ریحام خان ۔ خان کو ناکام کرنے کی ناکام کوشش

ریحام خان ۔ خان کو ناکام کرنے کی ناکام کوشش
ریحام خان ۔ خان کو ناکام کرنے کی ناکام کوشش

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بالآخر ریحام خان کی متنازع کتاب منظر عام پر آ ہی گئی جسے فی الوقت ایمیزون ٹیبلیٹ پر ریلیز کیا گیا ہے مستقبل میں ہو سکتا ہے کتابی شکل دی جائے اور اسکا اردو ترجمہ بھی سامنے آجائے ۔اس کی قیمت یوں تو آن لائن دس ڈالر رکھی گئی ہے مگر مختلف ایپلیکیشنز کی مدد سے اسکو با آسانی بغیر خرچے کے پڑھا جا سکتا ہے ۔پاکستان میں یوں بھی کاپی رائٹ ایکٹ کا قانون اتنا مضبوط نہیں ہے کہ پائریسی پر پابندی لگائی جا سکے ہاں برطانیہ میں اس حوالے سے قانون موجود ہے اور کاروائی بھی ہوتی رہتی ہے اب تک کتاب کے مندرجات جو سامنے آئے ہیں وہ الزامات کی صورت میں کافی سنجیدہ قسم کے ہیں ۔

عمران خان کے ترجمان نعیم الحق نےکہا ہے کہ وہ اس متنازع کتاب کے حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دینگے اور نہ ہی خان صاحب کوئی جوابات دینگے۔ظاہر ہے جب بھرپور انتخابی مہم چل رہی ہو اس قسم کے متنازعہ معاملات میں الجھنا اور جواب در جواب دینا سیاسی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔

عمران خان کے ساتھ رفاقت گزارنے والی انکی رازدار سابق اہلیہ ریحام خان شادی کے فوراً بعد ہی متنازعہ ہوگئی تھیں جب انہوں نے پارٹی کمانڈ سنبھالنے کی کوششیں شروع کر دی تھی ۔کئی مواقع پر وہ عمران خان کو ڈکٹیٹ بھی کرتی رہی ہیں معروف صحافی رؤف کلاسرا اس حوالے سے تفصیلات بیان کر چکے ہیں ۔خان صاحب کے جو بھی معاملات رہے ہوں وہ لیڈر ہیں اور اسکینڈلز کو فیس کرنا جانتے ہیں ۔مگر جن خواتین کا معیوبانہ  ذکر کیا گیا ہے انکا رد عمل کیا ہوگا یہ بھی دیکھنے والی بات ہوگی۔

کتاب سامنے آنی تھی آگئی مگر اسے وہ پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی جسکی توقع تھی کیونکہ جس ٹائمنگ کا انتخاب کیا گیا تھا وہ میڈیا ریٹنگ کی لیئے مناسب نہیں رہا۔ میڈیا پہلے عام انتخابات کی کوریج میں مصروف تھا۔ اب اسکی پوری توجہ میاں نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی ۔ گرفتاری اور اس سے متعلقہ معاملات پر رہے گی ۔ریحام خان کی کتاب پر ہلکا پھلکا تبصرہ تو چلتا رہتا رہے گا مگر وہ میڈیا کا ہاٹ کیک بن جائے ان دنوں میں یہ ممکن نہیں ہے۔پاکستان عوام لیڈر کی انفرادی غلطیوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں تا ہم وطن عزیز کے ساتھ کوئی حق تلفی ہوگئی تو قوم پاناما کے چوروں کی طرح اسے کیفرِکردار تک پہنچا کے دم لے گی۔ریحام خان نے اس کتاب کے ذریعے جو زلزلہ برپا کرنا تھا کرر دیا، وقتی ہلچل کے علاوہ اس زلزلے کے کوئی آفٹر شاکس بھی نہیں آرہے۔اگر غلط وقت پر صیح فیصلہ بھی کیا جائے تو اسکے مثبت نتائج آنے کی توقع بہت کم ہوتی ہے۔زیادہ امکانات یہی ہیں کہ اس کے نتائج ۔ نشستند ۔ گفتند ۔ برخاستند سے زیادہ نہیں ہونگے۔اس وقت قوم تبدیلی کے موڈ میں نظر آرہی ہے اس کتاب کی صورت میں ریحام خان پر جو سرمایہ کاری کی گئی یا اس کھیل کے پیچھے جو بھی پس پردہ کردار تھے انکی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا ہے ۔ باقی رہی سہی جو کسر ہے وہ پچیس جولائی کو عوام پوری کر دینگے ۔ریحام خان جیسے کرداروں کو عزت مل جائے تو وہ ان سے ہضم نہیں ہوتی جسکے باعث وہ اخلاقی دیوالیہ پن کی آخری حدوں کو چھو لیتے ہیں ۔کہا جاسکتا ہے کہیہ کتاب عمران خان کے عزم کو ناکام کرنے کی بس ایک ناکام کوشش ہے ۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ