فریضہ اور اسلام

فریضہ اور اسلام

پاکستان کو معرض وجود میں آئے 70 برس کا عرصہ بیت گیا ان سات دہائیوں میں ہم نے ملک میں بڑے نشیب و فراز دیکھے مگر اس مملکتِ خداداد کو 70 برس سے چلانے والے اور رہنے والے وہ تو اس ملک میں رہے ہیں کھاتے بھی یہاں ہیں کماتے بھی یہاں ہیں مگر ان کے دلوں میں آج بھی غلامی کی صدا گونجتی ہے وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب ہم لوگ اپنا اقتدار کھو کر مغربی اقتدار اپنانے کی کوشش کریں گے تو لازمی بات ہے کہ ہم نہ اس ملک کے رکھوالے ہو سکتے ہیں نہ اور باسی ہو سکتے ہیں کیونکہ ہم بس اس ملک میں عیاشی کرنے آتے ہیں اور اس کو لوٹ کر کھانے والوں کا ساتھ دینے آتے ہیں۔ قرآن مجید، فرقان حمید میں اللہ رب العزت ایک آیت میں ارشاد فرماتے ہیں ترجمہ (جیسی قوم ہو گی اس پر ویسے ہی لوگ یعنی حکمران مسلط کر دیئے جائیں گے) یعنی اللہ رب العزت صاف الفاظ میں اپنے نبی کی امت اور مسلمانوں بلکہ آنے والے تمام لوگوں کو بتا رہا ہے کہ اگر اچھائی کا راستہ اپناؤ گے تو فلاح پاؤ گے اور اگر برائی کی طرف راغب رہے تو جیسے اعمال کرو گے نتیجہ بھی اس کے مطابق پاؤ گے اگر اب ہم قرآن مجید کی اس آیت کے ترجمے لے کر سوچیں تو ان 70 برسوں میں ہم نے کبھی بھی ووٹ ڈالتے وقت اسے اپنا قومی فرض نہیں سمجھا کیونکہ حکم ہے کہ ایسے لوگوں کو منتخب کرو جو نیک ایماندار ہوں اور اپنے ملک سے پیار کرتے ہوں۔ رعایا کے دکھ، درد، پریشانی کو سمجھتے ہوئے ان کی خدمت کرتے ہوں، مگر آج تک ہم صرف نظریات کی جنگ میں الجھے،چند روپوں کی لالچ میں آکر اپنے اہم فریضے کا استعمال کرتے ہوئے ایسے لوگوں کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں، جو ہمارے دکھوں کا مداوا۔ ہمارے مسائل کا حل نکالنے۔ مذہب کی طرف راغب کرنے کی بجائے اتنی دور ہو جاتے ہیں کہ ان سے ہلنا بھی دشوار ہو جاتا ہے انہی لوگوں کی وجہ سے ملک میں انتشار، فرقہ واریت، دہشت گردی جنم لیتی ہے۔

یہ دھرتی اولیاء اللہ کی دھرتی ہے سینکڑوں، ہزاروں، کی تعداد میں مزارات موجود ہیں کچھ اللہ والے ایسے ہیں جو موجودہ حالات میں بھی ختم نبوتؐ کے پاسدار ہیں۔ انہی بزرگوں میں شامل امیر ملت سجادہ نشین علی پورہ سیداں شریف، پیر سید منور حسین شاہ جماعتی، سجادہ نشین پیرستان، شاہ پشاور و دیگر علمائے مشائخ کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن ختم نبوتؐ اور اس کے تحفظ کو مد نظر رکھ کر لڑے جائیں۔ ختم نبوتؐ الائنس کے دیگر رہنماؤں نے بھی ملک و قوم کے باسیوں سے استدعا کی کہ ملکی مفاد کو مد نظر رکھنے والوں اور ختم نبوت پر پختہ یقین رکھنے والوں کو اس مملکت خداداد کی باگ دوڑ سنبھالنے دیں اگر ہم ان علمائے مشائخ کی بات کا جائزہ لیں تو ہمیں ان کی بات سے یہی احساس ہوتا ہے کہ پاکستان جس بنیاد پر قائم ہوا اس کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں اللہ اور اللہ کے حبیب کی تعلیمات و احکامات اور قرآن مجید سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ختم نبوت کے پرچم کے صحیح اور حقیقی علمداروں کے ہاتھ میں اس ملک کا جھنڈا تھمانا ہوگا اور اس ملک کو حقیقت میں اسلام کا قلعہ بنانا ہوگا کیوں کہ وہ اچھے لوگوں کو منتخب کرنا ہماری قومی ذمہ داری وفریضہ ہے اس کے لئے والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور بزرگان دین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اپنے حق کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اس شخص کا انتخاب کریں جو اپنے وطن کی محبت سے سرشار ہو دین اسلام پر عمل پیرا ہو اس کا ہر لفظ، اس کاعمل، اسلام کے عین مطابق ہو۔ جسے اللہ اور اس کے رسولؐ کے روٹھ جانے کاخوف ہو۔جو اس کرسی پر بیٹھ کر اپنا نہیں بلکہ اس ملک کے باسیوں کا سوچے، جس کے الفاظ ایسے ہوں کہ اسے اپنے چھوٹے بڑے گناہوں کے ہو جانے کا خوف ہو۔ فرقہ واریت و دہشت گردی کو جنم دینے والا نہ ہو۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ اللہ کے ولیوں ، علمائے کرام اورمشائخ عظائم کے کسی بھی مشترکہ فتویٰ کی نظر ہو جائے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ نظریات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے پُرکھوں کی پارٹی چھوڑ کر اپنے دل و دماغ کو حاضر رکھ کر اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کو سامنے رکھ کر اولیائے کرام، علمائے دین کی قربانیوں کو سامنے رکھ کر ختم نبوت پر یقین رکھتے ہوئے اپنے حق کا صحیح استعمال کریں۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سے قومی فریضہ ادا ہوتے ہوتے کوئی بھول ہو جائے اور اس کی وجہ سے ایسا شخص برسرِ اقتدار آ جائے، جس کے آنے کے بعد ہماری آنے والی نسلیں بھی اس پچھتاوے سے جان نہ چھڑا سکیں اور اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ جائے، جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں۔ لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو جائیں۔ ملک میں فرقہ واریت جنم لے لے۔ دین و مذہب سے دوری ہو جائے۔ اللہ کے پیاروں کے پاس جانا بھول جائیں اور اپنی اقتدار کھو بیٹھیں۔ اسی لئے اس حق کو 25جولائی والے دن اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اسلام کے عین مطابق ادا کریں تاکہ ہمارا یہ ملک جو ہمیں اسلام کی بنیاد پر ملا ہے۔ اس پر ختم نبوت کا تحفظ کرنے والوں کا راج ہو۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...