سعد رفیق کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ووٹروں پر مثبت اثرات مرتب کرے گا

سعد رفیق کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ووٹروں پر مثبت اثرات مرتب کرے گا
سعد رفیق کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ووٹروں پر مثبت اثرات مرتب کرے گا

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

سپریم کورٹ کا جوڈیشل کمیشن 2015ء میں یہ فیصلہ تو پہلے ہی کر چکا ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات میں کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی تھی، کمیشن کے روبرو ایسے کوئی ثبوت کسی جانب سے پیش نہیں کئے گئے تھے جن سے دھاندلی کا الزام ثابت ہوتا، اب سپریم کورٹ کا ایک اور فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ 2013ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں بھی جہاں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار خواجہ سعد رفیق بھاری مارجن سے جیتے تھے، وسیع پیمانے پر دھاندلی نہیں ہوئی تھی، سعد رفیق کے مدمقابل تحریک انصاف کے حامد خان تھے جنہوں نے ’’وسیع پیمانے پر دھاندلی اور بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں‘‘ کی بنیاد پر الیکشن ٹربیونل میں انتخابی عذرداری دائر کی تھی، الیکشن ٹربیونل نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے انتخاب کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بنچ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرکے 19 مارچ کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ یہ فیصلہ جمعرات کو لاہور رجسٹری میں سنایا گیا۔

خواجہ سعد رفیق کا یہ حلقہ ان چار حلقوں میں شامل تھا جنہیں کھولنے کا مطالبہ عمران خان نے 2013ء کے الیکشن کے تھوڑے عرصے بعد ہی کر دیا تھا، باقی تین حلقوں میں ایاز صادق کا حلقہ این اے 122 تھا جہاں خود عمران خان ان سے ہار گئے تھے، تیسرا حلقہ لودھراں کا حلقہ این اے 154 تھا جہاں سے جہانگیر ترین ایک آزاد امیدوار سے ہار گئے تھے، چوتھا حلقہ سیالکوٹ کا حلقہ این اے 110 تھا جہاں خواجہ محمد آصف نے تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار کو ہرایا تھا۔ ایاز صادق کے حلقے کا انتخاب بھی الیکشن ٹربیونل نے کالعدم قرار دیا تھا جس کے خلاف ایاز صادق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی لیکن بعد ازاں واپس لے کر دوبارہ انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا، یہ ممکن تھا کہ اگر ایاز صادق درخواست واپس نہ لیتے اور اپیل کی سماعت ہوتی رہتی تو ایسا ہی فیصلہ آتا جیسا اب سعد رفیق کی اپیل کا آیا ہے، لیکن ایاز صادق نے دوبارہ عوام کے پاس جانے کا فیصلہ کیا، اب کی بار ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے علیم خان کو اتارا جو عمران خان کی اے ٹی ایم کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ دوسری اے ٹی ایم جہانگیر ترین ہیں۔ علیم خان نے اپنی انتخابی مہم بڑے جاندار طریقے سے چلائی، ووٹروں سے رابطے میں روپے پیسے کا استعمال بھی فراخ دلی سے کیا گیا، کہیں کہیں سے تو ووٹروں کا دل جیتنے کے لئے دلجوئی کے ایسے ایسے واقعات بھی سننے میں آئے جو بظاہر ناقابل یقین لگتے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود علیم خان جیت نہ سکے اور سردار ایاز صادق دوبارہ کامیاب ہو کر دوسری مرتبہ سپیکر کے منصب پر فائز ہوئے۔ تیسرا حلقہ لودھراں کا مشہور این اے 154 تھا جہاں جہانگیر ترین نے شکست تو ایک آزاد امیدوار سے کھائی لیکن الزام مسلم لیگ (ن) پر لگایا کہ اس نے دھاندلی کروائی ہے، حالانکہ اگر مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی ہی کرانی تھی تو اس کا فائدہ اپنے امیدوار کو پہنچاتی، لیکن یہ جماعت اتنی ستم ظریف تھی کہ اس نے جہانگیر ترین کو ہروانے کے لئے ایک آزاد امیدوار کے حق میں دھاندلی کرائی جبکہ اس کا اپنا امیدوار تیسرے نمبر پر آیا، اس جماعت میں اگر ذرا سی مروت بھی تھی، دھاندلی کا ارتکاب اپنے امیدوار کے حق میں کرانا چاہئے تھا نہ کہ آزاد امیدوار کے حق میں، لیکن بہرحال یہ ہوا ٹربیونل نے جہانگیر ترین کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اس حلقے کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا اور دوبارہ انتخابات کا حکم دیا۔ ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین جیت تو گئے لیکن ان کی بدقسمتی کہ سپریم کورٹ نے انہیں (1)62 ایف کے تحت عمر بھر کے لئے نااہل قرار دے دیا، اس حلقے میں دوسری مرتبہ ضمنی انتخاب ہوئے تو اسمبلی کی مدت کے خاتمے میں چند ماہ ہی باقی تھے اس لئے اتنے تھوڑے وقت کے لئے کسی امیدوار کو زیادہ دلچسپی نہ ہو سکتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے پیر اقبال شاہ کو میدان میں اتارا جنہوں نے جہانگیر ترین کے جواں سال صاحبزادے علی ترین کو ہرایا، اب انہی علی ترین کو تحریک انصاف نے دوبارہ ٹکٹ آفر کیا تو انہوں نے معذرت کر لی، چنانچہ تحریک انصاف کو کسی ’’الیکٹ ایبل‘‘ کی تلاش ہوئی تو نظرِ انتخاب جہانگیر ترین کے بیٹے کو ہرانے والے اقبال شاہ پر پڑی جو اس وقت تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ چوتھا حلقہ جسے کھولنے کا عمران خان مطالبہ کر رہے تھے، سیالکوٹ کا این اے 110 تھا جہاں سے خواجہ محمد آصف نے عثمان ڈار کو ہرایا، عثمان ڈار نے انتخابی عذرداری دائر کی تو وہ الیکشن ٹربیونل میں مقدمہ ہار گئے جس کے خلاف وہ سپریم کورٹ گئے لیکن وہاں سے بھی جیت نہ سکے اور فیصلہ خواجہ محمد آصف کے حق میں آیا، لیکن عثمان ڈار نے تھوڑے عرصے بعد ان کے خلاف ایک اور مقدمہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دیا جس میں غیر ملکی اقامے اور وہاں سے تنخواہ کی وصولی کی بنیاد پر خواجہ محمد آصف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا تاہم سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ معطل کر دیا اور اب خواجہ آصف اور عثمان ڈار دوبارہ مدمقابل ہیں۔ اس حلقے کا نمبر تبدیل ہو چکا ہے تاہم دونوں حریف پرانے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ مقابلہ کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

سعد رفیق کے حق میں فیصلے سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ جوڈیشل کمیشن جس نتیجے پر پہنچا وہ بالکل درست تھا، دھاندلی کے کوئی ثبوت کمیشن کے روبرو پیش نہ کئے گئے۔ یہاں تک کہ عمران خان جن 35 پنکچروں کا تذکرہ تسلسل کے ساتھ اپنی تقریروں میں کرتے تھے ان کا تذکرہ ہی جوڈیشل کمیشن کے روبرو نہ کیا گیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ اس سلسلے میں کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں تھے، الزام تراشی کی حد تک تو اس کا تذکرہ ہوتا تھا لیکن ثبوتوں کی بات آئی تو عمران خان نے کہا کہ یہ تو سیاسی بیان تھا گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ سیاسی بیان کا درست ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

اب خواجہ سعد رفیق کا حلقہ پہلے سے بدل گیا ہے لیکن اب کی بار ان کا مقابلہ براہ راست عمران خان سے ہے۔ مقابلہ کاٹنے دار ہوگا اور بعید نہیں کہ سعد رفیق، عمران خان کو بھی ہرا دیں، کیونکہ حلقے کی پوزیشن ایسی نہیں کہ فرض کر لیا جائے کہ عمران خان یقینی طور پر جیت جائیں گے، وہ جیت بھی سکتے ہیں لیکن اگر ہار گئے تو اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔

مثبت اثرات

B

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...