فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر475

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر475
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر475

 

شوکت حسین رضوی کے بیٹے ہدایت کاری اور فلم سازی تک محدود رہے مگر دونوں شعبوں میں اکبر رضوی اور اصغر رضوی کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ان کی صاحب زادی ظل ہمانے شوکت صاحب کی زندگی کے آخری ایام میں گلوکاری کا آغاز کیا تھا جس سے شوکت صاحب سخت نا خوش تھے یہاں تک کہ انہوں نے آخری وقت بیٹی کی صورت ریکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ میڈم یاسمین سے ان کے دو بیٹے ہیں۔ وہ صرف اپنے حصے کے بچے کھچے شاہ نور اسٹوڈیو کو سنبھالنے میں مصروف ہیں۔ تخلیق کار باپ اور فنکارہ ماں کے ان کے بیٹوں نے ہدایت کاری ‘ فلم سازی یا اداکاری میں مطلق دلچسپی نہیں لی۔

سبطین فضلی اور ان کے بھائی کے بیٹوں نے بزنس کی حد تک فلموں میں حصہ لیا ہدایت کاری ‘ فلم سازی اور اداکاری سے پرہیز کرتے رہے۔

آغا جی اے گل نے اپنے بیٹوں کو امریکا سے فلم کی تعلیم دلائی اور ان کے بڑے بیٹے ریاض گل نے کچھ عرصے ان کے ساتھ اسٹوڈیو کی نگرانی بھی کی۔ انہوں انے ایک فلم بھی بنائی جو ناکام رہی۔ آغا صاحب کے دو چھوٹے بیٹوں نے ان کی زندگی ہی میں تعلیم کو خیر باد کہہ کر اسٹوڈیو کے معاملات سنبھال لیے تھے۔ سجاد گل اور شہزاد گل نے فلم سازی کے شعبے میں بہت نام پیدا کیا لیکن اداکاری یا ہدایت کاری سے دور ہی رہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر474

ملک باری فلم ساز ‘ تقسیم کار اور اسٹوڈیو کے مالک تھے۔ ان کے دو بیٹوں راحیل اور خرم نے برائے نام فلم سازی بھی کی اور اسٹوڈیو کے نگراں بھی رہے مگر دونوں شعبوں میں کوئی نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکے۔

شباب کیرانوی کے دو بیٹے نذر شباب اور ظفر شباب ان کی زندگی میں ہی فلم ساز اور ہدایت کار بن گئے تھے مگر اس میں شباب صاحب کی کوششون اور سرپرستی کا نمایاں حصہ تھا۔ انہوں نے والد کی زندگی میں کامیابیاں بھی حاصل کیں مگر ان کی آنکھ بند ہوتے ہی مسلسل ناکامیاں ان کے حصے میں آئیں۔ ظفر شباب چند سال قبل مرحوم ہو چکے ہیں۔ فلم کے لیے نذر شباب کا وجود اور عدم و جود برابر ہے۔

وحید مراد کے والد نثار مراد صاحب بہت بڑے تقسیم کار تھے ۔ وحید مراد نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد فلم سازی کی طرف توجہ دی اور کامیابیاں حاصل کیں۔ ہیرا پتھر اور ارمان سے انہوں نے آغاز کیا تھا مگر بعد میں فلم سازی میں وہ معیار بر قرار رکھ سکے۔ انہوں نے اداکاری کا پیشہ اپنایا اور ایسی مقبولیت اور کامیابی حاصل کی کہ شاید و باید۔

آخری ایام غم و الم کی داستان ہیں۔ بہرحال ۔ ان کے بعد ان کی بیٹی کی شادی کم عمری ہی میں کر دی گئی۔ ان کے بیٹے عادل مراد کو ان کی والدہ نے اداکار بنانے کی کوشش کی۔ اس خبر سے فلمی حلقوں میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ توقع تھی کہ وحید مراد کا بیٹا بہت بڑا اداکار بنے گا۔ انہوں نے فلم ”راجا صاحب “ میں ہیرو کا کردار اد اکیا تھا۔ یہ فلم ناکام ہوگئی اس کے ساتھ ہی عادل مراد بھی فلمی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان میں اداکارانہ صلاحیتوں کی کمی تھی۔ دلچسپی اور شوق بھی نہ تھا ۔ ان کا فلموں سے رخصت ہوجانا ان کے حق میں بھی بہتر تھا اور فلمی صنعت کو بھی اس سے کوئی نقصان نہ پہنچا۔ ان کے کامیاب نہ ہونے کا ایک سبب تو ان کی صورت شکل تھی۔ اتفاق سے ان کی اپنے مرحوم باپ میں بہت کم شباہت تھی سوائے آنکھوں کے۔ وہ کم عمر بھی تھے اور اس وقت ان کی ہم عمر کوئی ہیروئن بھی صنعت میں موجود نہ تھی۔ البتہ اگر وہ اس شعبے میں واقعی دلچسپی رکھتے ہیں تو کچھ عرصے بعد ہدایت کاری اور تکنیک کی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ دوبارہ فلمی صنعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے والد وحید مراد ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان تھے۔ انہوں نے کئی کامیاب فلمیں بنائی تھیں اور ایک فلم ” اشارہ “ کی ہدایت کاری بھی کی تھی مگر یہ فلم کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وحید مراد کے ستارے اس وقت گردش میں آچکے تھے اور مسلسل کامیابیوں اور عروج کی انتہا کو چھولینے کے بعد وہ روبہ زوال تھے۔

بڑے لوگوں کی اولاد کے اس شعبے میں نمایاں نہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جس طرح بڑے گھنے اور قد آور درخت کے سائے میں دوسرے پودے پروان نہیں چڑھتے اسی طرح باپ کی عظمت کے سائے میں پلنے والے بچے بھی نہیں پنپ سکتے۔ مثلاً سلطان راہی کو پنجابی فلموں میں آخری وقت تک جو عروج حاصل رہا تھا وہ شاید ہی کسی دوسرے ہیرو کے حصے میں آئے گا۔ وہ درمیانی عمر سے نکل چکے تھے۔ چہرے پر بھی عمر کے آثار ہو گئے تھے۔ جسم بھی بھاری ہوگیا تھا مگر خدا جانے اللہ تعالیٰ نے ان پر کن خوبیوں کی وجہ سے اپنا خاص کرم کیا تھا کہ لوگ انہیں دیکھنے کے لیے جوق در جوق سنیما گھروں میں پہنچ جاتے تھے۔ وہ صحیح معنوں میں باکس آفس سپراسٹار تھے کیونکہ فلم بینوں کو اس سے کوئی سروکارنہ ہوتا تھا کہ ان کے مقابلے میں ہیروئن کون ہے ۔ ان کا ہدایت کار کون ہے۔ کہانی کس نے لکھی ہے۔ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے۔ انہیں تو صرف سلطان راہی کو دیکھنے سے مطلب تھا حالانکہ ستم ظریفی یہ بھی تھی کہ وہ عام طور پر ایک ہی قسم کا لباس ہر فلم میں زیب تن کرتے تھے بلکہ اکثر اوقات تو مکالمے بھی ویسے ہی یا بالکل وہی ہوتے تھے جیسے کہ گزشتہ فلم میں ہوتے تھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں کرداروں اور مکالموں کی یکسانیت سے تنگ آچکا ہوں۔ مسلسل شب و روز ایک ہی قسم کے کردار ادا کرنے اور ایک جیسے مکالمے بولنے کی وجہ سے ہی وہ بیک وقت پانچ چھ فلموں کی شوٹنگ کرلیتے تھے۔ وہ گھنٹوں کے حساب سے فلم سازوں کو وقت دیتے تھے۔ وہ فلم کے سیٹ پر داخل ہو کر سب سے خوش اخلاقی سے علیک سلیک کرتے اور پھر لباس تبدیل کرنے چلے جاتے۔ سیٹ پر آکر صرف وہ یہ دریافت کرتے تھے کہ اس سین کی نوعیت کیا ہے اور سچویشن کیا ہے ؟ اس سے بعد وہ مکالمے دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔

کہتے ” آغا جی ! ایک ریہرسل اور پھرٹیک لیجئے ۔“

دوسرے فنکار پہلے ہی سے تار ہوتے تھے ۔ وہ کیمرے کے سامنے آکر ریہرسل کے طور پر مکالمے بولتے اور ایکشن کرتے اور پھر شاٹ فلمایا جاتا تھا۔ کسی غلطی یا خامی کے بغیرایسی تقدیر ، ایسی پذیرائی اور ایسی صلاحیت بھلا کتنے اداکاروں کے نصیب میں ہوتی ہے؟

ان ہی سلطان راہی کے صاحب زادے حیدر سلطان نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اداکاری کا فیصلہ کیا۔ ان کی پہلی فلم ”ہیرا“ تھی جس کے ہدایت کار ظہور حسین گیلانی تھے۔ اس فلم میں حیدر سلطان کی اداکاری اچھی تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس فلم میں ان کے والد سلطان راہی نے بھی کام کیا تھا۔ دونوں باپ بیٹوں کے بھی آمنے سامنے مناظر فلمائے گئے تھے جن میں حیدر نے کافی استقامت کا ثبوت دیا اور اور فلم بینوں نے انہیں پسند بھی کیا تھا۔ انہوں نے چنداور فلموں میں بھی اداکاری کی جن میں دنیا دیکھے گی ‘ شہزادے ‘ خزانہ ‘ احساس اور مہلت وغیرہ شامل ہیں۔ سلطان راہی کی اچانک وفات کے بعد کئی فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے وعدہ کیا تھا کہ حیدر سلطان کو اپنی فلموں میں موقع دیں گے مگر دنیا کے دستور کے مطابق ”چھوڑیے رات گئی ، بات گئی “ والا معاملہ ہوا اور کسی نے بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ وہ دل برداشتہ ہو کر امریکا واپس چلے گئے۔ دوبار وطن کی مٹی کی کشش انہیں کھینچ لائی مگر چند ٹی وی ڈراموں میں سائیڈ رول کرنے کے سوا کوئی اچھا موقع نہ ملا۔ اب وہ قریب قریب بھولی ہوئی داستان بن چکے ہیں۔ لوگوں کو یاد بھی نہیں رہا کہ اپنے وقت کے سب سے مقبول اداکار کا ایک بیٹا بھی تھا جس نے اداکاری کا مظاہرہ بھی کیاتھا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...