تہران کے طالبان کیساتھ رابطے ہیں۔اس کا مقصدا فغان جنگ کا بات چیت کے ذریعے حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنا ہے،لیکن کابل اور واشنگٹن ان سفارتی رابطوں کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ادھرامر یکی ٹی وی وا ئس آ ف امر یکہ نے بھی ذرا ئع کا حوالہ دیتے ہو ئے اپنی رپورٹ میں کانفرنس کے انعقاد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا افغا نستان کیساتھ مشتر کہ سرحد رکھنے والے یہ چاروں ملک اپنے پڑوس میں داعش کے اجتماع کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ، تاہم ا جلاس کا ایک اور غیر معمولی پہلو یہ کہ داعش کی دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ملک افغانستان کانفرنس میں شامل نہیں تھا،کانفرنس کے شرکا نے داعش کے دہشتگردوں کو شام اور عراق سے افغانستان جانے سے روکنے کیلئے تعاون پر مبنی اقدام کی اہمیت پر اتفاق کیا،افغانستان میں جنگ ختم کرنے کیلئے علاقائی طاقتوں کی جانب سے زیادہ موثر شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔

چارممالک اتفاق

مزید : صفحہ اول