’’میں گھر واپس آ رہی تھی تو ان لڑکوں نے عجیب و غریب حرکات شروع کر دیں، میں والدہ کو لے کر دوبارہ مال گئی تو وہاں بھی یہ موجود تھے، تصویر لینے کی کوشش کی تو جسم کا یہ حصہ دکھایا اور کہا کہ ۔۔۔‘‘ معروف پاکستانی ماڈل آمنہ بابر کے ساتھ شرمناک واقعہ پیش آ گیا

’’میں گھر واپس آ رہی تھی تو ان لڑکوں نے عجیب و غریب حرکات شروع کر دیں، میں ...
’’میں گھر واپس آ رہی تھی تو ان لڑکوں نے عجیب و غریب حرکات شروع کر دیں، میں والدہ کو لے کر دوبارہ مال گئی تو وہاں بھی یہ موجود تھے، تصویر لینے کی کوشش کی تو جسم کا یہ حصہ دکھایا اور کہا کہ ۔۔۔‘‘ معروف پاکستانی ماڈل آمنہ بابر کے ساتھ شرمناک واقعہ پیش آ گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات دنیا بھر میں پیش آتے ہیں۔ پاکستان میں اس حوالے سے اگرچہ صورتحال بھارت جیسے ممالک سے بدرجہا بہتر ہے لیکن اسے قطعی تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتاکہ یہاں بھی ذہنی بیماروں کی کمی نہیں ہے جو خواتین کا جینا حرام کیے رکھتے ہیں۔ اب پاکستان کی سپرماڈل آمنہ بابر بھی کچھ ایسے ذہنی بیماروں کی شرانگیزی کا نشانہ بن گئی ہیں۔ انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کے مطابق آمنہ بابر نے اپنے ساتھ پیش آنے والا یہ شرمناک واقعہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بیان کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ میں کچھ ضروری کام نمٹا کر گاڑی میں واپس آ رہی تھی کہ ایک جگہ کچھ لڑکے کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر انتہائی بے ہودہ اشارے کرنے شروع کر دیئے اور مجھے گالیاں دینے لگے۔ وہ مجھے بدمعاش اور نجانے کیا کچھ ناموں سے پکار رہے تھے۔میں اکیلی تھی چنانچہ خوفزدہ ہو گئی۔ وہاں موجود کسی بھی شخص نے میری مدد نہ کی، حالانکہ وہاں کافی لوگ موجود تھے۔‘‘

آمنہ بابر مزید لکھتی ہیں کہ ’’گھر واپس آ کر مجھے اپنی ماں کو شاپنگ مال لیجانا تھا۔ جب میں انہیں لے کر گئی تو وہ لڑکے وہیں کھڑے تھے۔ انہوں نے ایک بار پھر میرے ساتھ وہی سلوک کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ان کی کچھ تصاویر بنا لیں۔ جب میں تصویر بنانے لگی تو ان میں سے ایک نے مجھے اپنے ہاتھ کی درمیانی انگلی دکھا دی اور ایک بار پھر بدمعاش کہہ کر پکارا۔ اس پر میری ماں بہت پریشان ہوئی اور اپنا جوتا اتار کر ان لڑکوں کی طرف بڑھی۔ یہ دیکھ کر آس پاس موجود لوگوں نے لڑکوں کو بھاگ جانے کو کہہ دیا اور وہ وہاں سے چلے گئے۔ مردوں کو آخر ضرورت ہی کیا ہے، خواتین اور لڑکیوں کو دھمکانے کی، اور یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ کیوں جب کوئی لڑکی کو تنگ کر رہا ہوتا ہے تو آس پاس موجود لوگ کھڑے تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ آخر خواتین کے ساتھ یہ سلوک ہمارے ملک میں قابل قبول کیوں ہو چکا ہے؟‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس