قوانین کے سقم دور کرنا ضروری ، مفاہمت کی روایت کا خاتمہ اچھا نہیں : جسٹس انوار الحق

قوانین کے سقم دور کرنا ضروری ، مفاہمت کی روایت کا خاتمہ اچھا نہیں : جسٹس انوار ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس انوارالحق نے کہا ہے کہ معاشرے میں مفاہمتی بات چیت کا سلسلہ ختم ہونا اچھی بات نہیں،معاشرے اورقوانین کی ترقی بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار میں بین الاقوامی قوانین سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس انوارالحق نے کہا کہ قوانین میں موجود سقم دور کرنا وقت کا تقاضا ہے، انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی رولز کمیٹی کی جانب سے قوانین میں موجود سقم دور کرنے کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ضابطہ دیوانی کے رولز میں ترمیمی مسودہ حتمی منظوری کے لئے کابینہ کو بھجوا دیاگیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کی مصالحتی کمیٹی کے ممبرمیاں ظفر اقبال کلانوری نے کہا مصالحتی طریقے سے زیر التواء مقدمات نہ نمٹائے گئے تو موجودہ مقدمات کو نمٹانے کے لئے 320برس چاہئیں، انہوں نے بتایا کہ سی پیک سے متعلقہ تنازعات کے حل کے لئے بھی مصالحتی طریقہ اختیار کیا جائے گا، تقریب سے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان بہت سارے عالمی قوانین کا پابند ہے،اقوام متحدہ کی قرار داد کے باوجودکشمیر کا مسلہ آج تک حل نہ ہونا قابل افسوس ہے۔

جسٹس انوارالحق

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...