نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں پر پابندی عائد

نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں پر پابندی عائد

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سپریم کور ٹ نے نجی میڈیکل کالجز کے داخلوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے یونیفارم پالیسی نہ ہونے تک داخلے بند رہیں گے۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں نجی میڈیکل کالجز فیس اسٹرکچر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ میڈیکل کالجز میں ایڈمیشن سسٹم کا مرکزی نظام بنانا ہے، موجودہ ایڈمیشن نظام میں سقم ہیں، عدالت نے واضح کیا کہ میڈیکل کالجز میں فیس 8لاکھ 50ہزار سے زائد نہیں ہوگی، ایڈمیشن فیس پر مناسب نفع ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا یہ عدالتی کارروائی کسی میڈیکل کالج کیخلاف نہیں، عوامی مفاد کے تحت اس کیس کو دیکھ رہے ہیں، ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا ایف آئی اے نے 745ملین روپے میڈیکل کالجز سے ریکور کرکے طالبعلموں کو واپس کیے، ریکور کی گئی 745 ملین کی رقم گزشتہ سال فیس کی مد میں لی گئی تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا میڈیکل کالجز میں ایڈمیشن پر پابندی ہے، جب تک عدالتی حکم واپس نہ ہو داخلے نہیں ہوں گے، عدالتی کارروائی میڈیکل کے شعبے کیلئے بڑی مفید ثابت ہوگی جبکہ یونی فارم پالیسی نہ ہونے تک داخلے بند رہیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی۔بعدازاں چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد میں اقلیتوں کی کچی بستیو ں کا نوٹس لیتے ہوئے اعتزاز احسن کو دو صفحات کی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا اعتزاز احسن صاحب آپ چیمبر میں ملیں اعتزاز احسن نے بتایا آج جمعہ کو آپ کو چیمبر میں ملوں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کچی بستیوں میں اقلیتی برادری بدترین حالات میں رہ رہی ہے اقلیتیں کچی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں ،دریں اثناء چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سرکاری افسران کی دوہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئررضوی نے بتایا 745 سرکاری افسران دوہری شہریت کے حامل ہیں۔عدالتی احکامات کے بعد مزید 26افسران نے دوہری شہریت ظاہر کی۔چیف جسٹس نے کہادوہری شہریت کے حامل افراد الیکشن نہیں لڑ سکتے۔سرکاری افسران دراصل حکومت چلاتے ہیں لیکن ان کی دوہری شہریت پر کوئی پابندی نہیں عدالت نے ملکی مفاد میں دو ہری شہریت کے حامل افراد کی فہرستیں جمع کیں۔مسئلے کا حل فی الحال سامنے نہیں آرہا وکیل شاہد حامد نے کہااس معاملہ میں عدالت کی معاونت کرنا میرے لیے اعزاز ہو گا۔غیرملکی شہری سرکاری ملازم حاصل کر سکتے ہیں۔

داخلہ پابندی حکم

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ نے ڈیموں کے فنڈ کیلئے پیمرا اوروزارت اطلاعات کو ذرائع ابلاغ کی موثرمہم اور عوامی آگہی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ۔ تفصیلا ت کے مطابق یہ ہدایت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں ایک چاررکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران کی ،عدالت نے کہا ملک بھرمیں تمام بینکوں کی شاخیں داخلی دروازوں پربینرز نمایاں آویزاں کریں جن پران ڈیموں کی تعمیر کیلئے عطیات وصول کرنے کی عبارت درج ہو۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے تمام عطیات نقدی، چیک ،پے آرڈر ،ڈیمانڈ ڈرافٹ او ر پر ا ئز بانڈ کی صورت میں اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک اورمائیکروفنانس بینکوں سمیت دیگر تمام بینکوں کی شاخوں میں جمع کرائے جاسکتے ہیں،عطیا ت جمع کرنیوالے بینک تصدیق شدہ رسید دینے کے پابند ہوں گے۔ آن لائن، انٹرنیٹ بینکنگ اور اے ٹی ایم کے ذریعے عطیات کی وصو لی کیلئے آئی بی اے این نمبربھی مختص کیاگیاہے جو سٹیٹ بینک اورسپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ڈالاجائے گا۔عدالت نے کہا عوام بغیر کسی اضافی ادائیگی کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بھی عطیات جمع کراسکتے ہیں تاہم پاکستان سے باہرسے جمع کرانیوالوں پرمتعلقہ مما لک کے چارجز لاگو ہوں گے۔سپریم کورٹ نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرون ملک سفارتخانوں کو عطیات وصول کرنے کیلئے سٹیٹ بینک کی مشاورت سے مناسب ہدایات جاری کریں تاکہ فنڈز سٹیٹ بینک کے مخصوص اکاؤنٹ میں جمع کرائے جاسکیں۔عدالت عظمیٰ نے پاکستانی سفارتخانوں اور بیرون ملک پاکستانی بینکوں کی شاخوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وصول شدہ عطیات کی تفصیلات سپریم کورٹ اور سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پرجاری کرے، جبکہ موبائل فون کے صارفین بھی 8000ڈائل کرکے دس روپے عطیہ کرسکتے ہیں ، فنڈ میں جمع کرائے جانیوالے عطیات پرکسی قسم کاٹیکس یاڈیوٹی عائد نہیں ہوگی۔

عطیات مہم

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...