حج آپریشن: 2018ء لاحق خدشات (آخری قسط)

حج آپریشن: 2018ء لاحق خدشات (آخری قسط)
حج آپریشن: 2018ء لاحق خدشات (آخری قسط)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چارٹرڈ فرم کی سکروٹنی کے خلاف 2200اعتراضات آنے کے بعد نیا پنڈورابکس کھل گیا۔ ہوپ نے تحریری طورپر ملک بھر کے حج آرگنائزر کو تین سال کی بجائے ایک سال کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ دلچسپ بات سامنے آئی کہ کچھ افراد نے تین سال کی آڈٹ رپورٹس جمع کرائی اور انہیں پورے کے پورے نمبر بھی مل گئے۔ ہوپ اور وزارت کے درمیان واضح خلا دیکھنے کو ملا، ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں RSM کی فراہم کردہ میرٹ لسٹوں کی دوبارہ تحقیقات شروع ہوئی تو بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوگئی۔ حج فارمولیشن کمیٹی نے RSM کی میرٹ لسٹ کے مطابق جو کوٹہ الاٹ کیا تھا اس پر بھی سوالات اٹھنے لگے تو وفاقی سیکرٹری نے کوٹہ الاٹ کرنے کے باوجود ان کمپنیوں کو بکنگ سے روک دیا۔ بعدازاں 24پھر 28اور 31کمپنیوں میں سے 4کمپنیوں کو ڈیفالٹر پایا گیا۔ان کا کوٹہ کینسل کر دیا گیا اور R.Lلیٹرواپس لے لیا گیا۔ جولائی کا مہینہ شروع ہونے پر مزید 5کمپنیوں کو کوٹہ دے دیا گیا۔ دسمبر میں حج پالیسی دینے والے 10جولائی2018ء تک پرائیویٹ حج سکیم کے کوٹہ الاٹمنٹ کے عمل کو مکمل نہ کر سکے اور سرکاری سکیم کو بھی ریال کے بڑھنے سے پیدا ہونے والے مسائل کے ساتھ ساتھ شاہین ایئر لائنز کی طرف سے فلائٹ شیڈول نہ دے سکنے کی وجہ سے فلائٹ شیڈول نہ آ سکا۔14جولائی کو پہلی فلائٹ تھی۔9جولائی کو ایک ہفتے کا شیڈول آ سکا پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ سرکاری سکیم کے ایک لاکھ 7ہزار عازمین ایک ماہ اپنی روانگی کی تاریخ کے لئے سولی پر لٹکے رہے۔ دلچسپ امر یہ ہے ان حالات میں وزارت مذہبی امور میں پراسرار سرگرمیاں جاری ہیں۔ وزارت مذہبی امور میں پہلی دفعہ پرائیویٹ سکیم کے انچارج کی نشست پر 10دنوں میں 4سیکشن افسر تبدیل کئے گئے۔ اب بھی جس کو لگایا گیا ہے وہ تمام امور سے لاعلم ہے۔شاہین ایئر لائنز کے ساتھ معاملات طے نہ پانے کی وجہ سے سرکاری سکیم کا 32ہزار کا لوڈ جو شاہین نے مکمل کرنا تھا اب سعودی ایئر لائنز پی آئی اے اور ایئر بلیو کو دے دیا گیا ہے۔ تینوں ایئر لائنز کا کوٹہ بڑھانے سے پرائیویٹ سکیم متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ایئر لائنز سب سے زیادہ فائدے میں نظر آ رہی ہے جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں لوڈ بھی زیادہ لے گی اور 5بڑے شہروں سے کل حج آپریشن کا آغاز بھی کرے گی۔ سرکاری سکیم کے حالات زیادہ بہتر نہیں ہیں منفی پہلوؤں کا جائزہ لینا نہیں چاہتا۔ تنقید برائے تنقید پر یقین نہیں ہے۔ اتنی گزارش ضرور کروں گا سرکاری سکیم کا حج آپریشن وزارت اور حکومت دونوں کی خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر توجہ نہ دی گئی تو 2017ء کی طرح 2018ء میں بھی سرکاری سکیم کا حاجی خوار ہو سکتا ہے۔جب حج آپریشن زوروں پر ہے ان دنوں میں وزارت مذہبی امور میں اپریشنل نظام اور حج پالیسی کے نظام کو علیحدہ علیحدہ کرنے کا پنڈورابکس کھولنا کہاں درست ہے اس پر علیحدہ نشست درکار ہے حج جیسے مقدس رکن کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے درخواست کرنا ضروری ہے۔

حج آپریشن کے نازک ترین حالات کو سمجھا جائے اور آپریشنل نظام کو علیحدہ کرنے کا پنڈورابکس فوری کھولنے کی بجائے حج کے بعد تک ملتوی کر دیا جائے۔ دوسری طرف اگر پرائیویٹ حج سکیم کا جائزہ لیا جائے اس میں بھی واضح نظر آ رہا ہے۔ دسمبر 17میں پرائیویٹ سکیم کے خلاف شروع کی گئی سازش 80فیصد تک کامیاب ہو گئی ہے۔ پہلے سرکاری سکیم 67فیصد کرکے پرائیویٹ سکیم 33فیصد کرنے کی کوشش کی گئی۔پھر نئے اور پرانے ٹورآپریٹرز کو برابر کرنے کی کوشش کی گئی سالہا سال سے کام کرنے والوں اور نئی انرول کمپنیوں کا کوٹہ برابر کرنے کا منصوبہ سامنے آیا۔ واقفان حال کا کہنا ہے یہ سب کچھ معاملات کو تاخیر کا شکار کرنے کے لئے کیا جاتا رہا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ پرائیویٹ حج سکیم کی بکنگ رمضان المبارک کے بعد چلی جائے۔

مخصوص لابی اپنے مقاصد میں کامیاب رہی۔ پرائیویٹ سکیم اور سرکاری سکیم کا تناسب اتنا بڑھا دیا کہ جنوری کی قرعہ اندازی میں رہ جانے والے پونے تین لاکھ افراد فیصلہ ہی نہ کر پائے۔ ہم جس دفتر میں گئے انہیں کہا گیا ابھی کمپنیوں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ لاکھوں افراد جو ہر صورت حج کرنے کے خواہش مند تھے۔انہیں جب کسی جگہ سے ٹھنڈی ہوائیں آئیں تو انہوں نے شعبان میں حج کی بجائے رمضان کے عمرہ کا فیصلہ کر لیا اور پھر رمضان میں عمرہ کی سعادت بھی حاصل کرلی۔

اس طرح مارکیٹ میں موجود لاکھوں حاجی غائب ہو گئے تو وزارت مذہبی امور نے حج 2018ء کے لئے کمپنیوں کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی مخصوص پیکچز کے اندر بکنگ کی اجازت دے دی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جس کے سازشی عناصر منتظر تھے۔ مارکیٹ میں حاجی غائب ،رہی سہی کسر ہوپ کے ذمہ داران نے پوری کر دی۔ زونل اور مرکزی ہوپ کے درمیان جاری کھینچا تانی کی وجہ سے سنگل انٹری ویزہ ملا جس کی میعاد بھی 20دن ہے 70فیصد حج آرگنائزر بکنگ کی وجہ سے بدحال ہیں اور دوسری طرف سعودی حکومت نے ہوٹلز کی تمام ادائیگیاں کیش کی بجائے سعودی بینک میں (Ibain) کے ذریعے کرنے کی پابندی لگا دی ہے۔ حج آرگنائزر درمیان میں اٹک گئے ہیں کیونکہ 95فیصد نے ہوٹلز ملکیت اور دیگر اداروں کو ایڈوانس میں کیش دے رکھے ہیں۔ حج آرگنائزر اتنے سرمایہ دار تو نہیں ہیں وہ Ibainمیں ادائیگیاں کریں۔ ایڈوانس بھی واپس نہ ملے اس حوالے سے وزارت مذہبی امور خاموش ہے۔ اگر عملی طور پر دیکھا جائے تو تمام شعبہ جات میں ناتجربہ کار افراد موجود ہیں کوئی بھی بات پوچھی جائے تو فرماتے ہیں مجھے پتہ نہیں۔ بحرانی کیفیت میں سرکاری سکیم بھی ہے اور پرائیویٹ سکیم بھی۔ ڈالر کے ساتھ ریال کی اڑان جاری ہے۔ سرکاری سکیم میں گزشتہ چار سال کامیاب حج آپریشن کرنے والے بھی موجودہ ذمہ داران کے رویے پر حیران ہیں۔حج آرگنائزر زیادہ وقت اللہ کی بارگاہ میں حج 2018ء کامیابی سے گزر جانے اور حاجی دینے کی دعاؤں میں گزار رہے ہیں۔

وزارت مذہبی امور نے تو سعودی حکومت کی طرف سے مسلط کئے جانے والے ٹیکسز اور ریال کے فرق کو سرکاری خزانہ سے 5ارب روپے کی سبسڈی دے کر پورا کر لیا ہے۔ پرائیویٹ سکیم کے حج آرگنائزر جن کے سارا سال دفاتر کے اخراجات ایاٹا فیس پروفیشنل ٹیکس انکم ٹیکس پراپرٹی ٹیکس ودہولڈنگ ٹیکس ملازمین کی تنخواہوں کے اخراجات برداشت کرنے میں گزرتا ہے، ان کے فی حاجی 50سے 70ہزار منافع کے سعودی بنکوں میں رقوم کی ٹرانسفر میں فی ٹرانزکشن نونو لاکھ نقصان ہو رہا ہے۔ وہ اخراجات کہاں سے پورا کریں گے۔

وزارت مذہبی امور کو سرکاری سکیم کی طرح پرائیویٹ سکیم بھی اپنا سمجھتے ہوئے بہت سی باتوں سے درگزر کرنا ہوگا اور دوراہے پر کھڑے حج آرگنائزر کی دل جوئی کے لئے خصوصی سرپرستی کرنا ہوگی کیونکہ ہوپ نے پہلے دن سے جس طرح پرائیویٹ سکیم کی آبیاری کی ہے۔ مرحلہ وار اپنی غلطیوں پر قابو پایا ہے۔ پوری دنیا میں 2017ء میں دوسرا نمبر حاصل کیا ہے۔2018ء میں پہلے نمبر پر لانے کے لئے ایک دوسرے کا بازو بننا ہوگا۔ ہوپ کو بھی مخالفت برائے مخالفت کی بجائے ٹریڈ کی مضبوطی اور ٹریڈ کو بچانے کے لئے ذاتی اور نچلی سطح کے اختلافات بھلا کر حج آرگنائزر کی سرپرستی کرنا ہوگی۔ ہر کمپنی کو ریلیف دینے کے لئے کم از کم ایک سروس سٹیکر فراہم کرنا ہوگا تاکہ اپنے حاجیوں کے لئے بہتر معاونین کی خدمات حاصل کر سکیں۔ آخر میں وزارت مذہبی امور اور ہوپ کو توجہ دلانی ہے ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کی بجائے مستقل پالیسیاں بنائی جائیں۔ سرکاری کی طرح پرائیویٹ سکیم کی پہلی فلائٹس کو لاحق خطرات میں حج آرگنائزروں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ہوپ اسلام آباد میں بھی کوئی کسی ممبر کا انفرادی کام کرنے کے لئے تیار نہیں سرکاری کام کی طرح ہوپ ملازمین کی نظریں حج آرگنائزر کی جیبوں پر لگی ہوئی ہیں وہ فرماتے ہیں کام ہو جائے گا اتنا خرچہ ہو گا یہ صفت اللہ کے مہمانوں کی خدمت کی نہیں ہے اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے فنڈ امانت ہیں ،ان کا حساب دینا بھی فرض ہے۔ (ختم شد)

مزید : رائے /کالم