سندھ ہائیکورٹ ،لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنانے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ ،لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنانے کا حکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق پولیس حکام کوگمشدہ افراد کی بازیابی یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔ دو رکنی بینچ کے روبرو ٹھیلا لگانے والے محمد غفور سمیت 26 لاپتہ افراد کی عدم بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ والد محمد غفور نے بتایا میرا بیٹا محمد غفور کو نیو کراچی سے لاپتہ کیا گیا۔ میرے بیٹے کو 5 سال ہوگئے مگر ابھی تک کچھ بھی پتا نہیں چل سکا۔ وکیل نور محمد نے کہا میرے موکل کو جیل سے لاپتہ گیا ہے۔ میرا موکل کسڈی میں تھا 4 حاضریوں پر آیا تھا اس کے بعد لاپتہ ہوگیا۔ لاپتہ فیصل کے وکیل نے کہا میرا موکل 16 فروری 2012 سے لاپتہ ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے 6 سال گزر گئے لاپتہ افراد کا کیا ہوا؟ ایس ایس پی شبیر نے بیان دیتے ہوئے کہا میں اس کیس کا تفتیشی افسر نہیں ہوں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے والا تفتیشی افسر کہاں ہے؟ آپ ہر سماعت پر تفتیشی افسر تبدیل کیوں کرتے ہیں؟ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سب پتا ہے حاضری سے 5 دن پہلے افسر تبدیل کرتے ہیں آپ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو پتا ہے تفتیش میں کونسی فائل لگتی ہے؟ اے جی صاحب اپ بتائیں انکو کونسی فائل لگتی ہے۔آپ کو پتا تو ہے نہ؟ عدالت نے ریمارکس دیئے لگتا ہے اپکو بھی پتا نہیں؟ عدالت نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام کو لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔عدالت نے سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کردی۔

مزید : کراچی صفحہ اول