”پاگل کو مسجد سے دور رکھو “ ایسا فتویٰ کہ کوئی بھی نمازی کسی بھی ایسے شخص کو مسجد میں ساتھ لیکر نہیں جاسکے گا کیونکہ ۔۔۔۔

”پاگل کو مسجد سے دور رکھو “ ایسا فتویٰ کہ کوئی بھی نمازی کسی بھی ایسے شخص کو ...
”پاگل کو مسجد سے دور رکھو “ ایسا فتویٰ کہ کوئی بھی نمازی کسی بھی ایسے شخص کو مسجد میں ساتھ لیکر نہیں جاسکے گا کیونکہ ۔۔۔۔

  

لاہور(ایس چودھری ) عام طور پر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ نماز کے بعد نمازی حضرات مساجد میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگتے اور بعض قیلولہ کی نیت سے لیٹ جاتے ہیں۔کاروباری حضرات مساجد میں بیٹھ کر دنیا داری کی باتیں کرتے ہیں،بعض حضرات چھوٹے بچوں کو بھی مساجد میں لے آتے ہیں ،بعض اوقات ذہنی طور پر پسماندہ مجنون شخص  کو بھی اپنے ساتھ  مسجد میں لے جاتے ہیں۔حالانکہ مسجد کے احترام کے پیش نظر مساجد میں کئی لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے اور مسجد میں بیٹھ کر کچھ ایسے کام نہیں کرنے چاہیں لیکن بہت سے مسلمان اس بات سے لاعلم ہیں اور مسجد کے احترام کو بھول جاتے ہیں ۔اس حوالہ سے ممتاز عالم دین مفتی عبدالقیوم ہزاروی نے فتوی آن لائن میں ایک قاری کے سوال پر بتایا کہ مساجدکا احترام لازم ہے ۔کیونکہ مسجد کی تعمیر کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جگہ کا تعین ہے۔ مساجد باجماعت نمازِ پنجگانہ، نمازِ جمعہ وعیدین اور اعتکاف کی عبادت کے لیے قائم کی جاتی ہیں، جبکہ ان میں نفل نمازوں کی ادائیگی، قرآن مجید کی تلاوت، تکبیر و تسبیح، دین کی تعلیم و تعلم اور تبلیغ و ارشاد سمیت اعمالِ خیر انجام پاتے ہیں۔ مساجد چونکہ اجتماعی عبادت گاہیں اس لیے اِن میں ایسی گفتگو جو کسی کی عبادت میں خلل پیدا کرے یا کسی کے خشوع وخضوع کو مجروح کرے قطعاً ممنوع ہے۔ حضرت واثلة بن الاسقع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں (پاگلوں)، خرید و فروخت کرنے والوں اور اپنے جھگڑوں (اختلافی مسائل)، زور زور سے بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو۔ مساجد کے دروازاوں پر طہارت خانے بناو اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو چھڑکا کرو“

اس حدیث مبارکہ میں مساجد کے اندر جن امور کی ممانعت کا ذکر ہے، ان سے مسجد کا تقدس خراب ہونے اور مقاصد مسجد فوت ہونے کا خدشہ ہے۔ مثلاً پاگل مسجد کے تقدس کا خیال نہیں رکھے گا، اسی طرح چھوٹے بچے جو چیختے چلاتے ہوں اور اپنے پیشاب پر کنٹرول نہ رکھتے ہوں تو ان کو مسجد میں لانا جائز نہ ہو گا کیونکہ وہ بھی پاگلوں کی طرح مسجد کے تقدس کا خیال نہیں رکھ پائیں گے، لڑائی جھگڑے سے بھی مسجد کی بے حرمتی ہو گی اور مسجد میں خرید وفروخت کرنے اور زور زور سے بولنے سے مقاصد مسجد فوت ہو جائیں گے۔ اس لیے اعتکاف و غیر اعتکاف میں مساجد کے اندر صرف ضروری بات چیت کرنا ہی جائز ہے۔ معتکف، مسافر یا کسی دینی امر میں مشغول شخص کے سوا کسی کے لیے مسجد میں سونا جائز نہیں ہے۔

مزید : روشن کرنیں