افغانستان طالبان نے امن مذاکراتی عمل کا مطالبہ مسترد کر دیا

افغانستان طالبان نے امن مذاکراتی عمل کا مطالبہ مسترد کر دیا

جلال آباد،جدہ(آئی این پی)افغان طالبان نے بین الاقوامی علماء کے امن مذاکراتی عمل کے مطالبے کو مسترد کر دیا، اجلاس کامقصد افغا نستا ن کو دوسرے فلسطین میں تبدیل کرنے کے مترادف تھا، اجلاس میں شریک شرکاء افغانستان میں امریکی قبضے پر بات کرنے میں ناکام ر ہے، افغان جہاد افغان عوام کے حقوق اور امریکہ سے آزادی تک جاری رہے گا، دوسری جانب علماء کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہماری کوششوں سے ماضی کا سیاہ باب بند ہو جائے گا اور نئے دور کا آغاز ہو گا،سعودی عرب انسانی بنیادوں پر اقتصادی سمیت دیگر امو ر میں معاونت فراہم کرتا رہے گا، مکہ اعلامیہ افغانستان میں جاری بحران کے خاتمے کیلئے مثبت روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے افغان طالبان نے بین الاقوامی علماء کے امن مذاکراتی عمل کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے علماء افغانستان میں امر یکی قبضے پر بات کرنے میں ناکام رہے، افغان جہاد افغان عوام کے حقوق اور امریکہ سے آزادی تک جاری رہے گا،تفصیلات کے مطا بق سعودی عرب میں منعقد علما کانفرنس میں شہزادہ خالد الفیصل نے زور دیا ہے افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے تمام فریقین خطے میں امن و امان کی بحالی کیلئے مذاکراتی عمل شروع کریں تاہم طالبان نے مذکورہ اجلاس کے مطالبے کو مسترد کردیا۔افغان میڈیا طلوع نیوز کے مطابق امیر مکہ شہزادہ خالد الفیصل نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا سعودی عرب اور اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم(او آئی سی)کے اشتر اک سے افغانستان میں امن مذاکرات کیلئے نئے دروازے کھلیں گے جو جنگ زدہ ماحول کے خاتمے کا باعث بنیں گے۔سعودی نیوز ایجنسی (ایس پی اے)کے مطابق شہزادہ خالد الفیصل نے واضح کیا ہم بہت پرامید ہیں کہ ہماری کوششوں سے ماضی کا سیاہ باب بند ہو جائے گا اور نئے دور کا آغاز ہو گا، افغانستان میں استحکام اور سکیورٹی کے حالات بہتر ہوں گے لیکن اس کی تکمیل کیلئے فریقین کو برداشت، مفا ہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا جیسا کہ مذہب اسلام اجازت دیتا ہے۔جدہ میں منعقدہ 2 روزہ اجلاس کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ الفیصل نے کہا سعودی عرب ابتدا سے افغانستان کے جنگ زدہ حالات سے واقف ہے اور مختلف ادوار میں انسانی بنیادوں پر اقتصادی سمیت دیگر امور میں معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔انہوں نے زور دیا مختلف افغان علما کے مابین تفریق اور اختلا ف کو ختم کرنے کیلئے مسلسل سیاسی کوششیں جاری رکھی جائیں۔او آئی سی کے جنرل سیکریٹری یوسف العثیمین نے اجلاس کے انعقاد پر سعودی عرب اور شہزادہ الفیصل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا اجلاس کے اختتام پر منظور کیا گیا مکہ اعلامیہ افغانستان میں جاری بحران کے خاتمے کیلئے مثبت روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان فریقین جنگ بندی پر آمادگی کا اظہار کریں اور تشدد، تفرقے اور بغاوت کی مخالفت کرتے ہوئے اسلامی اقدار کے تناظر میں امن مذاکرات کا آغاز کریں،افغان حکومت اور طالبان جنگ بند ی اور براہ راست مذاکرات کر کے تنازع حل کریں ۔

افغان طالبان

مزید : کراچی صفحہ اول